دنیا کی سب سے بڑی اشتہاری کمپنیوں میں سے ایک ڈبلیو پی پی نے انتیس اکتوبر کو اپنی تیسری سہ ماہی کے نتائج جاری کیے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کی بحالی کی رفتار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ چیف ایگزیکٹو سنڈی روز کی قیادت میں کمپنی کی آمدنی میں کمی کی رفتار کم ہوئی ہے، اور دو بڑے گاہکوں کے ساتھ شراکت داری کی تجدید نے انتظامیہ کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔

اعداد کیا کہتے ہیں
تیسری سہ ماہی میں پاس تھرو اخراجات کے بغیر آمدنی دو ارب چار سو گیارہ ملین پاؤنڈ رہی، جو سال بہ سال دو اعشاریہ ایک فیصد کم ہے۔ یہ کمی دوسری سہ ماہی کی دو اعشاریہ آٹھ فیصد کمی سے بہتر ہے، یعنی گراوٹ کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ مجموعی آمدنی صفر اعشاریہ پانچ فیصد بڑھ کر تین ارب دو سو ستر ملین پاؤنڈ ہو گئی۔
شعبہ جاتی سطح پر تصویر ملی جلی رہی: تخلیقی شعبے کی آمدنی پانچ اعشاریہ ایک فیصد کم ہوئی، جبکہ میڈیا شعبے میں صفر اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا، اور پیداواری شعبے میں دو اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال کے آغاز سے اب تک پاس تھرو اخراجات کے بغیر آمدنی میں تین اعشاریہ نو فیصد کمی آئی ہے۔
سنڈی روز کا بحالی منصوبہ
سنڈی روز نے گزشتہ سال کمپنی کی سربراہی سنبھالی تھی، اور ان کا منصوبہ ایلیویٹ 28 کہلاتا ہے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ کاروبار کو مستحکم کرنا اور کمپنی کو سادہ اور زیادہ متحد بنانا ہے، جبکہ 2027 میں دوبارہ ترقی کی طرف لوٹنا ہدف ہے۔ روز کا کہنا ہے کہ کمپنی اس منصوبے کے پہلے مرحلے کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
ان کے مطابق کوکا کولا کے ساتھ عالمی میڈیا شراکت کی تجدید اور ڈور ڈیش کا عالمی اکاؤنٹ جیتنا اس بات کا ثبوت ہے کہ گاہکوں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ کمپنی نے اپنے پورے سال کے تخمینے کو بھی برقرار رکھا ہے، جس کے مطابق دوسری ششماہی میں آمدنی میں معمولی کمی اور آپریٹنگ منافع بارہ سے تیرہ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
اہم نکات
- ڈبلیو پی پی کی تیسری سہ ماہی میں پاس تھرو اخراجات کے بغیر آمدنی دو اعشاریہ ایک فیصد کم ہو کر دو ارب چار سو گیارہ ملین پاؤنڈ رہی۔
- یہ کمی دوسری سہ ماہی کی دو اعشاریہ آٹھ فیصد کمی سے بہتر ہے۔
- میڈیا شعبے میں صفر اعشاریہ تین فیصد اور پیداواری شعبے میں دو اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تخلیقی شعبہ پانچ اعشاریہ ایک فیصد کم ہوا۔
- چیف ایگزیکٹو سنڈی روز کا بحالی منصوبہ ایلیویٹ 28 کہلاتا ہے، جس کا ہدف 2027 میں ترقی کی طرف لوٹنا ہے۔
- کمپنی کے حصص رواں سال اب تک چودہ فیصد بڑھ چکے ہیں۔
نتیجہ
ڈبلیو پی پی ابھی ترقی کی طرف نہیں لوٹی، لیکن گراوٹ کی رفتار کم ہونا اور بڑے گاہکوں کا اعتماد بحال ہونا اس بات کی علامت ہے کہ بحالی کا پہلا مرحلہ کام کر رہا ہے۔ اگلی سہ ماہی یہ بتائے گی کہ یہ استحکام ترقی میں بدلتا ہے یا نہیں۔






























