روس نے بدھ کے روز یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کئی مہینوں میں سب سے بڑا مشترکہ حملہ کیا — اسی خبر کو وطن نیوز کے اردو صفحے پر بھی پڑھیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ ریاستی گرڈ آپریٹر یوکرینرگو نے دارالحکومت کیف اور تین گردونواح کے علاقوں میں ہنگامی بجلی کی بندش نافذ کر دی — جو بہار کے موسم کے بعد پہلی بار ہے۔ روس کا یوکرین پر یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکام خبردار کر رہے ہیں کہ ماسکو موسم سرما کو ہتھیار بنانے کی مہم چلا رہا ہے۔
اہم نکات: روس کا یوکرین کے توانائی گرڈ پر حملہ
- تاریخ: بدھ، 30 ستمبر 2026 — توانائی کے مراکز پر مہینوں کا سب سے بڑا مشترکہ حملہ۔
- ہلاکتیں: کم از کم 7 افراد ہلاک، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے (صدر ولودیمیر زیلینسکی کے مطابق)۔
- بجلی کی بندش: یوکرینرگو نے کیف اور تین گردونواح کے علاقوں میں ہنگامی بجلی کی بندش نافذ کی — بہار کے بعد پہلی بار۔
- حملے کی شدت: تقریباً 285 روسی ڈرونز استعمال ہوئے؛ یوکرینی فضائی دفاع نے 254 ڈرونز مار گرائے (رائٹرز)۔
- نقصان: کیف کے گرد ایک اہم بجلی گھر سمیت متعدد توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا؛ پانچ علاقوں میں اہم بنیادی ڈھانچہ نشانہ بنا۔
- وزیر اعظم کا بیان: سرگی کوریتسکی نے کہا کہ “روس نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں”، اور گرمیوں کے بعد سے “ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب حملہ نہ ہوا ہو۔”
بجلی کے نظام پر شدید حملہ
رائٹرز کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب حکام کو اس کی توقع تھی — یہ موسم سرما سے پہلے توانائی کے گرڈ کے خلاف ایک وسیع فضائی مہم ہے۔ حملوں میں میزائل اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، اور کیف کے گردونواح میں بجلی گھروں اور سب اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق شام تک تعینات کیے گئے 285 روسی ڈرونز میں سے 254 کو مار گرایا گیا۔ صدر زیلینسکی نے بتایا کہ حملے میں تقریباً 190 ڈرونز اور بیلسٹک میزائل شامل تھے، جن میں سے 5 میزائل اور 155 ڈرونز تباہ کیے گئے۔ کیف کے رہائشی بدھ کی صبح دھوئیں سے ڈھکے شہر میں جاگے — حکام کے مطابق حملوں نے دارالحکومت کے گرد ایک اہم بجلی گھر اور دیگر توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

کیف میں زندگی متاثر
بجلی کی بندش کے باعث کیف کی کئی ٹرام اور ٹرالی بسیں رک گئیں، جبکہ شہر کے واٹر یوٹیلٹی کے مطابق پانی کے نظام میں دباؤ کم ہو گیا۔ شہریوں سے غیر ضروری بجلی کے استعمال سے گریز کی اپیل کی گئی ہے، اور ہنگامی خدمات کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور مرمت کا کام جلد شروع کیا جائے گا، تاہم توانائی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
روس کا یوکرین پر حملہ اور موسم سرما کے خدشات
حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے آنے والے موسم سرما کو یوکرین کے لیے مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ روس کا مقصد بجلی اور حرارتی نظام کو نشانہ بنا کر شہروں کو سردی اور اندھیرے میں ڈبونا ہے — ایک ایسی حکمت عملی جسے یوکرینی حکام “موسم سرما کو ہتھیار بنانا” قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ موسم سرما میں ریکارڈ سردی کے دوران روسی حملوں نے بجلی اور حرارتی نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔
حرارتی نظام پر دباؤ
بجلی کی بندش کا مطلب یہ بھی ہے کہ حرارتی نظام متاثر ہو سکتا ہے، جو سردیوں میں خاص طور پر تشویشناک ہے۔ وزیر اعظم کوریتسکی کے مطابق گرمیوں کے بعد سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تقریباً روزانہ حملے ہو رہے ہیں، لیکن اس پیمانے کا مشترکہ حملہ گزشتہ حرارتی سیزن کے اختتام کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا ہے کہ روسی حملوں میں اضافے کے باعث “یوکرین بھر میں تقریباً مسلسل فضائی حملے کی وارننگ جاری ہیں۔” ان کے بقول “روس اپنی دہشت گردی بڑھا رہا ہے: دن میں جیٹ سے چلنے والے ڈرونز، رات میں بیلسٹک اور کروز میزائل — ہمارے شہروں اور شہری زندگی پر مسلسل حملے۔”
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو لڑائی روکنے کی امریکی کوششوں میں دلچسپی نہیں لے رہا — ساڑھے چار سال قبل روس کے پڑوسی ملک پر حملے کے بعد سے جنگ جاری ہے، اور ماسکو زمین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو کیف کے لیے ناقابل قبول ہے۔
نتیجہ
روس کا یوکرین کے توانائی کے گرڈ پر یہ بڑا حملہ ایک تشویشناک پیش رفت ہے — اس سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ آنے والے موسم سرما سے پہلے یوکرین کے توانائی کے نظام کی کمزوری بھی سامنے آ گئی ہے۔ کیف اور گردونواح میں ہنگامی بجلی کی بندش اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو کی مہم کا نشانہ شہریوں کی روزمرہ زندگی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ یوکرین مرمت کے کام کو کتنی تیزی سے مکمل کرتا ہے — اور کیا یہ حملے روس کی متوقع سرمائی مہم کا آغاز ہیں۔




















