کراچی: سندھ کابینہ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ کمیشن کو اب تحقیقات مکمل کرنے اور اپنی حتمی سفارشات مرتب کرنے کے لیے اضافی وقت ملے گا۔
اہم حقائق
- میر رضا علی کراچی کے نوجوان تاجر، آئی بی اے (IBA) کے گریجویٹ اور آن لائن کاروبار ‘ویفلکس’ (Wafflix) کے مالک تھے۔
- وہ 28 جولائی 2026 کو لاپتہ ہوئے؛ اگلے روز کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ان کی لاش ملی، جس پر گولی کا زخم تھا۔
- عدالتی کمیشن کی سربراہی جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں؛ کمیشن کو پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کی غفلت کی جانچ کا اختیار حاصل ہے۔
- کمیشن کی اصل مدت 27 ستمبر کو ختم ہو رہی تھی؛ سندھ کابینہ نے اس میں 15 اکتوبر 2026 تک توسیع کی منظوری دی۔
- ایڈیشنل ہوم سیکرٹری جاوید احمد ابڑو نے 28 ستمبر کو کمیشن کو بتایا تھا کہ توسیع کی سمری صوبائی کابینہ کو بھیج دی گئی ہے۔
- کمیشن نے مفید معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کرا دیا ہے اور اردو، انگریزی و سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
میر رضا قتل کیس: عدالتی کمیشن کی تشکیل اور اختیارات
متوفی کے اہل خانہ کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے اس ہائی پروفائل کیس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سندھ حکومت نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے کمیشن کی تشکیل کی درخواست کی تھی تاکہ تحقیقات مکمل طور پر شفاف اور قانون کے مطابق ہوں۔ کمیشن سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت کام کرتا ہے اور اسے سول عدالت کی طرح گواہوں کو طلب کرنے اور ضروری دستاویزات حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
کمیشن کا دائرہ اختیار صرف حقائق کی تلاش تک محدود نہیں۔ اسے پولیس، میڈیکو لیگل افسران یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کی غفلت، پیشہ ورانہ بدانتظامی، شواہد کو چھپانے یا توڑ مروڑ کر پیش کرنے، یا معاملے کو دبانے میں ملوث ہونے کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ کمیشن اپنی حتمی رپورٹ میں مزید تحقیقات، فرانزک تجزیے، یا محکمانہ و قانونی کارروائی کی سفارشات بھی پیش کر سکتا ہے۔

تحقیقات میں پیش رفت اور گواہوں کے بیانات
کابینہ کو بتایا گیا کہ عدالتی کمیشن نے اب تک اپنی تحقیقات میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمیشن نے متعدد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے ہیں، جن میں مرحوم کے دوست، کاروباری شراکت دار اور واٹس ایپ پیغامات سے متعلق شواہد شامل ہیں۔ کچھ گواہوں نے بتایا کہ لاپتہ ہونے سے قبل میر رضا نے انہیں مالی لین دین سے متعلق پیغامات بھیجے تھے، جن کے انداز سے ان کے شدید خوفزدہ ہونے کا تاثر ملتا تھا۔
دی نیوز کے مطابق کمیشن نے پولیس اور محکمہ صحت کے ‘افسوسناک حال’ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایس آئی یو کے ایس ایس پی نے تسلیم کیا کہ اہم شواہد کی مناسب تفتیش نہیں کی گئی، جبکہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں بھی خامیاں سامنے آئیں۔ کمیشن نے سیکرٹری صحت، ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو اور دیگر کو نوٹسز جاری کیے ہیں اور متعلقہ ریکارڈ طلب کیا ہے۔
کابینہ کا فیصلہ اور مدت میں توسیع کی ضرورت
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں کام کرنے والے عدالتی کمیشن کی موجودہ مدت 27 ستمبر کو ختم ہو رہی تھی۔ کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے اور حتمی رپورٹ تیار کرنے کے لیے مزید وقت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست کی تھی۔ سندھ کے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری جاوید احمد ابڑو نے 28 ستمبر کو کمیشن کو آگاہ کیا تھا کہ صوبائی کابینہ کو مدت میں توسیع کی سمری بھیج دی گئی ہے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس نے توسیع کی باضابطہ منظوری دے دی۔
اس خبر کو وتن نیوز کی مرکزی ویب سائٹ پر بھی پڑھیں۔ پاکستان سے متعلق مزید خبریں یہاں ملاحظہ کریں۔

والدین کا موقف: قتل کا الزام، خودکشی کا تاثر مسترد
میر رضا علی کے والد نے ابتدائی دنوں ہی سے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے خودکشی کے تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اہل خانہ کا موقف ہے کہ میر رضا کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے ابتدائی مرحلے میں خودکشی کے امکان پر بھی غور کیا تھا، تاہم اہل خانہ کے مطالبے اور کیس کی حساسیت کے پیش نظر بالآخر عدالتی کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تمام نظریں کمیشن کی حتمی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جو اس پراسرار کیس کی حقیقت سامنے لانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
نتیجہ
میر رضا قتل کیس میں عدالتی کمیشن کی مدت میں توسیع ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ اضافی وقت کمیشن کو تحقیقات کو مزید گہرائی اور وسعت دینے کا موقع فراہم کرے گا — خاص طور پر ان پہلوؤں پر جہاں پولیس اور طبی حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔
عوام کی نظریں اب عدالتی کمیشن کی حتمی رپورٹ اور اس پر اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات پر مرکوز ہوں گی۔ امید ہے کہ 15 اکتوبر تک کمیشن معاملے کی تمام تہوں کو بے نقاب کرنے اور سفارشات کے ذریعے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا راستہ ہموار کرے گا۔



















