اسلام آباد، 8 اکتوبر: پاکستان اور بحرین نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور خوراک کی حفاظت، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور سمندری امور سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا بھی عزم کیا ہے۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس
پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات اور تعاون کا جائزہ لینے کے لیے تیسرا مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی نے کی۔
- اجلاس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور خوراک کی حفاظت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
- اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور سمندری امور بھی تعاون کے اہم شعبے قرار پائے۔
- خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کا عزم کیا گیا۔
- تین سال میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کے ہدف کے حصول پر زور دیا گیا۔
دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی
اجلاس کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں دونوں رہنماؤں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے توانائی، کھیل، سیاحت اور کاروباری تعلقات سمیت وسیع البنیاد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
تجارتی حجم میں اضافے کا ہدف
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کے پروٹوکول پر دستخط کیے اور ایک سال کے اندر چوتھے وزارتی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کا عہد کیا۔
- اجلاس کا ایک اہم نتیجہ مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام اور فیصلوں کے مؤثر نفاذ کے ذریعے ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانا تھا۔
- دونوں ممالک نے کاروباری برادری کے درمیان قریبی تعلقات کو سراہا اور بحرین میں پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا۔
- محنت کی نقل مکانی، پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
- ہنر مند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا اعادہ کیا گیا۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے خلیج میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
ہرمز اور باب المندب کے آبنائے میں سلامتی
اس کے علاوہ، انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی حفاظت اور آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی۔
- پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
- فلسطینی عوام اور ان کے جائز حقوق کے لیے اصولی حمایت کی بھی توثیق کی گئی۔
- غزہ کے عوام کے لیے بلا تعطل انسانی امداد کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔
- اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
دریائے سندھ کے پانی کا مسئلہ
نائب وزیراعظم نے دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے پر بھی بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کو معطل کرنے کا بھارت کا یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
- انہوں نے اسے مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار بنانے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی پانی، خوراک اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی خطرناک کوشش قرار دیا۔
افغانستان کی صورتحال
اسحاق ڈار نے افغانستان کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور اس امر پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
نتیجہ
پاکستان اور بحرین کے درمیان ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم سے خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ، علاقائی امن و استحکام اور انسانی مسائل پر مشترکہ مؤقف نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مزید اجاگر کیا ہے۔
یہ اجلاس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ممالک نے تحمل اور سفارت کاری پر زور دے کر عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ غزہ کی صورتحال پر مشترکہ مؤقف اور انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر





























