پاکستان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ماہرین نے ملک میں جامع صحت و نگہداشت کا نظام قائم کرنے، عمر دوست شہروں کی منصوبہ بندی، کمیونٹی کیئر کو فروغ دینے اور عمر رسیدہ افراد کو قومی ترقی کا فعال حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔
عمر رسیدہ آبادی کے چیلنجز
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان آج نوجوان آبادی کے بڑے حصے کی وجہ سے آبادیاتی فائدے سے گزر رہا ہے لیکن اگلی تین دہائیوں میں یہی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو جائے گی۔ اس لئے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ابھی سے پالیسی سازی ضروری ہے۔
ترکیہ پاکستان ’سسٹر سٹیز‘ پائلٹ منصوبہ
پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) اور ترکیہ کے ابن سینا انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی مذاکرے ’’عمر رسیدگی اور ترقی‘‘ میں عمر رسیدگی کے طبی، سماجی، معاشی، پالیسی اور ترقیاتی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
- جامع صحت و نگہداشت کا نظام قائم کرنا
- عمر دوست شہروں کی منصوبہ بندی
- کمیونٹی کیئر کو فروغ دینا
- عمر رسیدہ افراد کو قومی ترقی کا فعال حصہ بنانا
پاکستان کی عمر رسیدہ آبادی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیشہ سے پالیسی سازی ضروری ہے۔ ہمیں عمر رسیدہ افراد کی صحت، سماجی، معاشی اور ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مزید برآں، وطن نیوز کے مطابق، ماہرین نے یورپ کے لیے پاکستانی کیئر گیورز تیار کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔














