فجی کے شہر نادی میں تاریخ کے پہلے پیسیفک پری کاپ31 وزارتی اجلاس کے آغاز میں صرف چند دن باقی ہیں، اور پیسیفک جزیرہ ممالک کو عالمی موسمیاتی سفارت کاری کے مرکز میں لانے والا یہ اجتماع ایک غیر متوقع وجہ سے توجہ حاصل کر رہا ہے: مہمانوں کی نمایاں طور پر مختصر فہرست۔ وزارتی اجلاس 5 سے 8 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جبکہ 6 اکتوبر کو تووالو میں رہنماؤں کا اجلاس ہوگا — لیکن ایک نئے تجزیے کے مطابق صرف پانچ غیر پیسیفک رہنماؤں نے شرکت کی تصدیق کی ہے، جن کا تعلق اینٹیگوا و باربوڈا، کیبو ورڈے، تھائی لینڈ، مالدیپ اور مشرقی تیمور سے ہے۔
FAKTA
- پری کاپ31 وزارتی اجلاس: 5 تا 8 اکتوبر 2026، نادی، فجی؛ 6 اکتوبر کو تووالو میں رہنماؤں کا اجتماع — پیسیفک میں منعقد ہونے والا پہلا پری کاپ۔
- فجی میں وزارتی اجلاس کے لیے تقریباً 4,000 مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔
- اس اجتماع کا اعلان فروری 2026 میں پیسیفک آئی لینڈز فورم کے چیئرمین جیرمایا مانیلے (وزیراعظم جزائر سلیمان) نے کیا تھا۔
- پیسیفک کی ترجیحات: درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا، سمندر کا تحفظ، اور پیسیفک ریزیلینس فیسلٹی کے ذریعے مالی معاونت (500 ملین امریکی ڈالر کا ہدف، تقریباً 200 ملین ڈالر کے وعدے)۔
- تصدیق شدہ غیر پیسیفک رہنما: صرف اینٹیگوا و باربوڈا، کیبو ورڈے، تھائی لینڈ، مالدیپ اور مشرقی تیمور۔
- کاپ31 کا انعقاد 9 تا 20 نومبر 2026 کو انتالیا، ترکیہ میں ہوگا۔
پیسیفک کے لیے ایک تاریخی پہل
پری کاپ31 کی میزبانی خطے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ فروری 2026 میں فورم کے چیئرمین جیرمایا مانیلے کے اعلان کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پری کاپ وزارتی اجلاس پیسیفک میں منعقد ہو رہا ہے — یہ موسمیاتی مذاکرات میں چھوٹے جزیرہ ممالک کے اخلاقی مقام کا اعتراف ہے۔ فجی کی موسمیاتی وزیر لنڈا تبویا نے کہا: “This is our moment” (یہ ہمارا لمحہ ہے)۔
نادی میں تقریباً 4,000 مندوبین کی متوقع شرکت کے ساتھ یہ پیسیفک کی میزبانی میں ہونے والے بڑے سفارتی اجتماعات میں سے ایک ہوگا۔ سطح سمندر میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے یہ علامتی اہمیت رکھتا ہے: پیسیفک اب میز پر نشست نہیں مانگ رہا، بلکہ میز خود بچھا رہا ہے۔

مختصر فہرست کیوں اہم ہے
تجزیے میں حوالہ دیے گئے مغربی سفارت کاروں کے مطابق اس کی سادہ وجہ سفر کی مشقت ہے: انتالیا میں 9 نومبر کو کاپ31 کے آغاز سے چند ہفتے قبل پیسیفک کا سفر ان رہنماؤں کے لیے مشکل ہے جو پہلے ہی مرکزی سربراہی اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی اپوزیشن نے اسے “a diplomatic disaster” (ایک سفارتی تباہی) قرار دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پری کاپ حقیقی سیاسی رفتار پیدا کر سکے گا یا اہم فیصلے انتالیا تک مؤخر رہیں گے۔ اجلاسوں کی پیش رفت پر وطن نیوز پر مزید موسمیاتی خبریں ملاحظہ کریں۔
کاپ31 سے پیسیفک کیا چاہتا ہے
خطے کے مطالبات واضح ہیں: عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا جائے، سمندر کا تحفظ کیا جائے، اور مالی معاونت فراہم کی جائے — بشمول پیسیفک ریزیلینس فیسلٹی، جس کا ہدف 500 ملین امریکی ڈالر ہے اور اب تک تقریباً 200 ملین ڈالر کے وعدے ہو چکے ہیں۔
تقریباً 10,000 افراد پر مشتمل نشیبی مرجانی جزائر کا ملک تووالو اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے: یہ ملک بڑھتے ہوئے سمندر کے مقابلے میں زمین کی بحالی کر رہا ہے اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے کے لیے شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تووالو کے موسمیاتی وزیر مینا تالیا نے کہا: “Our fate will be defined by the major polluters” (ہماری قسمت بڑے آلودگی پھیلانے والوں کے ہاتھ میں ہے)۔
انتالیا کا راستہ
کاپ31 کا انعقاد 9 تا 20 نومبر 2026 کو انتالیا، ترکیہ میں ہوگا، جس کی صدارت ترکیہ کے مراد کورم کریں گے، جبکہ آسٹریلیا کے کرس بوون مذاکرات کے صدر ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ پیسیفک پری کاپ ٹھوس نتائج دیتا ہے یا صرف علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے، جیسا کہ یو این ایف سی سی سی کے سرکاری کاپ31 صفحے پر بیان کیا گیا ہے: جزیرہ ممالک کے لیے 1.5 ڈگری کی حد بقا کا معاملہ ہے۔



















