LIVE
اہم خبر
برآمدات بڑھیں مگر خسارہ نہ گھٹا: ستمبر 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کی کہانیفضائی حملوں کی سیاست: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کہاں جا رہے ہیں؟ (کالم)ڈیجیٹل دور میں پرنٹ میگزین کی واپسی: ریوالو میگزین کا آغازغیر ملکی صحافیوں کا چین کے لانگوان جھیل آرٹ ٹاؤن کا دورہہسپانوی پارلیمنٹ نے ہاؤسنگ بل مسترد کر دیا، مظاہرے جاریتیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف G7 کا بڑا اقدام، 10 کروڑ بیرل ذخائر سے جاریپنجاب کے وزیراعلیٰ کا پالیسی تسلسل پر زور، ترقی کیلئے اہم قرارکینیا نے 2035 کے موسمیاتی اہداف کے ساتھ قومی ماحولیاتی پالیسی کا مسودہ پیش کر دیاتحقیق کی پیشن گوئی: سپر ایل نینو سے فروری تک 451,000 اضافی اموات کا خدشہکوپرنیکس اوشن اسٹیٹ رپورٹ 2026: سمندروں میں ریکارڈ گرمی، آرکٹک برف کا نقصان اور سمندری ہیٹ ویوزای پی اے کی فوسل فیول پاور پلانٹس کے گرین ہاؤس گیس معیارات کی مجوزہ منسوخی پر عوامی سماعتیورپی پارلیمنٹ کی ماحولیاتی کمیٹی نے کاپ31 ترجیحات طے کر دیںپیسیفک جزائر کو پری کاپ31 کا تاریخی موقع، مگر مہمانوں کی فہرست مختصریورپ میں شدید بارشیں، مشرقی اسپین میں سیلاب کا خطرہاوپن اے آئی کا آسٹریلوی محکمہ پر ہیکنگ کا انکشافبرطانیہ میں ڈیزل کی قلت نہیں، ٹرمپ کے پابندی کے خدشات بے بنیادفرانس میں 400 اسکول بند، شہری تشدد میں اضافہہندوستانی پائلٹ کی بہادری: حملے کے دوران کاک پٹ کا دروازہ کھولابرآمدات بڑھیں مگر خسارہ نہ گھٹا: ستمبر 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کی کہانیفضائی حملوں کی سیاست: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کہاں جا رہے ہیں؟ (کالم)ڈیجیٹل دور میں پرنٹ میگزین کی واپسی: ریوالو میگزین کا آغازغیر ملکی صحافیوں کا چین کے لانگوان جھیل آرٹ ٹاؤن کا دورہہسپانوی پارلیمنٹ نے ہاؤسنگ بل مسترد کر دیا، مظاہرے جاریتیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف G7 کا بڑا اقدام، 10 کروڑ بیرل ذخائر سے جاریپنجاب کے وزیراعلیٰ کا پالیسی تسلسل پر زور، ترقی کیلئے اہم قرارکینیا نے 2035 کے موسمیاتی اہداف کے ساتھ قومی ماحولیاتی پالیسی کا مسودہ پیش کر دیاتحقیق کی پیشن گوئی: سپر ایل نینو سے فروری تک 451,000 اضافی اموات کا خدشہکوپرنیکس اوشن اسٹیٹ رپورٹ 2026: سمندروں میں ریکارڈ گرمی، آرکٹک برف کا نقصان اور سمندری ہیٹ ویوزای پی اے کی فوسل فیول پاور پلانٹس کے گرین ہاؤس گیس معیارات کی مجوزہ منسوخی پر عوامی سماعتیورپی پارلیمنٹ کی ماحولیاتی کمیٹی نے کاپ31 ترجیحات طے کر دیںپیسیفک جزائر کو پری کاپ31 کا تاریخی موقع، مگر مہمانوں کی فہرست مختصریورپ میں شدید بارشیں، مشرقی اسپین میں سیلاب کا خطرہاوپن اے آئی کا آسٹریلوی محکمہ پر ہیکنگ کا انکشافبرطانیہ میں ڈیزل کی قلت نہیں، ٹرمپ کے پابندی کے خدشات بے بنیادفرانس میں 400 اسکول بند، شہری تشدد میں اضافہہندوستانی پائلٹ کی بہادری: حملے کے دوران کاک پٹ کا دروازہ کھولا
یورپ

یورپ کا افریقہ میں پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر، 2027 میں فعال ہوگا

usman javedشائع شدہ 30 ستمبر، 2026
یورپ کا افریقہ میں پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر، 2027 میں فعال ہوگا
Share this story

یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک — ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان — افریقہ میں یورپ کا پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کے مشترکہ ماڈل پر متفق ہو گئے ہیں۔ چار ستمبر کو کوپن ہیگن میں وزراء کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ 2027 میں پہلے مسترد شدہ پناہ گزینوں کو یورپی یونین سے باہر ان مراکز میں منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کی واپسی کے دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کی تازہ ترین کوشش ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اہم نکات: افریقہ میں ڈی پورٹیشن سینٹر

شریک ممالک: ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان

اہم اجلاس: 4 ستمبر 2026 کو کوپن ہیگن میں پانچوں ممالک کے وزراء کا اجلاس — “ریٹرن ہبز” کے مشترکہ ماڈل پر اتفاق

ہدف: 2027 میں پہلی منتقلی؛ سال کے آخر تک کسی شراکت دار ملک کے ساتھ پہلا معاہدہ متوقع

مقام: ایک افریقی ملک کا انتخاب ہو چکا ہے، نام تاحال خفیہ؛ میڈیا رپورٹس میں روانڈا اور یوگنڈا کا ذکر

نوعیت: حکام کے مطابق “کھلے مراکز” ہوں گے، بند حراستی کیمپ نہیں

فنڈنگ: مکمل مالی معاونت پانچوں یورپی ممالک خود کریں گے

نگرانی: ڈنمارک کے وزیر کے مطابق آئی او ایم اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی نگرانی کا دعویٰ؛ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے تفصیلات موصول نہیں ہوئیں

منصوبے کا پس منظر

یورپی یونین طویل عرصے سے پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو یونین سے باہر کے ممالک میں منتقل کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔ ماضی میں ایسے کئی منصوبے قانونی اعتراضات، سیاسی تنازعات اور بھاری اخراجات کی وجہ سے ناکام ہو چکے ہیں۔ اب چار ستمبر کو کوپن ہیگن میں ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان کے وزرائے داخلہ و ہجرت نے نام نہاد “ریٹرن ہبز” کے ایک مشترکہ ماڈل پر اتفاق کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر برائے امیگریشن مورٹن بوڈسکوف نے اسے یورپی پناہ و ہجرت کے نظام کی “بنیادی تبدیلی” قرار دیا اور کہا کہ پانچوں ممالک سال کے آخر تک کسی غیر یورپی ملک کے ساتھ پہلا شراکتی معاہدہ طے کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ مراکز ان افراد کے لیے مختص ہوں گے جن کی پناہ کی درخواستیں پانچوں ممالک میں سے کسی ایک نے مسترد کر دی ہوں اور جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ اس منصوبے کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جن کے مطابق یہ اقدام پورے یورپی یونین کے لیے ایک نمونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپ سے متعلق مزید خبریں یہاں پڑھیں۔

یورپ ڈی پورٹیشن سینٹر افریقہ: بحیرہ روم میں گشتی بحری جہاز
بحیرہ روم میں گشتی بحری جہاز — یورپ کے ساحلوں کی طرف تارکین وطن کے راستوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔ (تصویر: برطانوی وزارت دفاع، ویکیمیڈیا کامنز)

ڈی پورٹیشن سینٹر کی نوعیت

یونان کے وزیر برائے ہجرت تھانوس پلیورس نے 28 ستمبر کو یونانی ٹی وی چینل اے این ٹی 1 سے گفتگو میں بتایا کہ ایک افریقی ملک کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے، تاہم اس کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ بند ڈیٹینشن سینٹر نہیں ہوں گے بلکہ “کھلے مراکز” ہوں گے، جہاں پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو ان کے آبائی ممالک میں واپسی کے انتظامات مکمل ہونے تک رکھا جائے گا۔

منصوبے کی مکمل مالی معاونت پانچوں یورپی ممالک خود کریں گے، اور مشترکہ اصولی دستاویز کے مطابق شراکت دار ملک کو اضافی تجارتی شراکت یا دیگر مراعات بھی دی جا سکتی ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر بوڈسکوف کا دعویٰ ہے کہ ان مراکز کی نگرانی بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (آئی او ایم) اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کریں گے، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اسے اس منصوبے کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں، جبکہ آئی او ایم کے مطابق اس کے کردار پر بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

ماضی کی ناکام کوششیں

یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک ماضی میں بھی تارکین وطن کو یونین سے باہر منتقل کرنے کے کئی منصوبے بنا چکے ہیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ سب سے نمایاں مثال برطانوی “روانڈا ماڈل” (2022–2024) ہے: برطانیہ نے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کو روانڈا بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ وہاں پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، تاہم برطانوی سپریم کورٹ نے اس منصوبے کو غیر قانونی قرار دے دیا کیونکہ پناہ کے متلاشیوں کو روانڈا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ تھا۔ اس ناکام منصوبے پر برطانیہ نے تقریباً 715 ملین پاؤنڈ خرچ کیے تھے۔

ماہرین کے مطابق ماضی کی ناکامیوں کی بڑی وجوہات قانونی رکاوٹیں، سیاسی اختلافات اور بھاری اخراجات رہے ہیں — وہی تین چیلنجز جن کا سامنا نئے منصوبے کو بھی درپیش ہوگا۔ شریک ممالک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پچھلی ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے اور اب وہ قانونی و عملی رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شریک ممالک اور ان کا کردار

اس منصوبے کی قیادت ڈنمارک کر رہا ہے، جس کے وزیر بوڈسکوف نے کوپن ہیگن اجلاس کے بعد مشترکہ ماڈل کا اعلان کیا۔ آسٹریا کے وزیر گیرہارڈ کارنر نے کہا کہ “ہمارا مشترکہ ہدف غیر قانونی ہجرت کو صفر کی طرف لے جانا ہے”۔ یونان اس منصوبے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے: وزیر پلیورس کے مطابق یونان 2027 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالے گا اور اسی دوران پہلے مرکز کے فعال ہونے کی توقع ہے، جس سے یہ یونانی صدارت کا ایک اہم ایجنڈا بن جائے گا۔ جرمنی اور نیدرلینڈز اس منصوبے میں تکنیکی و مالی معاونت فراہم کریں گے۔

یورپ ڈی پورٹیشن سینٹر منصوبہ: لیمپے ڈوسا، تارکین وطن کا اہم راستہ
اطالوی جزیرہ لیمپے ڈوسا — افریقہ سے بحیرہ روم کے راستے یورپ آنے والے تارکین وطن کے اہم داخلی راستوں میں سے ایک۔ (تصویر: لوکا سیراگوسا، ویکیمیڈیا کامنز)

بین الاقوامی ردعمل اور انسانی حقوق کے خدشات

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے مراکز میں بھیجنے سے ان کے حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں، کیونکہ یورپی ممالک وہاں ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے، اور ایسے مراکز پناہ کے متلاشیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈنمارک کے وزیر بوڈسکوف نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز “جیل یا حراستی کیمپ” نہیں ہوں گے بلکہ ایسے مقامات ہوں گے جہاں شراکت دار ممالک ان غیر قانونی تارکین وطن کو “نئے مواقع” فراہم کریں گے جو اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے اور جن کے پاس یورپ میں قیام کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں تین بنیادی مطالبات پر زور دیتی ہیں: تمام افراد کے پناہ کی درخواست کے حق کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے؛ کسی بھی شخص کو ایسے ملک میں واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے تشدد یا امتیازی سلوک کا سامنا ہو؛ اور منصوبے کی تفصیلات اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔

یورپی یونین کونسل کی صدارت

یونان 2027 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کونسل کی گھومتی صدارت سنبھالے گا — عین وہی مدت جس میں پہلے ڈی پورٹیشن سینٹر کے فعال ہونے کی توقع ہے۔ وزیر پلیورس کے مطابق یونانی صدارت کے دوران یہ منصوبہ ایک اہم ایجنڈا آئٹم ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونان اسے اپنی صدارتی مدت کی نمایاں کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

نتیجہ

یورپی یونین کے پانچ ممالک کا افریقہ میں ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ایک اہم اور متنازعہ اقدام ہے جو یورپی ہجرت کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے — پناہ کے عمل کو یورپی یونین کی سرحدوں سے باہر منتقل کرنے کی کوشش۔ ماضی کی ناکام کوششوں اور انسانی حقوق کے خدشات کے پیش نظر اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار نفاذ میں شفافیت، بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے احترام پر ہوگا۔ اس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہوں گے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ منصوبہ پناہ کے بحران کا کوئی پائیدار حل فراہم کر پائے گا یا نہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کینیا نے 2035 کے موسمیاتی اہداف کے ساتھ قومی ماحولیاتی پالیسی کا مسودہ پیش کر دیا
نمایاں خبر

کینیا نے 2035 کے موسمیاتی اہداف کے ساتھ قومی ماحولیاتی پالیسی کا مسودہ پیش کر دیا

کینیا نے 2035 کے موسمیاتی اہداف — اخراج میں 35 فیصد کمی اور محفوظ زمین 14 سے 30 فیصد — کے ساتھ قومی ماحولیاتی پالیسی کا پہلا مسودہ پیش کر دیا۔ مسودہ عوامی مشاورت کے لیے کھلا ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
تحقیق کی پیشن گوئی: سپر ایل نینو سے فروری تک 451,000 اضافی اموات کا خدشہ
گرین جرنلزم

تحقیق کی پیشن گوئی: سپر ایل نینو سے فروری تک 451,000 اضافی اموات کا خدشہ

یونیورسٹی آف شکاگو کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے ایک نئے تجزیے کے مطابق جون 2026 سے فروری 2027 تک ریکارڈ ایل نینو سے پیدا ہونے والی شدید گرمی دنیا بھر میں تقریباً 451,000 اضافی اموات کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ تعداد معمول کی گرمی سے ہونے والی اموات کے علاوہ ہے — اور اس

مکمل خبر پڑھیں
کوپرنیکس اوشن اسٹیٹ رپورٹ 2026: سمندروں میں ریکارڈ گرمی، آرکٹک برف کا نقصان اور سمندری ہیٹ ویوز
گرین جرنلزم

کوپرنیکس اوشن اسٹیٹ رپورٹ 2026: سمندروں میں ریکارڈ گرمی، آرکٹک برف کا نقصان اور سمندری ہیٹ ویوز

یورپی یونین کی کوپرنیکس میرین سروس نے 10ویں اوشن اسٹیٹ رپورٹ (30 ستمبر 2026) جاری کی: سمندروں میں ریکارڈ گرمی، آرکٹک برف کا نقصان، 30 دن سے طویل سمندری ہیٹ ویوز اور بڑھتی تیزابیت، 100 سے زائد سائنسدانوں کے ڈیٹا پر مبنی۔

مکمل خبر پڑھیں
ای پی اے کی فوسل فیول پاور پلانٹس کے گرین ہاؤس گیس معیارات کی مجوزہ منسوخی پر عوامی سماعت
گرین جرنلزم

ای پی اے کی فوسل فیول پاور پلانٹس کے گرین ہاؤس گیس معیارات کی مجوزہ منسوخی پر عوامی سماعت

امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) نے 1-2 اکتوبر 2026 کو فوسل فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے گرین ہاؤس گیس کے معیارات کی مجوزہ مکمل منسوخی پر ایک ورچوئل عوامی سماعت منعقد کی۔ اس تجویز کی ریاستوں اور ماحولیاتی گروپوں نے سخت مخالفت کی ہے اور اس پر پہلے ہی عدالتی

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں