اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک بار پھر بھارت پر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ بھارت، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے شدت پسند گروہوں کو فعال طور پر مدد فراہم کر رہا ہے۔
پاکستان کا اقوام متحدہ میں موقف
پاکستان کے مستقل مشن برائے اقوام متحدہ میں مشیر محمد جواد اجمل نے اقوام متحدہ میں بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں پاکستان کا حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان میں طالبان حکومت کو انسانی امداد کی آڑ میں مادی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے سپانسر شدہ دہشت گردی کی قیمت سے بخوبی واقف ہے۔
- پاکستان نے بھارت پر افغانستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے۔
- پاکستانی سفیر محمد جواد اجمل نے اقوام متحدہ میں ٹھوس ثبوت پیش کیے۔
- بھارت پر کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کی حمایت کا الزام ہے۔
- اسلام آباد کا کہنا ہے کہ نئی دہلی انسانی امداد کے بہانے طالبان حکومت کو مدد فراہم کر رہا ہے۔
بھارت کی پراکسی وار اور خطے میں عدم استحکام
محمد جواد اجمل نے کہا کہ بھارت خطے میں بدامنی پھیلانے اور انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے آبادیاتی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال
- پاکستان نے بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے۔
- بھارت پر اسلامو فوبیا اور انتہا پسند نظریات کو فروغ دینے کا الزام ہے۔
- پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
- مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی قانون کے تحت ایک متنازعہ علاقہ ہے۔
کلبھوشن جادھو کیس: بھارتی ریاست کی دہشت گردی کا ثبوت
پاکستانی سفیر نے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی گرفتاری بھارتی ریاست کی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔ کلبھوشن جادھو، جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر تھا، پاکستان میں تخریب کاری، جاسوسی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے اعترافی بیان میں پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گردانہ واقعات کا انکشاف ہوا تھا جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
- کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔
- اس نے پاکستان میں متعدد دہشت گردانہ واقعات کا اعتراف کیا۔
- اس کی گرفتاری بھارتی ریاست کی دہشت گردی کا ثبوت ہے۔
- اس کے نیٹ ورک نے متعدد شہریوں کی ہلاکتوں میں کردار ادا کیا۔
خارجہ امور میں بھارتی مداخلت
پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ بھارت بیرون ملک بھی قتل اور سازشوں میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو بارہا بھارت کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا ہے۔
پاکستان کا موقف: امن اور سلامتی کے لیے خطرہ
محمد جواد اجمل نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی وار جاری رکھنا خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی اور علاقائی استحکام کی پالیسی پر عمل کیا ہے، لیکن بھارت کی جارحانہ اور تخریبی پالیسیاں اس امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
نتیجہ
پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو دہراتے ہوئے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں۔ پاکستانی سفیر محمد جواد اجمل نے واضح کیا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردانہ حملوں کو فروغ دے رہا ہے، جس میں کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کی مدد شامل ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی ان مذموم سرگرمیوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
کلبھوشن جادھو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے، پاکستان نے اسے بھارتی ریاست کی دہشت گردی کا ایک واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔




























