پلاسٹک بینک، جو دنیا کے بڑے بوتل جمع کرنے والے نیٹ ورکس میں سے ایک کے پیچھے کینیڈا کا سماجی ادارہ ہے، فلپائن کی مزید کمپنیوں کو پلاسٹک فضلہ جمع کرنے کی مہم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے۔ ادارے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کیٹز نے 7 اکتوبر 2026 کو منیلا میں فلپائن کے یورپی چیمبر آف کامرس کے فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں یہ اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شراکت کمپنیوں کو پیداکنندگان کی توسیعی ذمہ داری کے اہداف پورے کرنے کا عملی راستہ فراہم کرتی ہے۔ یہ خبر بزنس ورلڈ نے شائع کی۔
اہم نکات
- ادارہ: پلاسٹک بینک — کینیڈا کا سماجی ادارہ، 2013 میں ڈیوڈ کیٹز نے قائم کیا
- فلپائن میں سنگ میل: اگست 2026 تک دو ارب پلاسٹک کی بوتلیں جمع، جو ساڑھے چار کروڑ کلوگرام کے برابر ہیں (بزنس ورلڈ کے حوالے سے ادارے کے اعداد و شمار)
- طریقہ کار: بوتل ڈپازٹ پروگرام — استعمال شدہ بوتلوں کے بدلے رقم اور سماجی مراعات، ہر بوتل کی نگرانی بلاک چین محفوظ پلیٹ فارم پر
- اپیل کا مرکز: فلپائنی کمپنیوں کو پیداکنندگان کی توسیعی ذمہ داری کے تقاضے پورے کرنے میں مدد
- مقامی شراکت داروں میں پیپسی کولا پروڈکٹس فلپائن، سی ڈی او فوڈ اسفیئر، پیسیفک سینرجی فوڈ اینڈ بیوریج کارپوریشن اور ایس سی جانسن اینڈ سن شامل
- ادارہ مصر، تھائی لینڈ، برازیل اور انڈونیشیا میں بھی کام کرتا ہے
- پس منظر: یورپی یونین اور فلپائن کے درمیان سبز معیشت کی شراکت — فلپائن کی سبز معیشت کی منتقلی کے لیے یورپی یونین کی 6 کروڑ یورو کی گرانٹ
دو ارب بوتلیں — اور سلسلہ جاری
بزنس ورلڈ کے حوالے سے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پلاسٹک بینک صرف فلپائن میں اگست 2026 تک دو ارب پلاسٹک کی بوتلیں جمع کر چکا ہے، جو ساڑھے چار کلوگرام پلاسٹک کے برابر ہے۔ بوتلیں ڈپازٹ پروگرام کے ذریعے جمع کی جاتی ہیں جس میں لوگ استعمال شدہ پلاسٹک کے بدلے رقم اور سماجی مراعات حاصل کرتے ہیں، اور ہر بوتل کو گردشی معیشت میں ری سائیکل ہونے سے پہلے بلاک چین محفوظ پلیٹ فارم پر ٹریک کیا جاتا ہے۔
ڈیوڈ کیٹز نے چیمبر کے فورم میں صحافیوں سے کہا: “ہم سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور فلپائن کی مزید کمپنیوں کو شرکت کی دعوت دینے کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔”

جمع کرنے کا ماڈل کیسے کام کرتا ہے
پلاسٹک بینک خود کو سماجی فن ٹیک قرار دیتا ہے: جمع کرنے والی شاخیں لائے گئے پلاسٹک کے بدلے لوگوں کو ادائیگی کرتی ہیں، اور یہ مواد نئی مصنوعات کے لیے ری سائیکل شدہ خام مال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ادارے سے متعلق آزاد رپورٹوں کے مطابق اس کے نیٹ ورک اپنے کام کرنے والے ممالک میں ہزاروں جمع کنندگان کو معاوضہ دیتے ہیں اور یہ گردشی پیکیجنگ کے لیے دنیا بھر کی دو سو سے زائد کمپنیوں کے ساتھ شراکت کر چکا ہے۔
فلپائن میں اس کے مقامی شراکت داروں میں پیپسی کولا پروڈکٹس فلپائن، سی ڈی او فوڈ اسفیئر، پیسیفک سینرجی فوڈ اینڈ بیوریج کارپوریشن، ایس سی جانسن اینڈ سن کے ساتھ ساتھ وینڈیز فلپائن، کونٹیز بیک شاپ اور گولڈی لاکس بیک شاپ جیسی خوراک اور مشروبات کی کمپنیاں شامل ہیں۔
پیداکنندگان کی توسیعی ذمہ داری مرکز نگاہ
کیٹز کی اپیل کا مرکز پیداکنندگان کی توسیعی ذمہ داری ہے — یعنی وہ اصول جس کے تحت مارکیٹ میں پیک شدہ اشیا لانے والی کمپنیاں ان مصنوعات سے بننے والے فضلے کو جمع کرنے کی مالی معاونت اور تنظیم میں حصہ لیں۔ پلاسٹک بینک کے نیٹ ورک میں شامل ہو کر کمپنیاں اپنے ذمہ داری کے اہداف کے مقابلے میں تصدیق شدہ جمع شدہ مقدار دستاویزی شکل میں پیش کر سکتی ہیں۔
چیمبر کے بین الاقوامی تجارتی میلوں کے شعبے کی سربراہ ڈان ایف کیبیگون نے کہا کہ بوتل جمع کرنے کا پروگرام فلپائن میں گردشی معیشت کے طریقوں کو فروغ دینے کی چیمبر کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا: “موجودہ نظام میں ہم فضلے کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے سبز معیشت ناگزیر ہے… اور اس کے لیے نئے نظام، نئی ٹیکنالوجیز، نئے حل اور سوچ میں تبدیلی درکار ہے۔”

فلپائن کی سبز منتقلی کے لیے یورپی یونین کی حمایت
کیبیگون نے یورپی یونین اور فلپائن کے درمیان سبز معیشت کی شراکت کی طرف بھی اشارہ کیا، جس کے تحت یورپی یونین فلپائن کی حکومت کو ملک کی سبز معیشت کی منتقلی کے لیے 6 کروڑ یورو کی گرانٹ دے رہا ہے — یہی وہ پالیسی پس منظر ہے جس میں پلاسٹک بینک جیسے جمع کرنے کے منصوبے وسعت اختیار کر رہے ہیں۔
موسمیات کے لیے یہ کیوں اہم ہے
پلاسٹک کا فضلہ آلودگی کے بحران کے ساتھ ساتھ موسمیاتی مسئلہ بھی ہے: گردش میں رکھی گئی ہر بوتل وہ ہے جو لینڈ فل یا آبی گزرگاہ میں نہیں پہنچتی، اور تصدیق شدہ جمع کاری نئے خام پلاسٹک کی مانگ کم کرتی ہے۔ پلاسٹک بینک جیسے ڈپازٹ اور نگرانی کے ماڈل دکھاتے ہیں کہ فضلے کی پالیسی، کارپوریٹ ذمہ داری کے اصول اور مقامی لوگوں کی روزی ایک ہی سمت میں کیسے کام کر سکتے ہیں۔
وطن نیوز کی مزید موسمیاتی خبریں دیکھیں اور صفر فضلہ و گردشی معیشت کی ہماری مسلسل کوریج سے جڑے رہیں۔


























