اقوام متحدہ کی غذائی و زرعی تنظیم نے 2 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں عالمی غذائی قیمتیں مسلسل تیسرے ماہ بڑھیں اور 136.0 پوائنٹس کے ساتھ نومبر 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یہ اشاریہ اگست کے مقابلے میں 1.5 فیصد اور گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 5.8 فیصد زیادہ رہا، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے ایک نئے دباؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اہم نکات
- اقوام متحدہ کے غذائی قیمتوں کے اشاریے نے ستمبر میں 136.0 پوائنٹس حاصل کیے، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
- گندم کی قیمتوں میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا جو اگست 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے، مکئی 5.6 فیصد اور چینی 6.1 فیصد مہنگی ہوئی۔
- شدید ال نینیو کے خدشے پر چینی کی بین الاقوامی قیمتیں 18 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
- گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
- تنظیم کے ماہر معاشیات میکسیمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ یہ دباؤ برقرار رہا تو صارفین کی قیمتوں پر اثر پڑے گا، خصوصاً خوراک اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک میں۔
عالمی غذائی قیمتیں: کن اجناس میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا
ستمبر میں قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اناج اور چینی رہے۔ ادارے کے ذیلی اشاریوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
| اجناس | ستمبر میں ماہانہ تبدیلی | حیثیت |
|---|---|---|
| گندم | 6.3 فیصد اضافہ | اگست 2023 کے بعد بلند ترین سطح |
| مکئی | 5.6 فیصد اضافہ | امریکی پیداوار کے خدشات کا اثر |
| چاول | 1.4 فیصد اضافہ | نسبتاً معتدل اضافہ |
| چینی | 6.1 فیصد اضافہ | 18 ماہ کی بلند ترین سطح |
| سبزیوں کے تیل | 0.9 فیصد اضافہ | پام آئل کی قیادت میں اضافہ |
| گوشت | 1.1 فیصد کمی | پولٹری کی قیمتوں میں کمی کا اثر |
| دودھ اور دودھ کی مصنوعات | 0.1 فیصد کمی | تقریباً مستحکم |

دباؤ کی وجوہات کیا ہیں
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحر اسود میں جہازرانی کی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی جھٹکوں نے توانائی، نقل و حمل اور اہم غذائی اجناس پر دباؤ بڑھایا ہے۔ بحر اسود میں تجارت کی جنگ سے متعلق رکاوٹوں کی وجہ سے ستمبر کے اوائل میں گندم کی عالمی قیمتوں نے تین سال کی بلند ترین سطح چھوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں خراب فصلوں اور موسمیاتی تبدیلی کی شدت کی وجہ سے عالمی غذائی منڈیاں مہنگائی کے جھٹکوں کے لیے زیادہ کمزور ہو گئی ہیں۔ امریکا اور چین کے درمیان زرعی تجارت کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے۔
صارفین پر کیا اثر پڑے گا
تنظیم کے ماہر معاشیات میکسیمو ٹوریرو کا کہنا ہے کہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل اور وسیع البنیاد اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ دباؤ برقرار رہا تو یہ جلد ہی صارفین کی خوردہ قیمتوں پر منتقل ہو جائے گا، خاص طور پر ان ممالک میں جو خوراک اور توانائی کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔
تنظیم نے 2026 کے لیے عالمی اناج کی پیداوار کا تخمینہ 2.979 ارب میٹرک ٹن برقرار رکھا ہے، جو 2025 سے 2.1 فیصد کم ہے، لیکن پھر بھی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی فصل ہوگی۔
خوراک اور زرعی خبروں کے مزید احوال وطن نیوز کے کھانے کے صفحے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
نتیجہ
تیسرے ماہ مسلسل اضافے کے بعد عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر آ گیا ہے۔ اگرچہ یہ مارچ 2022 کے ریکارڈ سے اب بھی نیچے ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیل کی رکاوٹوں اور موسمی خطرات کے باعث آنے والے مہینوں میں صارفین کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔























