ہسپانیہ کے وزیراعظم پدرو سانچیز نے ملک میں شدید رہائشی بحران کے تناظر میں ہسپانیہ میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 29 نومبر کو عام انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ اعلان پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (کانگریس) کی جانب سے حکومت کے دو ہنگامی رہائشی احکامات مسترد کیے جانے کے تین روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد ہفتے کو میڈرڈ سمیت ملک بھر کے تقریباً پچاس شہروں میں ہزاروں افراد کرایوں میں اضافے اور بے دخلیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
اہم نکات
- اعلان 5 اکتوبر 2026 کو ہوا؛ پولنگ 29 نومبر 2026 کو ہوگی، جو قانونی طور پر جلد از جلد ممکنہ تاریخ ہے۔
- محرک: 2 اکتوبر کو کانگریس نے حکومت کے دو ہنگامی رہائشی احکامات مسترد کر دیے — پہلا 172 کے مقابلے میں 178 اور دوسرا 166 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے۔
- مخالفت میں پاپولر پارٹی، ووکس اور جونٹس ووٹ ڈالے؛ حمایت میں سوشلسٹ پارٹی، سومار اور چھوٹی جماعتیں تھیں۔
- احتجاج: ہفتے کو میڈرڈ میں حکومت کے اندازے کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد شریک ہوئے؛ ملک بھر کے 50 شہروں میں مظاہرے ہوئے۔
- بحران کا چہرہ: 87 سالہ ماریا ڈیل کارمین اباسکل — سرمایہ کار فنڈ کی جانب سے عمارت خریدنے اور کرایہ بڑھانے کے بعد انہیں 70 برس پرانے گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔
- پس منظر: دس برس میں کرائے دوگنا ہو چکے؛ 16 سے 34 سال کے تقریباً 75 فیصد نوجوان اب بھی والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔
اعلان اور اس کا پس منظر
سانچیز نے پیر کے روز سرکاری خطاب میں کہا کہ وہ ہنگامی کابینہ کا اجلاس بلائیں گے اور پارلیمنٹ کی تحلیل کے لیے بادشاہ فیلیپے ششم کو آگاہ کریں گے۔ ان کے الفاظ میں، “وقت آ گیا ہے کہ ہسپانوی عوام فیصلہ کریں کہ وہ کیسا مستقبل چاہتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اب بھی بہت سی ناانصافیوں کا ازالہ باقی ہے اور مزید اصلاحات کے لیے عوام کی وسیع اور نئی حمایت درکار ہے۔
قانونی کیلنڈر کے مطابق انتخابی فرمان 5 اکتوبر کو جاری ہوگا، 6 اکتوبر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوگا اور اس کے 54 ویں دن یعنی 29 نومبر کو انتخابات ہوں گے۔ سانچیز کے پاس ویسے 2027 کے موسمِ گرما تک انتخابات بلانے کا وقت تھا، مگر رہائشی بحران نے ان کا سیاسی کیلنڈر بدل دیا۔ مزید تفصیل کے لیے عالمی خبریں کا سیکشن دیکھیں۔

دو رہائشی احکامات کیوں مسترد ہوئے
جمعے کو پانچ گھنٹے طویل بحث کے بعد ایوانِ زیریں نے حکومت کے دونوں احکامات مسترد کر دیے۔ پہلا فرمان کمزور کرایہ داروں کی بے دخلی پر 2030 تک پابندی، کرایوں پر دو سالہ پابندی، قیاس آرائی پر قدغن، قلیل مدتی کرایوں پر سخت قوانین اور کرایے پر دینے و تعمیر کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس مراعات پر مشتمل تھا۔ دوسرا فرمان لیز کی خودکار تجدید کا تھا — معاہدہ ختم ہونے پر کرایہ دار کی مرضی سے تجدید ہوتی اور مالک مکان کو معاہدہ توڑنے پر 12 ماہ کا کرایہ ادا کرنا پڑتا۔
| فرمان | حق میں | مخالفت میں |
|---|---|---|
| پہلا ہنگامی فرمان (بے دخلی پر پابندی، کرایوں کی حد، قیاس آرائی پر قدغن) | 172 | 178 |
| دوسرا فرمان (لیز کی خودکار تجدید) | 166 | 184 |
پہلے فرمان کی مخالفت پاپولر پارٹی، ووکس، جونٹس اور یو پی این نے کی؛ دوسرے کے خلاف ان کے ساتھ پی این وی اور سی سی بھی شامل ہو گئے۔ کیٹالان جماعت جونٹس کا آخری لمحے میں رخ بدلنا حکومت کے لیے سب سے بڑا دھچکا تھا — حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے پا چکا تھا۔ ووٹنگ سے پہلے سانچیز نے ارکان سے اپیل کی تھی: “ان احکامات کے پیچھے اس منڈی میں نظم اور انسانیت کی روح پیدا کرنے کی خواہش ہے جسے اگر قابو نہ کیا گیا تو وہ ہمارے معاشرے کو تباہ کر دے گی۔ درست کام کریں، ورنہ تاریخ آپ کا فیصلہ کرے گی — اور جتنا آپ سوچتے ہیں، اس سے بھی جلد۔”

رہائشی بحران کی شدت
ہسپانیہ کا رہائشی بحران صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں۔ دس برس میں کرائے دوگنا ہو چکے ہیں — 2016 میں 8.20 یورو فی مربع میٹر سے بڑھ کر اس برس 15.10 یورو تک۔ 16 سے 34 سال کے تقریباً 75 فیصد نوجوان والدین کے گھر رہنے پر مجبور ہیں اور گھر چھوڑنے کی اوسط عمر 30 سال ہو چکی ہے، جو یورپی اوسط سے چار سال زیادہ ہے۔ میڈرڈ اور بارسلونا میں اوسط کرایہ گھریلو آمدنی کے 40 فیصد سے زیادہ کھا جاتا ہے، اور 2026 کی پہلی ششماہی میں عدالتی بے دخلیوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔
اس بحران کا چہرہ 87 سالہ ماریا ڈیل کارمین اباسکل بنیں، جنہیں ایک بین الاقوامی سرمایہ کار فنڈ کی جانب سے عمارت خریدنے اور کرایہ بڑھانے کے بعد میڈرڈ میں اپنے 70 برس پرانے گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔ میڈیا میں اس فرمان کو “ماریکارمین فرمان” کا نام بھی دیا گیا۔ کرایہ دار یونین نے میڈرڈ کے پورٹا ڈیل سول میں خیمہ کیمپ قائم کر رکھا ہے اور نئے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
ہسپانیہ میں قبل از وقت انتخابات: اپوزیشن کا ردعمل اور سروے
اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی کے رہنما البرٹو نونیز فیخو نے ووٹنگ کے بعد سانچیز سے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: “میں تیار ہوں، ہم تیار ہیں۔ میری طرف سے جب چاہے انتخابات بلائے — ہسپانیہ اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔” ان کا الزام ہے کہ سانچیز رہائشی بحران کو قبل از وقت انتخابات کی تیاری کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں میں سوشلسٹ پارٹی اپوزیشن سے پیچھے ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاپولر پارٹی کی قیادت میں ووکس کی حمایت سے بننے والا اتحاد سب سے ممکنہ نتیجہ ہے — ایسا ہوا تو جمہوریت کی بحالی کے بعد پہلی بار انتہائی دائیں بازو کی جماعت مرکزی حکومت میں شامل ہوگی۔ تاہم سانچیز آٹھ برس سے ناقابلِ یقین اتحاد بنا کر اقتدار میں ہیں اور انہیں حیران کن واپسی کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔
یورپی سیاق
ہسپانیہ کا رہائشی بحران پورے یورپ کا بڑھتا ہوا مسئلہ ہے — کئی ممالک میں سستی رہائش کی کمی اور کرایوں میں اضافے نے سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سانچیز کی ممکنہ شکست کا مطلب یورپ کی آخری بچی کھچی بائیں بازو کی حکومتوں میں سے ایک کا خاتمہ ہوگا، ایسے وقت میں جب انتہائی دائیں بازو پورے خطے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 29 نومبر کی پولنگ کو صرف ہسپانیہ نہیں، پورا یورپ دیکھ رہا ہے۔
نتیجہ
پدرو سانچیز کا رہائشی بحران پر قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہسپانیہ کی سیاست کا اہم موڑ ہے۔ یہ انتخابات نہ صرف ملک کی سیاسی سمت طے کریں گے بلکہ یورپ بھر میں رہائشی بحران سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر بھی اثر ڈالیں گے۔ سانچیز اسے ترقی پسند ایجنڈے کے دفاع کا موقع سمجھتے ہیں، جبکہ اپوزیشن اسے حکومت کی ناکامی کا ثبوت قرار دے رہی ہے — فیصلہ 29 نومبر کو ہسپانوی عوام کریں گے۔


























