بحرِ ہند کے جزیرہ نما ملک سیشیلز میں واقع الدابرا مرجانی جزیرے پر الدابرا دیو قامت کچھے ایک لاکھ اسی ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں — یہ اس نسل کی اب تک کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے اور خود سیشیلز کی انسانی آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
اہم نکات
- الدابرا جزیرے پر الدابرا دیو قامت کچھوں کی نئی تعداد تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار ہے؛ بہترین تخمینہ ایک لاکھ ترانوے ہزار بالغ اور نیم بالغ کچھے ہیں۔
- یہ سروے سیشیلز آئی لینڈز فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف ایکزیٹر نے مشترکہ طور پر کیا، جس میں 2018 سے 2022 تک پانچ سال کی گنتی کا تجزیہ شامل ہے۔
- نتائج سائنسی جریدے ایکالوجی اینڈ ایولیوشن میں شائع ہوئے؛ یہ 1990 کی دہائی کے آخر کے ایک لاکھ کے پرانے تخمینے کی پہلی اپ ڈیٹ ہے۔
- انیسویں صدی میں شدید شکار کے باعث ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم رہ گئی تھی؛ 1981 میں سخت محفوظ ذخیرے اور 1982 میں یونیسکو عالمی ورثے کی حیثیت کے بعد آبادی بحال ہوئی۔
- الدابرا اور گالاپاگوس دنیا کے صرف دو مقامات ہیں جہاں دیو قامت کچھے جنگلی حالت میں پائے جاتے ہیں۔
الدابرا دیو قامت کچھے: تعداد کا نیا ریکارڈ
گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق الدابرا جزیرے پر الدابرا دیو قامت کچھوں کی آبادی نہ صرف مستحکم ہے بلکہ پھل پھول رہی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ بحرِ ہند کی تحفظ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک کی تصدیق ہے۔
سیشیلز آئی لینڈز فاؤنڈیشن کے عملے نے جزیرے پر سالہا سال رہ کر گنتی کی۔ تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر نینسی بنبری کے مطابق جزیرے کی گھنی نباتات کی وجہ سے کچھوں کی گنتی واقعی مشکل ہے، اس لیے ٹیم نے نہ صرف دیکھی گئی تعداد بلکہ نظر نہ آنے والے جانوروں کی ماڈلنگ بھی کی تاکہ اب تک کی سب سے قابلِ اعتماد بنیاد قائم ہو سکے۔
گنتی کیسے ہوئی
ٹیم نے 2018 سے 2022 کے درمیان جمع کیے گئے پانچ سالہ شمار کا تجزیہ کیا۔ یہ پہلا سخت، پورے جزیرے کا احاطہ کرنے والا تخمینہ ہے۔ اس سے پہلے 1990 کی دہائی کے آخر کا تقریباً ایک لاکھ کا حوالہ دیا جانے والا تخمینہ ہی مستعمل تھا۔
| دور | تخمینہ شدہ تعداد |
|---|---|
| انیسویں صدی | ایک ہزار سے بھی کم |
| 1990 کی دہائی کا آخر | تقریباً ایک لاکھ |
| 2026 (نئی تحقیق) | ایک لاکھ اسی ہزار (بہترین تخمینہ: ایک لاکھ ترانوے ہزار) |
انیسویں صدی کے دہانے سے بحالی تک
انیسویں صدی میں ان جانوروں کے بے دریغ شکار کی وجہ سے الدابرا جزیرے پر ایک ہزار سے بھی کم کچھے باقی رہ گئے تھے اور نسل معدومی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ تاہم طویل مدتی تحفظ کے پروگرام نے صورتحال بدل دی: 1981 میں جزیرے کو سخت محفوظ ذخیرے کی حیثیت دی گئی اور ایک سال بعد یہ یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار پایا۔
سیشیلز آئی لینڈز فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فراؤکے فلائشر ڈوگلی نے کہا: «ہمارے جزیرے پر ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد دیو قامت کچھوں کا آزادانہ گھومنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تحفظ کے لیے طویل مدتی عزم سے کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ سیشیلز، دنیا اور الدابرا کی حفاظت کے لیے کام کرنے والے ہر شخص کے لیے شاندار خبر ہے۔»
خطرات اب بھی باقی ہیں
خوش خبری کے باوجود محققین خبردار کرتے ہیں کہ چوکسی ناگزیر ہے۔ الدابرا کی آب و ہوا بدل رہی ہے؛ طویل اور زیادہ بار بار آنے والی خشک سالی سے کچھوں کے لیے سایہ اور خوراک کم ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ سمندر کی بڑھتی سطح جزیرے کے نشیبی حصوں کے لیے خطرہ ہے۔
حملہ آور ممالیہ بھی خطرہ ہیں، جن میں جنگلی بلیاں اور کالے چوہے شامل ہیں جو کچھوں کے انڈوں اور نوزائیدہ بچوں کا شکار کرتے ہیں۔ محققین کے مطابق ان باقی ماندہ حملہ آور جانوروں کے خاتمے کا منصوبہ آبادی کی مزید نشوونما کی آخری رکاوٹیں دور کر سکتا ہے اور اسے مستقبل کے موسمی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ایکزیٹر کے ڈاکٹر ڈیو ہڈسن نے کہا: «یہ نتائج کچھوں کے لیے بہترین خبر ہیں اور میدان میں کی گئی عمدہ محنت کا ثبوت ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ اعداد و شمار ایک بنیاد ہیں، آخری منزل نہیں۔»
نتیجہ
الدابرا دیو قامت کچھوں کی کہانی معدومی کے دہانے سے تاریخی بحالی تک کا سفر ہے۔ ایک لاکھ اسی ہزار کی نئی تعداد یہ ثابت کرتی ہے کہ مسلسل، صبر آزما تحفظ کی کوششیں فطرت کو واپس لا سکتی ہیں — بشرطیکہ موسمیاتی تبدیلی اور حملہ آور نسلوں جیسے نئے خطرات پر نظر رکھی جائے۔






























