کوئٹہ میں پاکستان ریلویز نے اعلان کیا ہے کہ بلوچستان ٹرین آپریشن آج، 29 اکتوبر کو ایک روز کے لیے معطل رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تکنیکی وجوہات اور ضروری مرمتی کام کی وجہ سے کیا گیا ہے، اور مرمتی کام مکمل ہوتے ہی ٹرینوں کی آمدورفت بحال کر دی جائے گی۔
اہم نکات
- بلوچستان میں ٹرین آپریشن آج ایک روز کے لیے معطل رہے گا۔
- کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس آج روانہ نہیں ہوگی۔
- پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس جیکب آباد تک محدود رہے گی۔
- سریاب کچلاک جناح پیپلز ٹرین بھی آج نہیں چلے گی۔
- کوئٹہ سبی اور کوئٹہ چمن سیکشن پر تمام ٹرینیں ایک روز کے لیے بند رہیں گی۔
- جعفر ایکسپریس کے متاثرہ مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کی جائے گی۔
کون سی ٹرینیں متاثر ہوئی ہیں
ریلویز حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس آج اپنے مقررہ وقت پر روانہ نہیں ہوگی۔ اسی طرح پشاور سے کوئٹہ کی طرف آنے والی جعفر ایکسپریس کا سفر آج سندھ کے شہر جیکب آباد تک محدود کر دیا گیا ہے، یعنی یہ ٹرین آج کوئٹہ نہیں پہنچے گی۔
اس کے علاوہ کوئٹہ کے سریاب اور کچلاک کے درمیان چلنے والی جناح پیپلز ٹرین بھی آج نہیں چلے گی۔ حکام نے بتایا ہے کہ کوئٹہ ڈویژن کے کوئٹہ سبی سیکشن اور کوئٹہ چمن سیکشن پر بھی آج تمام ٹرینوں کی آمدورفت ایک روز کے لیے معطل رہے گی۔

بلوچستان ٹرین آپریشن کی معطلی کی وجہ
پاکستان ریلویز کے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان ٹرین آپریشن کی ایک روزہ معطلی کی وجہ تکنیکی خرابیاں اور ضروری مرمتی کام ہے۔ حکام کے مطابق ٹریک اور متعلقہ نظام کی مرمت ناگزیر ہو گئی تھی، اس لیے احتیاط کے طور پر آج کا ٹرین آپریشن روک دیا گیا ہے۔
حکام نے یقین دلایا ہے کہ جیسے ہی مرمتی کام مکمل ہوگا، ٹرینوں کی آمدورفت معمول کے مطابق بحال کر دی جائے گی۔ مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفر سے پہلے ریلویز سے تازہ معلومات ضرور حاصل کریں۔
مسافروں کے لیے ہدایات
ریلویز حکام کے مطابق آج کی معطلی سے متاثر ہونے والے جعفر ایکسپریس کے تمام مسافروں کو ان کی ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کر دی جائے گی۔ مسافر رقم کی واپسی کے لیے متعلقہ ریلوے اسٹیشن یا بکنگ دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ آج کوئٹہ ڈویژن کے متاثرہ سیکشنز پر سفر کی منصوبہ بندی سے پہلے ریلویز کی تازہ اطلاع کا انتظار کریں، تاکہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھی جا سکتی ہیں۔































