LIVE
اہم خبر
کاپ31 کے اعلیٰ سطحی موسمیاتی چیمپئن کا وعدہ: انتالیا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع، سب کی کاپ ہوگیسبز پارٹی کا صہیونیزم ووٹ: شدید ردعمل کا باعثبحرالکاہل میں کاپ31 پری کاپ کا آغاز: فجی اور تووالو کا ڈیڑھ ڈگری، مالیہ اور سمندر کے لیے مطالبہکیلیفورنیا میں موسمیاتی خواندگی کی سند قانون بن گئی، امریکی ریاستیں ڈپلومہ پر آب و ہوا کی تعلیم لا رہی ہیںگریٹا تھنبرگ کی حمایت میں اورورا کا سویڈن حکومت پر دوسرا موسمیاتی مقدمہیورپی گرین کیپٹل 2028: آٹھ فائنلسٹ شہروں کا فیصلہ 8 اکتوبر کو گیمارائش میں ہوگاالکارگو میٹری مہم کی توسیع: رواں مالی سال میں مہاراشٹرا کے پانچ ہزار کسانوں کے لیے تین لاکھ پودےالبرٹا میں ری سائیکلنگ کی بڑی توسیع: چودہ لاکھ گھرانوں کے لیے نئے مواد کی ری سائیکلنگگارجیئن کی تحقیق: کاپ31 میزبان ترکیہ کے کوڑے کے ڈھیر دنیا کے بدترین میتھین اخراج میں شاملروس کو جنوبی کوریا سے تیل کی ترسیل، یوکرین جنگ جاریترکیہ اور پاکستان کا سعودی عرب میں فوجی تعیناتی پر اتفاقبرازیل صدارتی انتخابات: فلاویو بولسونارو کی بڑی فتح، ابتدائی نتائجارجنٹائن کے سمندر میں 57 نئی سمندری مخلوقات کی دریافتکاپ31 سے پہلے نوجوان متحرک: سڈنی میں ریلی، بنگلہ دیش میں چارٹرکورنگ کلائمیٹ ناؤ ایوارڈز 2026: ماحولیاتی صحافیوں کا عالمی اعزازترکیہ کے ماحولیاتی سفیر کی نیویارک میں پلاسٹک کے خلاف مہمیورپی پارلیمنٹ کا کاپ31 ایجنڈا: فوسل ایندھن سے تیزی سے چھٹکارے کا مطالبہکاپ31 کے اعلیٰ سطحی موسمیاتی چیمپئن کا وعدہ: انتالیا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع، سب کی کاپ ہوگیسبز پارٹی کا صہیونیزم ووٹ: شدید ردعمل کا باعثبحرالکاہل میں کاپ31 پری کاپ کا آغاز: فجی اور تووالو کا ڈیڑھ ڈگری، مالیہ اور سمندر کے لیے مطالبہکیلیفورنیا میں موسمیاتی خواندگی کی سند قانون بن گئی، امریکی ریاستیں ڈپلومہ پر آب و ہوا کی تعلیم لا رہی ہیںگریٹا تھنبرگ کی حمایت میں اورورا کا سویڈن حکومت پر دوسرا موسمیاتی مقدمہیورپی گرین کیپٹل 2028: آٹھ فائنلسٹ شہروں کا فیصلہ 8 اکتوبر کو گیمارائش میں ہوگاالکارگو میٹری مہم کی توسیع: رواں مالی سال میں مہاراشٹرا کے پانچ ہزار کسانوں کے لیے تین لاکھ پودےالبرٹا میں ری سائیکلنگ کی بڑی توسیع: چودہ لاکھ گھرانوں کے لیے نئے مواد کی ری سائیکلنگگارجیئن کی تحقیق: کاپ31 میزبان ترکیہ کے کوڑے کے ڈھیر دنیا کے بدترین میتھین اخراج میں شاملروس کو جنوبی کوریا سے تیل کی ترسیل، یوکرین جنگ جاریترکیہ اور پاکستان کا سعودی عرب میں فوجی تعیناتی پر اتفاقبرازیل صدارتی انتخابات: فلاویو بولسونارو کی بڑی فتح، ابتدائی نتائجارجنٹائن کے سمندر میں 57 نئی سمندری مخلوقات کی دریافتکاپ31 سے پہلے نوجوان متحرک: سڈنی میں ریلی، بنگلہ دیش میں چارٹرکورنگ کلائمیٹ ناؤ ایوارڈز 2026: ماحولیاتی صحافیوں کا عالمی اعزازترکیہ کے ماحولیاتی سفیر کی نیویارک میں پلاسٹک کے خلاف مہمیورپی پارلیمنٹ کا کاپ31 ایجنڈا: فوسل ایندھن سے تیزی سے چھٹکارے کا مطالبہ
صحت و تندرستی

بڑھاپے میں گوشت چھوڑنا مہنگا پڑ سکتا ہے، چینی تحقیق میں دلچسپ دعویٰ

Usman javed
بڑھاپے میں گوشت چھوڑنا مہنگا پڑ سکتا ہے، چینی تحقیق میں دلچسپ دعویٰ
Share this story

چین میں کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق میں بڑھاپے میں غذا اور طویل عمری کے درمیان دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بڑھاپے میں گوشت مکمل طور پر چھوڑ دینا بعض صورتوں میں سو سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات کم کر سکتا ہے، خاص طور پر کم وزن رکھنے والے عمر رسیدہ افراد میں۔ یہ نتائج امریکی جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے ہیں اور ان پر العربیہ سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی بحث ہو رہی ہے۔

اہم نکات

  • چین کے طویل مدتی صحت و طویل عمری سروے کے 1998 سے 2018 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا
  • 80 سال یا اس سے زائد عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد شامل تھے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد گوشت خور تھے
  • مکمل سبزی خوروں میں سو سال کی عمر تک پہنچنے کا امکان تقریباً 19 فیصد کم جبکہ صرف نباتاتی خوراک والوں میں تقریباً 29 فیصد کم پایا گیا
  • یہ تعلق صرف کم وزن (باڈی ماس انڈیکس 18.5 سے کم) رکھنے والے بزرگوں میں نمایاں تھا
  • مچھلی، انڈے اور دودھ استعمال کرنے والوں کے امکانات گوشت خوروں جیسے ہی تھے
  • تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس سے علت و معلول کا حتمی ثبوت نہیں ملتا

بڑھاپے میں غذا سے متعلق تحقیق کیسے کی گئی

محققین نے چینی طویل عمری صحت سروے کے تحت 1998 میں 80 سال یا اس سے زائد عمر کے 5 ہزار 203 افراد کے اعداد و شمار استعمال کیے۔ تحقیق کے آغاز میں یہ تمام شرکا امراض قلب، ذیابیطس اور کینسر سے پاک تھے۔ 2018 تک ان کی صحت اور غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور سو سال کی عمر تک پہنچنے والوں کا ان افراد سے موازنہ کیا گیا جو اس عمر سے پہلے انتقال کر گئے۔

شرکا کو غذائی عادات کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا: مکمل سبزی خور، صرف نباتاتی خوراک والے، مچھلی کھانے والے، انڈے اور دودھ استعمال کرنے والے، اور گوشت خور۔ شانگھائی کی فودان یونیورسٹی کی محقق کائی یوئے وانگ اور ان کی ٹیم نے عمر، جنس، تعلیم اور طرز زندگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا۔

بڑھاپے میں غذا — بزرگ جوڑا صحت بخش سبزیاں کھاتے ہوئے
ماہرین کے مطابق بڑھاپے میں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک انتہائی اہم ہے

تحقیق کے اہم نتائج

غذائی عادت سو سال کی عمر کا امکان (تحقیق کے مطابق)
گوشت خور (متوازن خوراک) بنیادی معیار
مکمل سبزی خور تقریباً 19 فیصد کم امکان
صرف نباتاتی خوراک والے تقریباً 29 فیصد کم امکان
مچھلی، انڈے یا دودھ استعمال کرنے والے گوشت خوروں جتنا ہی امکان
صحت مند وزن رکھنے والے بزرگ خوراک سے کوئی واضح فرق نہیں

کم وزن رکھنے والے بزرگوں کے لیے خاص انتباہ

تحقیق کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ گوشت نہ کھانے اور طویل عمری کے درمیان منفی تعلق خاص طور پر کم وزن رکھنے والے بزرگ افراد میں دیکھا گیا۔ صحت مند وزن رکھنے والے افراد میں گوشت کھانے یا نہ کھانے کا یہ تعلق اتنا واضح نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی وزن اور مجموعی غذائی حالت بھی اہم عوامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں عضلاتی کمزوری، بھوک میں کمی اور غذائی ضروریات میں تبدیلی جیسے عوامل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مناسب پروٹین، وٹامن بی 12، کیلشیم اور وٹامن ڈی کا حصول عضلات کو برقرار رکھنے اور جسمانی کمزوری کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق مشاہداتی ہے، اس لیے اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ زیادہ گوشت کھانے سے عمر لازماً بڑھتی ہے۔ ان کے مطابق بڑھاپے میں غذائی ترجیحات بدل جاتی ہیں: جوانی میں طویل مدتی بیماریوں سے بچاؤ اہم ہوتا ہے جبکہ بڑھاپے میں عضلات برقرار رکھنا، وزن میں کمی روکنا اور ہر لقمے سے بھرپور غذائیت حاصل کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ جن بزرگوں نے سرخ یا سفید گوشت نہیں کھایا لیکن مچھلی، انڈے اور دودھ یا دیگر ڈیری مصنوعات اپنی خوراک کا حصہ بنائے رکھا، ان میں سو سال تک پہنچنے کا رجحان گوشت کھانے والوں سے نمایاں طور پر مختلف نہیں تھا۔ یعنی جسم کو مطلوبہ پروٹین اور غذائی اجزا صرف گوشت سے حاصل کرنا ضروری نہیں۔

نتیجہ

چینی تحقیق کا پیغام واضح ہے: بڑھاپے میں سخت غذائی پابندیاں خاص طور پر کمزور اور کم وزن بزرگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، اور متوازن و غذائیت سے بھرپور خوراک ہی طویل و صحت مند زندگی کی کنجی ہے۔ بزرگ افراد کو اپنی خوراک کے بارے میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے پہلے معالج یا غذائی ماہر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ صحت و تندرستی سے متعلق مزید مستند معلومات کے لیے وطن نیوز کا صحت و تندرستی کا صفحہ ملاحظہ کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

دنیا بھر میں ہر آٹھویں کینسر کی وجہ انفیکشن، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹصحت و تندرستی

دنیا بھر میں ہر آٹھویں کینسر کی وجہ انفیکشن، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ

عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں کینسر کے ہر آٹھویں کیس کی وجہ انفیکشنز ہیں، جن کا علاج یا ویکسین کے ذریعے تدارک ممکن ہے۔ یہ تحقیق بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیق برائے کینسر (IARC) نے شائع کی ہے جس میں 2024 میں سامنے آنے والے 2.3 ملین

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کاپ31 کے اعلیٰ سطحی موسمیاتی چیمپئن کا وعدہ: انتالیا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع، سب کی کاپ ہوگی
نمایاں خبر

کاپ31 کے اعلیٰ سطحی موسمیاتی چیمپئن کا وعدہ: انتالیا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع، سب کی کاپ ہوگی

کاپ31 کے اعلیٰ سطحی موسمیاتی چیمپئن سامد آغیرباش نے انتالیا میں سب کی کاپ کا وعدہ کیا ہے، جہاں ایک سو ستانوے ممالک کے ایک لاکھ سے زائد افراد متوقع ہیں، اور زیرو ویسٹ کاروبار کے لیے دس ارب ترک لیرا کے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔