LIVE
اہم خبر
ڈی پیکنگ ٹیکنالوجی سے امریکی اسٹورز میں خوراک کی ری سائیکلنگ میں 70 فیصد اضافہکاپ31 میں زیرو ویسٹ مرکزی ایجنڈا بن گیا، فضلے سے میتھین میں کمی کا ہدفکارلسبرگ کی تیسری سہ ماہی: چین میں کمزوری کے باوجود منافع کی پیش گوئی برقرارڈبلیو پی پی کی بحالی کی رفتار: سہ ماہی آمدنی میں کمی کم ہوئی، سی ای او پر اعتماد بڑھابرطانیہ کا بجٹ 2026: دو کروڑ گھرانوں کو توانائی کی مد میں سو پاؤنڈ کی ریلیفراشد خان کی تاریخ ساز کامیابی: مردوں کے ٹی ٹوئنٹی میں دو سو وکٹیں لینے والے پہلے بولرمصنوعی ذہانت کی کشمکش: ڈیپ سیک اور مون شاٹ پر اوپن اے آئی کے ماڈل سے تربیت کا الزامکاپ31 سے پہلے انطالیہ: وعدوں سے عمل تک کا سفرحنا جاوید کیس میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ، آصفہ بھٹو لواحقین سے ملاقات میں حمایت کا اعلانبرطانیہ میں سماجی رہائش کے 74,900 گھروں کی توانائی بہتری مکملاقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہکیپس کالج حاصل پور کی فرسٹ ایئر میں نمایاں کامیابی؛ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی مبارکبادتیز رفتار آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سینیٹ کی قرارداد منظورگھوسٹ اسکول: عدالت سے سینما تک، ایک بچی کی تعلیم کی کہانی ۳۰ اکتوبر کو پردے پرسست خنجراب سرحد پر زرعی تجارت کے لیے پاک چین گرین چینل کا آغازامریکہ میں قابل تجدید توانائی نے بجلی کا 28 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کر لیااقوام متحدہ کی رپورٹ: سمندر کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کمزور، سمندری کاربن انٹیلی جنس کی ضرورتتہران اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وضاحتبنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دیلرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گےڈی پیکنگ ٹیکنالوجی سے امریکی اسٹورز میں خوراک کی ری سائیکلنگ میں 70 فیصد اضافہکاپ31 میں زیرو ویسٹ مرکزی ایجنڈا بن گیا، فضلے سے میتھین میں کمی کا ہدفکارلسبرگ کی تیسری سہ ماہی: چین میں کمزوری کے باوجود منافع کی پیش گوئی برقرارڈبلیو پی پی کی بحالی کی رفتار: سہ ماہی آمدنی میں کمی کم ہوئی، سی ای او پر اعتماد بڑھابرطانیہ کا بجٹ 2026: دو کروڑ گھرانوں کو توانائی کی مد میں سو پاؤنڈ کی ریلیفراشد خان کی تاریخ ساز کامیابی: مردوں کے ٹی ٹوئنٹی میں دو سو وکٹیں لینے والے پہلے بولرمصنوعی ذہانت کی کشمکش: ڈیپ سیک اور مون شاٹ پر اوپن اے آئی کے ماڈل سے تربیت کا الزامکاپ31 سے پہلے انطالیہ: وعدوں سے عمل تک کا سفرحنا جاوید کیس میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ، آصفہ بھٹو لواحقین سے ملاقات میں حمایت کا اعلانبرطانیہ میں سماجی رہائش کے 74,900 گھروں کی توانائی بہتری مکملاقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہکیپس کالج حاصل پور کی فرسٹ ایئر میں نمایاں کامیابی؛ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی مبارکبادتیز رفتار آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سینیٹ کی قرارداد منظورگھوسٹ اسکول: عدالت سے سینما تک، ایک بچی کی تعلیم کی کہانی ۳۰ اکتوبر کو پردے پرسست خنجراب سرحد پر زرعی تجارت کے لیے پاک چین گرین چینل کا آغازامریکہ میں قابل تجدید توانائی نے بجلی کا 28 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کر لیااقوام متحدہ کی رپورٹ: سمندر کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کمزور، سمندری کاربن انٹیلی جنس کی ضرورتتہران اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وضاحتبنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دیلرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گے
صحت و تندرستی

بڑھاپے میں گوشت چھوڑنا مہنگا پڑ سکتا ہے، چینی تحقیق میں دلچسپ دعویٰ

News Desk 6شائع شدہ 3 اکتوبر، 2026
بڑھاپے میں گوشت چھوڑنا مہنگا پڑ سکتا ہے، چینی تحقیق میں دلچسپ دعویٰ
Share this story

چین میں کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق میں بڑھاپے میں غذا اور طویل عمری کے درمیان دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بڑھاپے میں گوشت مکمل طور پر چھوڑ دینا بعض صورتوں میں سو سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات کم کر سکتا ہے، خاص طور پر کم وزن رکھنے والے عمر رسیدہ افراد میں۔ یہ نتائج امریکی جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے ہیں اور ان پر العربیہ سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی بحث ہو رہی ہے۔

اہم نکات

  • چین کے طویل مدتی صحت و طویل عمری سروے کے 1998 سے 2018 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا
  • 80 سال یا اس سے زائد عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد شامل تھے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد گوشت خور تھے
  • مکمل سبزی خوروں میں سو سال کی عمر تک پہنچنے کا امکان تقریباً 19 فیصد کم جبکہ صرف نباتاتی خوراک والوں میں تقریباً 29 فیصد کم پایا گیا
  • یہ تعلق صرف کم وزن (باڈی ماس انڈیکس 18.5 سے کم) رکھنے والے بزرگوں میں نمایاں تھا
  • مچھلی، انڈے اور دودھ استعمال کرنے والوں کے امکانات گوشت خوروں جیسے ہی تھے
  • تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس سے علت و معلول کا حتمی ثبوت نہیں ملتا

بڑھاپے میں غذا سے متعلق تحقیق کیسے کی گئی

محققین نے چینی طویل عمری صحت سروے کے تحت 1998 میں 80 سال یا اس سے زائد عمر کے 5 ہزار 203 افراد کے اعداد و شمار استعمال کیے۔ تحقیق کے آغاز میں یہ تمام شرکا امراض قلب، ذیابیطس اور کینسر سے پاک تھے۔ 2018 تک ان کی صحت اور غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور سو سال کی عمر تک پہنچنے والوں کا ان افراد سے موازنہ کیا گیا جو اس عمر سے پہلے انتقال کر گئے۔

شرکا کو غذائی عادات کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا: مکمل سبزی خور، صرف نباتاتی خوراک والے، مچھلی کھانے والے، انڈے اور دودھ استعمال کرنے والے، اور گوشت خور۔ شانگھائی کی فودان یونیورسٹی کی محقق کائی یوئے وانگ اور ان کی ٹیم نے عمر، جنس، تعلیم اور طرز زندگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا۔

بڑھاپے میں غذا — بزرگ جوڑا صحت بخش سبزیاں کھاتے ہوئے
ماہرین کے مطابق بڑھاپے میں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک انتہائی اہم ہے

تحقیق کے اہم نتائج

غذائی عادت سو سال کی عمر کا امکان (تحقیق کے مطابق)
گوشت خور (متوازن خوراک) بنیادی معیار
مکمل سبزی خور تقریباً 19 فیصد کم امکان
صرف نباتاتی خوراک والے تقریباً 29 فیصد کم امکان
مچھلی، انڈے یا دودھ استعمال کرنے والے گوشت خوروں جتنا ہی امکان
صحت مند وزن رکھنے والے بزرگ خوراک سے کوئی واضح فرق نہیں

کم وزن رکھنے والے بزرگوں کے لیے خاص انتباہ

تحقیق کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ گوشت نہ کھانے اور طویل عمری کے درمیان منفی تعلق خاص طور پر کم وزن رکھنے والے بزرگ افراد میں دیکھا گیا۔ صحت مند وزن رکھنے والے افراد میں گوشت کھانے یا نہ کھانے کا یہ تعلق اتنا واضح نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی وزن اور مجموعی غذائی حالت بھی اہم عوامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں عضلاتی کمزوری، بھوک میں کمی اور غذائی ضروریات میں تبدیلی جیسے عوامل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مناسب پروٹین، وٹامن بی 12، کیلشیم اور وٹامن ڈی کا حصول عضلات کو برقرار رکھنے اور جسمانی کمزوری کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق مشاہداتی ہے، اس لیے اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ زیادہ گوشت کھانے سے عمر لازماً بڑھتی ہے۔ ان کے مطابق بڑھاپے میں غذائی ترجیحات بدل جاتی ہیں: جوانی میں طویل مدتی بیماریوں سے بچاؤ اہم ہوتا ہے جبکہ بڑھاپے میں عضلات برقرار رکھنا، وزن میں کمی روکنا اور ہر لقمے سے بھرپور غذائیت حاصل کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ جن بزرگوں نے سرخ یا سفید گوشت نہیں کھایا لیکن مچھلی، انڈے اور دودھ یا دیگر ڈیری مصنوعات اپنی خوراک کا حصہ بنائے رکھا، ان میں سو سال تک پہنچنے کا رجحان گوشت کھانے والوں سے نمایاں طور پر مختلف نہیں تھا۔ یعنی جسم کو مطلوبہ پروٹین اور غذائی اجزا صرف گوشت سے حاصل کرنا ضروری نہیں۔

نتیجہ

چینی تحقیق کا پیغام واضح ہے: بڑھاپے میں سخت غذائی پابندیاں خاص طور پر کمزور اور کم وزن بزرگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، اور متوازن و غذائیت سے بھرپور خوراک ہی طویل و صحت مند زندگی کی کنجی ہے۔ بزرگ افراد کو اپنی خوراک کے بارے میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے پہلے معالج یا غذائی ماہر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ صحت و تندرستی سے متعلق مزید مستند معلومات کے لیے وطن نیوز کا صحت و تندرستی کا صفحہ ملاحظہ کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںصحت و تندرستی

دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیں

امریکی ادارہ برائے امراض قابو نے 27 اکتوبر 2026 کو اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال تقریبا 97 لاکھ انفیکشن اور 50 ہزار 800 اموات کا سبب بنتے ہیں۔

مزید پڑھیں
زیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیقصحت و تندرستی

زیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیق

ایک نئی عالمی تحقیق نے خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا نتیجہ پیش کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو خواتین زیادہ دن جسمانی سرگرمی کرتی ہیں، ان میں درمیانی عمر کی تبدیلی کے دور کی علامات کم یا ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق ستاسی ممالک کی ایک ہزار آٹھ سو آٹھ

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ڈی پیکنگ ٹیکنالوجی سے امریکی اسٹورز میں خوراک کی ری سائیکلنگ میں 70 فیصد اضافہ
نمایاں خبر

ڈی پیکنگ ٹیکنالوجی سے امریکی اسٹورز میں خوراک کی ری سائیکلنگ میں 70 فیصد اضافہ

امریکی گروسری اسٹورز میں ڈی پیکنگ ٹیکنالوجی اپنانے سے لینڈ فل سے ری سائیکلنگ کی طرف موڑی جانے والی خوراک میں اوسطاً 70 فیصد اضافہ ہوا، ڈینالی کی 2025 رپورٹ۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔