LIVE
اہم خبر
ایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہےفورڈ کا 2028 تک عالمی فیکٹریوں سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدفکاپ31 انطالیہ مقام تیار: سابقہ ایکسپو گراؤنڈز میں 85 عالمی رہنماؤں کی آمد متوقعآرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخدنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈڈنمارک کی ڈیجیٹل ترقی سائبر حملوں کے سامنے کمزوری بھی بن گئی — وزیر کا انتباہزیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیقغیر محفوظ خوراک آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو بیمار کر رہی ہے — اقوام متحدہ کا انتباہاینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گےغریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشافگھانا کا کم کاربن ہاؤسنگ منصوبہ: 18 لاکھ 30 ہزار گھروں کی کمی پوری کرنے کی کوششدفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاریعلی ظفر کی پاکستانی کرائم سیریز میں واپسی: ہمایما ملک، فیروز خان اور سونیا حسین بھی کاسٹ میں شاملمہاراشٹر ہائبرڈ قابل تجدید منصوبے کے لیے 750 کروڑ روپے کی مالی معاونت2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر، کسانوں کو ریلیف کی امیداقوام متحدہ نے ماؤں اور بچوں کے تحفظ کے لیے گرمی سے صحت کے خطرات کے پہلے اشارے جاری کر دیےگوادر میں سیکیورٹی آپریشن کے بعد امن بحال، 10 دہشت گرد مارے گئےایسپن یوتھ ایمبیسیڈر گرانٹ: نوجوانوں کے موسمیاتی منصوبوں کے لیے 1500 ڈالر تک کی معاونتفیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزمایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہےفورڈ کا 2028 تک عالمی فیکٹریوں سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدفکاپ31 انطالیہ مقام تیار: سابقہ ایکسپو گراؤنڈز میں 85 عالمی رہنماؤں کی آمد متوقعآرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخدنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈڈنمارک کی ڈیجیٹل ترقی سائبر حملوں کے سامنے کمزوری بھی بن گئی — وزیر کا انتباہزیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیقغیر محفوظ خوراک آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو بیمار کر رہی ہے — اقوام متحدہ کا انتباہاینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گےغریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشافگھانا کا کم کاربن ہاؤسنگ منصوبہ: 18 لاکھ 30 ہزار گھروں کی کمی پوری کرنے کی کوششدفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاریعلی ظفر کی پاکستانی کرائم سیریز میں واپسی: ہمایما ملک، فیروز خان اور سونیا حسین بھی کاسٹ میں شاملمہاراشٹر ہائبرڈ قابل تجدید منصوبے کے لیے 750 کروڑ روپے کی مالی معاونت2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر، کسانوں کو ریلیف کی امیداقوام متحدہ نے ماؤں اور بچوں کے تحفظ کے لیے گرمی سے صحت کے خطرات کے پہلے اشارے جاری کر دیےگوادر میں سیکیورٹی آپریشن کے بعد امن بحال، 10 دہشت گرد مارے گئےایسپن یوتھ ایمبیسیڈر گرانٹ: نوجوانوں کے موسمیاتی منصوبوں کے لیے 1500 ڈالر تک کی معاونتفیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
Climate

گھانا کا کم کاربن ہاؤسنگ منصوبہ: 18 لاکھ 30 ہزار گھروں کی کمی پوری کرنے کی کوشش

News Desk 6شائع شدہ 23 اکتوبر، 2026
گھانا کا کم کاربن ہاؤسنگ منصوبہ: 18 لاکھ 30 ہزار گھروں کی کمی پوری کرنے کی کوشش
Share this story

گھانا نے اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک ایسا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت مقامی اور کم کاربن مواد سے سستے مکانات بنائے جائیں گے۔ ملک میں تقریباً 18 لاکھ 30 ہزار مکانات کی کمی ہے، اور یہ منصوبہ اس کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مکانات کی تعمیر کے موسمیاتی نقصان کو بھی کم کرنے کی کوشش ہے۔ اس منصوبے کا اعلان اس ہفتے دارالحکومت اکرا میں ایک تقریب اور متعلقہ دستاویزات کی توثیقی ورکشاپ میں کیا گیا۔

اس منصوبے کا نام گھانا کی تعمیراتی دنیا کو پائیدار مواد کے ذریعے بدلنے کا مظاہرتی منصوبہ ہے۔ اس میں گھانا کی وزارت برائے تعمیرات، رہائش اور آبی وسائل کے ساتھ اقوام متحدہ کے تین ادارے شریک ہیں: اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام، اقوام متحدہ کا منصوبہ جاتی خدمات کا دفتر، اور اقوام متحدہ کا انسانی بستیوں کا پروگرام۔ اس کی مالی معاونت جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی کر رہی ہے۔

اکرا میں کیا شروع کیا گیا

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے تعمیرات، رہائش اور آبی وسائل احمد ابراہیم نے کہا کہ مکانات کی کمی گھانا کے لیے ایک بڑا ترقیاتی چیلنج بھی ہے اور تعمیر کے طریقے بدلنے کا موقع بھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تعمیراتی مواد کے بارے میں آج کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں تک ملک کے کاربن اخراج پر اثر ڈالیں گے، کیونکہ عمارتیں 100 سال سے زیادہ عرصے تک استعمال میں رہ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ کی مستقبل کی زیادہ تر عمارتیں ابھی تعمیر ہونا باقی ہیں، اس لیے کم کاربن مواد کا انتخاب نسلوں تک اخراج کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے نتائج حاصل کرنے کے لیے کل کے پرانے طریقے پر چلنا ممکن نہیں۔

یہ منصوبہ مقامی سطح پر دستیاب کم کاربن مواد کو فروغ دے گا، ملکی تعمیراتی صنعت کو مضبوط کرے گا اور سستے اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں مضبوط مکانات کی تعمیر میں مدد دے گا۔ اس میں مقامی حیاتیاتی مواد اور جہاں تکنیکی طور پر مناسب ہو، روایتی سیمنٹ اور فولاد کے متبادل شامل ہیں۔

مکان کا مواد کیوں اہم ہے

روایتی تعمیر میں زیادہ تر درآمد شدہ اور زیادہ توانائی خرچ کرنے والے مواد استعمال ہوتے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ اس انحصار نے گھانا میں مکانات اور کرایوں کی قیمت بڑھا دی ہے۔ مقامی کم کاربن مواد کی طرف منتقلی اس لیے موسمیاتی اقدام بھی ہے اور سستے مکان کا راستہ بھی: مقامی مواد سے تعمیر کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور مکان زیادہ لوگوں کی پہنچ میں آ سکتا ہے۔

منصوبے کا طریقہ کار تین اصولوں پر مبنی ہے: غیر ضروری تعمیر سے اجتناب، زیادہ پائیدار تعمیراتی طریقوں کی طرف تبدیلی، اور مواد و عمل کی ماحولیاتی کارکردگی میں بہتری۔ اس کے تحت مواد کی ذمہ دارانہ فراہمی اور پائیدار تعمیراتی اوزاروں کی تیاری کا ایک ڈھانچہ بھی بنایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے منصوبہ جاتی خدمات کے دفتر کے گھانا دفتر کی سربراہ لنڈا اگبیسی نے کہا کہ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ گھانا رہائش کی ضرورت پوری کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کا جواب بھی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں عمارت کی پوری زندگی کا جائزہ لیا جائے گا، یعنی تعمیر سے لے کر استعمال کے اختتام تک ماحولیاتی اور معاشی اثرات کو دیکھا جائے گا، نہ کہ صرف ابتدائی لاگت کو۔

مکانات، روزگار اور ضلعی ہاؤسنگ پروگرام

مظاہرتی منصوبے کو ضلعی ہاؤسنگ پروگرام کے ذریعے آزمایا جائے گا تاکہ مقامی حالات کے مطابق قابل توسیع حل سامنے آ سکیں۔ کم کاربن نمونہ مکانات کے لیے ایک تکنیکی و معاشی جائزہ لیا جا رہا ہے جس میں ان کی تکنیکی اور مالی موزونیت، ضوابط کی پابندی اور بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی گنجائش دیکھی جا رہی ہے۔ یہ جائزہ قانونی دستاویز نمبر 2411 کے مطابق ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے قومی منصوبہ جات کے رابطہ کار تھامس کانکم ایڈجی نے کہا کہ گھانا کو کم کاربن اور چکر دار تعمیر کی طرف منتقلی تیز کرنی چاہیے۔ منصوبے میں تحقیق، متعلقہ فریقوں سے مشاورت، تجرباتی اقدامات اور تکنیکی تجزیہ شامل ہے تاکہ چکر دار معیشت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

وزیر نے کہا کہ اس منصوبے سے مقامی صنعتیں فروغ پائیں گی اور معماروں، بڑھئیوں اور ٹائلوں کے کاریگروں کے لیے سبز روزگار پیدا ہوں گے، جس سے نوجوانوں کی بے روزگاری کم کرنے، سرمایہ کاری کو مقامی سطح پر رکھنے اور بہتر منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ ورکشاپ میں شرکا نے پائیدار مواد سے متعلق نتائج، مالی تجزیے اور مقامی کم کاربن مواد کی فہرست کے مسودے پر غور کیا جو بلیو الائنس نے تیار کیا ہے۔ ان کی آراء کو حتمی منظوری سے پہلے دستاویزات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس منصوبے کا آغاز پہلے جون 2026 میں ہونا تھا لیکن گھانا اور پڑوسی ممالک میں شدید سیلاب کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ اس واقعے نے موسمیاتی اقدام کی فوری ضرورت کو واضح کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام گھانا کے وسیع موسمیاتی مقاصد اور بین الاقوامی وعدوں کی حمایت کرتا ہے، جن میں پیرس معاہدہ اور اقوام متحدہ کا 2030 تک پائیدار ترقی کا ایجنڈا شامل ہیں۔

عملی زندگی میں پائیدار رہائش کا مطلب

گھانا کا منصوبہ مکانات کے بارے میں ہے، لیکن اس کی منطق روزمرہ کی پائیدار زندگی پر بھی لاگو ہوتی ہے: سب سے زیادہ موسمیاتی دوست مکان اکثر وہی ہوتا ہے جو قریبی مواد سے بنا ہو، کم توانائی سے ٹھنڈا اور آرام دہ رہے، اور طویل عرصے تک چلے۔ گھروں کے لیے بھی یہی اصول کام آتے ہیں: پائیدار اور مرمت کے قابل اشیا کا انتخاب، فضلہ کم کرنا، گھر میں پانی اور بجلی بچانا، اور مرمت کے وقت مقامی و کم نقصان دہ مواد کو ترجیح دینا۔

لیکن یہ سب حکومتی اقدام کی جگہ نہیں لے سکتا۔ گھانا کی مثال پائیدار زندگی کا دوسرا پہلو دکھاتی ہے: ایسا نظام جس میں سبز انتخاب سستا انتخاب بھی بن جائے۔ جب مقامی مواد، مقامی ہنر مند اور واضح معیار اکٹھے ہو جائیں تو کسی خاندان کو سستے مکان اور موسمیاتی دوست مکان کے درمیان انتخاب نہیں کرنا پڑتا۔

سبز دعووں کو پرکھنے کے بارے میں وطن نیوز کی کوریج یہاں پڑھیں: ماحولیاتی لیبلوں پر اعتماد سے متعلق خبر۔

اہم نکات

  • گھانا میں مکانات کی کمی کا تخمینہ تقریباً 18 لاکھ 30 ہزار ہے۔
  • یہ منصوبہ گھانا کی ہاؤسنگ وزارت، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام، منصوبہ جاتی خدمات کے دفتر اور انسانی بستیوں کے پروگرام کی شراکت ہے، جس کی مالی معاونت جرمنی کی ترقیاتی وزارت کر رہی ہے۔
  • اس میں مقامی کم کاربن مواد کو فروغ دیا جائے گا، جن میں حیاتیاتی مواد اور جہاں مناسب ہو، سیمنٹ و فولاد کے متبادل شامل ہیں۔
  • اس کا طریقہ کار اجتناب، تبدیلی اور بہتری پر مبنی ہے، اور عمارت کی پوری زندگی کے اثرات کو دیکھا جائے گا۔
  • ضلعی ہاؤسنگ پروگرام کے لیے کم کاربن نمونہ مکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جو قانونی دستاویز نمبر 2411 کے مطابق ہے۔

عمومی سوالات

گھانا کا نیا پائیدار ہاؤسنگ منصوبہ کیا ہے؟

یہ اقوام متحدہ کے تعاون سے چلنے والا ایک مظاہرتی منصوبہ ہے جو گھانا میں سستے اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں مضبوط مکانات کے لیے مقامی کم کاربن تعمیراتی مواد کو فروغ دیتا ہے۔

گھانا کو 18 لاکھ 30 ہزار مزید مکانات کیوں چاہییں؟

یہ گھانا میں مکانات کی کمی کا تخمینہ ہے جو منصوبے کے آغاز پر بتایا گیا۔ تیزی سے شہری آبادی بڑھنے اور درآمد شدہ مہنگے تعمیراتی مواد نے اس خلا کو پورا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

کم کاربن تعمیراتی مواد کیا ہوتے ہیں؟

ایسے مواد جن کی تیاری میں روایتی مواد کے مقابلے میں کم گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوں۔ اس منصوبے میں مقامی مواد، حیاتیاتی مصنوعات اور جہاں تکنیکی طور پر مناسب ہو، روایتی سیمنٹ و فولاد کے متبادل شامل ہیں۔

اس منصوبے کو کیسے آزمایا جائے گا؟

ضلعی ہاؤسنگ پروگرام سے منسلک مظاہرتی کام کے ذریعے، جس میں کم کاربن نمونہ مکانات کا جائزہ، متعلقہ فریقوں کی آراء اور مقامی مواد کی فہرست شامل ہے جو معماروں، محققین اور کاریگروں کی رہنمائی کرے گی۔

عام گھرانوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اگر یہ طریقہ بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو مقامی مواد سے بنے مکانات کی تعمیر سستی ہو سکتی ہے، مقامی روزگار اور ہنر کو فروغ مل سکتا ہے، اور مکان کی طویل زندگی کے دوران اس کا موسمیاتی اثر کم ہو سکتا ہے۔

ذرائع: اکرا میں آغاز کی کوریج گھانا گارڈین، ٹرتھ ٹی وی نیوز اور وائز ووٹر کی رپورٹوں پر مبنی ہے؛ ہاؤسنگ شراکت کا پس منظر گھانا حکومت اور اقوام متحدہ کے انسانی بستیوں کے پروگرام کے بیان سے لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

فورڈ کا 2028 تک عالمی فیکٹریوں سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدفماحولیات

فورڈ کا 2028 تک عالمی فیکٹریوں سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدف

فورڈ زیرو ویسٹ 2028 اب دنیا بھر میں اس کار ساز کمپنی کی فیکٹریوں کا اعلان شدہ ہدف ہے۔ 21 اکتوبر 2026 کو شائع شدہ اپ ڈیٹ میں فورڈ کے سینئر ماحولیاتی انجینئر ڈین ایش نے کہا کہ کمپنی 2028 تک اپنے عالمی آپریشنز میں مینوفیکچرنگ سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدف رکھتی

مزید پڑھیں
کاپ31 انطالیہ مقام تیار: سابقہ ایکسپو گراؤنڈز میں 85 عالمی رہنماؤں کی آمد متوقعماحولیات

کاپ31 انطالیہ مقام تیار: سابقہ ایکسپو گراؤنڈز میں 85 عالمی رہنماؤں کی آمد متوقع

کاپ31 انطالیہ مقام دنیا کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انطالیہ کے علاقے اکسو میں سابقہ ایکسپو 2016 کے میدانوں کو 9 سے 20 نومبر 2026 تک اقوام متحدہ کی 31 ویں موسمیاتی کانفرنس کے لیے ڈھالا گیا ہے، اور 23 اکتوبر کو وزارتی معائنے میں اجتماع کی وسعت کی تصدیق ہوئی: 85 عالمی رہنماؤں

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہے
نمایاں خبر

ایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہے

2019 سے 47 ارب سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں اور 50 ارب کا ہدف قریب ہے، لیکن تربیت اور پانی ہی فیصلہ کریں گے کہ گرین لیگیسی دیرپا جنگل بنے گی یا نہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں
جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا
گرین جرنلزم

جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا

ارتھ جرنلزم نیٹ ورک (ای جے این) اپنی جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے — ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دو روزہ ورچوئل تربیتی پروگرام، جس میں تقریباً تیس صحافی شرکت کریں گے۔ یہ ورکشاپ فارسٹ گورننس میڈیا انیشی ایٹو کے تحت اور برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقیاتی فنڈنگ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔