امریکہ نے ایران کے خفیہ تیل بیڑے کی مدد کرنے کے الزام میں انڈیا کے دو شہریوں اور ان سے وابستہ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نیٹ ورک جعلی جھنڈوں اور جعلی بحری سرٹیفکیٹ کے ذریعے ایرانی تیل بردار جہازوں کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد دے رہا تھا۔
یہ کارروائی بدھ چار نومبر کو اعلان کی گئی اور اسے امریکہ کی ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم کی تازہ ترین کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- امریکہ نے بدھ چار نومبر کو چنڈی گڑھ سے چلنے والے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کیں
- مرکزی ملزمان سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد ہیں
- الزام ہے کہ نیٹ ورک نے ایرانی جہازوں کو جعلی جھنڈے اور جعلی بحری سرٹیفکیٹ فراہم کیے
- دو مزید انڈین شہری اور نو کمپنیاں بھی پابندیوں کی زد میں آ گئیں
- ترکی کی کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز پر ایرانی ایوی ایشن کی مدد کا الزام لگایا گیا
- یہ کارروائی آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت کی گئی
پابندیوں کا ہدف کون بنا؟
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق پابندیوں کا مرکزی ہدف انڈیا کے شہر چنڈی گڑھ میں قائم ایک نیٹ ورک ہے جسے سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد چلا رہے تھے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک کئی برس سے مختلف ملکوں کی بحری انتظامیہ کو دھوکا دے کر جعلی جھنڈے جاری کرنے والے ادارے اور جعلی بحری درجہ بندی کی سوسائٹیاں قائم کر رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ایرانی جہازوں کو جعلی پرچموں تلے سفر کرنے اور جعلی بحری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مدد دی، جن میں ایرانی فوج اور اس کے اتحادیوں کے لیے تیل لے جانے والے جہاز بھی شامل تھے۔ پابندیوں میں شرما کی کمپنی اوشینیک ٹیکنالوجیز انڈیا اور آریہ ورت شپ مینجمنٹ سمیت نو اداروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
اسی کارروائی میں ترکی میں قائم کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ امریکی محکمے کا الزام ہے کہ یہ کمپنی ترکی آنے جانے والی ایرانی ایئر لائنز کو زمینی خدمات فراہم کر رہی تھی، جن میں ایران ایئر ٹور، ساہا، سپہران، وارش، تابان اور عطا شامل ہیں۔
جعلی جھنڈوں کا جال کیسے کام کرتا تھا؟
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ سرگرمیاں کم از کم سن 2014 سے جاری تھیں، جب اس نیٹ ورک نے کیریبین ملک ڈومینیکا کی جھنڈا جاری کرنے والی اتھارٹی کی نقالی کی کوشش کی تھی۔ بعد میں اس نے گیانا سے لے کر ایسواٹینی اور لاؤس تک تقریباً ہر براعظم کے ملکوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے جعلی رجسٹریاں قائم کیں۔
بیان کے مطابق سن 2023 میں شرما نے سنگاپور میں ایسواٹینی میری ٹائم افیئرز اور انٹرنیشنل شپ رجسٹری کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ ایسواٹینی کے حکام نے اس ادارے سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ ادارہ ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو جھنڈے کی خدمات فراہم کرتا رہا، جن میں پابندیوں کا شکار جہاز پنگ شن بھی شامل تھا۔
امریکی حکام نے کئی جہازوں کے نام بھی لیے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک سے منسلک تھے، جن میں لٹافہ، بائنری سٹار اور ویرا شامل ہیں۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بائیس اپریل سن 2026 کو امریکی افواج نے جہاز میجسٹک ایکس کو قبضے میں لیا تھا، جو اس وقت جعلی گیانا جھنڈے تلے ایرانی تیل لے جا رہا تھا۔

آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کیا ہے؟
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت عائد کی گئی ہیں، جس کا اعلان چوبیس اگست سن 2026 کو کیا گیا تھا۔ اس مہم کا مقصد ایران کی معیشت کی باقی ماندہ شہ رگوں کو کاٹنا اور تیل کی اسمگلنگ، پابندیوں سے بچنے اور رقم کی منتقلی میں ملوث نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔
بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ جیسا کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں، آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کہاں ہیں اور ہم ان لوگوں پر پابندیاں عائد کریں گے جو ایرانی حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، چاہے وہ زمین، سمندر یا ہوا کے ذریعے ہو۔
یہ پابندیاں صدارتی حکم نامہ 13902 کے تحت عائد کی گئی ہیں، جو ایرانی معیشت کے اہم شعبوں، جن میں پٹرولیم، پیٹروکیمیکل اور ایوی ایشن شامل ہیں، کو نشانہ بناتا ہے۔ امریکہ نے اگست سے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مسلسل وسیع کیا ہے اور رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے خفیہ بیڑے کی باقیات پر مشتمل سترہ جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ پابندیاں امریکی محکمہ خزانہ کے نتائج کی بنیاد پر عائد کی گئی ہیں اور یہ بذات خود کسی فوجداری سزا کا اعلان نہیں ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی اور توانائی کی تجارت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید عالمی خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔
































