ملیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2035 تک اپنے 53 فیصد کچرے کو لینڈ فل سے بچا کر اسے دوبارہ کارآمد بنائے گی۔ یہ اعلان صفر فضلہ کے خواب کی جانب ملک کے عزم کی تازہ ترین علامت ہے۔
اہم نکات
- وزیرِ ہاؤسنگ و لوکل گورنمنٹ نگا کور منگ نے 5 اکتوبر 2026 کو دیوان راکیت (پارلیمنٹ) کے زبانی سوال کے سیشن میں یہ ہدف پیش کیا۔
- گردشی معیشت کا خاکہ برائے ٹھوس فضلہ ملیشیا 2025-2035 کے تحت لینڈ فل سے بچائے گئے کچرے کا تناسب: 2025 میں 42 فیصد، 2030 تک 48 فیصد اور 2035 تک 53 فیصد ہو گا۔
- ملیشیا میں 2024 کے دوران تقریباً 14.5 ملین ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوا جو 2035 تک بڑھ کر 17 ملین ٹن ہو سکتا ہے؛ کچرے کا تقریباً 40 فیصد خوراک کا کچرا ہے۔
- قومی ری سائیکلنگ کی شرح 2021 میں 31.52 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 37.9 فیصد تک پہنچ گئی، تاہم وزیر کے بقول ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
- «ٹریش ٹو کیش» پروگرام نے جنوری سے اگست 2026 کے دوران 7.86 ملین کلو گرام ری سائیکل ہونے والا مواد جمع کیا جس کی فروخت سے 2.85 ملین رنگٹ سے زائد حاصل ہوئے۔
خطی ماڈل سے گردشی معیشت کی جانب
دیوان راکیت میں زبانی سوال کے جواب میں وزیر نگا کور منگ نے کہا کہ ملیشیا «استعمال کرو اور پھینک دو» کے خطی ماڈل سے آگے بڑھ کر ایک گردشی معیشت کی طرف جا رہا ہے جس کی توجہ کچرے میں کمی، دوبارہ استعمال، ری سائیکلنگ اور وسائل کی بحالی پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کی بنیاد وزارت کی جانب سے شروع کردہ گردشی معیشت کا خاکہ برائے ٹھوس فضلہ ملیشیا 2025-2035 ہے، جس میں لینڈ فل سے بچائے جانے والے کچرے کے اہداف واضح طور پر طے کر دیے گئے ہیں۔
صفر فضلہ کی سمت میں اہم اقدامات
حکومت نے اس ہدف کے حصول کے لیے کئی مربوط اقدامات کیے ہیں۔ توسیعی پیداواری ذمہ داری (ای پی آر) کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی ری سائیکلنگ مہم — جس کا موضوع «کچرے سے وسائل تک» ہے — عوام میں شعور اجاگر کر رہی ہے۔ یک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے خلاف مہم بھی جاری ہے۔

ملک بھر کے شاپنگ سینٹروں کے لیے بتدریج ری سائیکلنگ سہولتیں (ایف پی ایس) فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، اور یہ کاروباری احاطوں کے لائسنس کی منظوری یا تجدید کی شرط ہے۔ اگست 2026 تک ٹھوس فضلہ و عوامی صفائی انتظام ایکٹ 2007 کے تحت آنے والی ریاستوں میں ایسی 6,256 سہولتیں قائم تھیں۔
ٹھوس فضلہ انتظام و عوامی صفائی کارپوریشن (ایس ڈبلیو کارپ) گھرانوں اور تجارتی و صنعتی شعبوں میں منبع پر کچرے کی علیحدگی کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ قومی گردشی معیشت کونسل (این سی ای سی) وزارتوں، مقامی حکام اور صنعت کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔
اہداف کی جدول
| سال | لینڈ فل سے بچایا گیا کچرا | حیثیت |
|---|---|---|
| 2025 | 42 فیصد | بنیادی ہدف |
| 2030 | 48 فیصد | درمیانی ہدف |
| 2035 | 53 فیصد | حتمی ہدف |
اب تک کے نتائج
نتائج بھی حوصلہ افزا ہیں۔ «ٹریش ٹو کیش» پروگرام کے تحت جنوری سے اگست 2026 کے دوران 7.86 ملین کلو گرام ری سائیکل ہونے والا مواد جمع کیا گیا جس کی فروخت سے 2.85 ملین رنگٹ سے زائد حاصل ہوئے۔ 17 فعال صفر فضلہ کمیونٹی مراکز نے 111,504 کلو گرام ری سائیکل ہونے والا مواد جمع کیا، جبکہ 1,680 اسکولوں کے درمیان ہونے والے ری سائیکلنگ مقابلے میں 4.95 ملین کلو گرام مواد جمع ہوا جس سے 2.98 ملین رنگٹ حاصل ہوئے۔

ماحولیات سے متعلق مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔
نتیجہ
ملیشیا کا 2035 تک 53 فیصد کچرے کو لینڈ فل سے بچانے کا ہدف نہ صرف ماحولیات کے لیے اہم ہے بلکہ یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ منظم پالیسی، عوامی شراکت اور گردشی معیشت کے ذریعے صفر فضلہ کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔
عمومی سوالات
ملیشیا نے کچرے کے حوالے سے کیا ہدف مقرر کیا ہے؟
ملیشیا نے 2035 تک 53 فیصد کچرے کو لینڈ فل سے بچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ 2030 تک یہ تناسب 48 فیصد اور 2025 میں 42 فیصد ہے۔
یہ اعلان کس نے اور کب کیا؟
وزیرِ ہاؤسنگ و لوکل گورنمنٹ نگا کور منگ نے 5 اکتوبر 2026 کو دیوان راکیت (پارلیمنٹ) میں زبانی سوال کے جواب میں یہ اعلان کیا۔
«ٹریش ٹو کیش» پروگرام کیا ہے؟
یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس کے تحت عوام ری سائیکل ہونے والا مواد جمع کر کے فروخت کرتے ہیں؛ جنوری سے اگست 2026 کے دوران اس سے 7.86 ملین کلو گرام مواد جمع ہوا اور 2.85 ملین رنگٹ سے زائد کی آمدن ہوئی۔
ملیشیا میں کتنا کچرا پیدا ہوتا ہے؟
2024 میں تقریباً 14.5 ملین ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوا جو 2035 تک بڑھ کر 17 ملین ٹن ہو سکتا ہے؛ اس کا تقریباً 40 فیصد خوراک کا کچرا ہے۔




















