برازیل کے صدر لوییز اناسیو لولا دا سلوا نے اتوار کے انتخابات سے قبل ایک بڑے جلسے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ملک کو دائیں بازو کے فاشزم کے عروج سے بچانے والے واحد شخص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کھڑے نہ ہوں تو ان کے حریف کے خاندان کی حکومت میں واپسی آسان ہوگی۔
- لولا دا سلوا نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک کو فاشزم سے بچانے کے لیے واحد رکاوٹ ہیں۔
- انہوں نے ریو ڈی جنیرو میں ایک بڑے انتخابی جلسے کی قیادت کی۔
- انتخابات کو برازیل کی جمہوریت کے لیے دہائیوں میں سب سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
- لولا نے کہا کہ یہ ان کے اور ‘بربریت’ کے درمیان انتخاب ہے۔
انتخابات کا تناظر
برازیل میں ہونے والے انتخابات کو ملک کی جمہوریت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر لولا دا سلوا، جو ایک 80 سالہ بائیں بازو کے رہنما ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے دائیں بازو کے حریف کے خاندان کو اقتدار میں واپس آنے سے روکنے کے لیے واحد امید ہیں۔
‘میں ہی انہیں روک سکتا ہوں’
لولا نے ایک مقبول پوڈ کاسٹ ‘فلو’ پر بات کرتے ہوئے کہا، “اگر میں ان فاشسٹوں کے خلاف کھڑا نہ ہوتا تو وہ آسانی سے ایک اور الیکشن جیت جاتے۔ میں ہی وہ ہوں جو ان کے راستے میں کھڑا ہوں۔” انہوں نے مزید کہا، “یہ یا تو میں ہوں، یا پھر بربریت۔”
جمہوریت کی جنگ
لولا نے ریو ڈی جنیرو کے دو تاریخی مقامات کے درمیان ایک ‘فتح مارچ’ کی قیادت کی، جو 1964-1985 کی فوجی آمریت کے دوران برازیل کی جمہوریت کی لڑائی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، “داؤ پر صرف ایک آدمی کی فتح نہیں، بلکہ ایک خیال کی فتح ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے۔”
تاریخی مقامات پر مارچ
یہ مارچ کینڈیلاریا چرچ سے شروع ہوا، جہاں 1984 میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے براہ راست صدارتی انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ لولا، جو اس وقت ایک ابھرتے ہوئے سیاستدان تھے، نے بھی اس تاریخی مظاہرے میں تقریر کی تھی۔ مارچ کا اختتام سینی لینڈیا میں ہوا، جو 1968 میں ‘مارچ آف دی ہنڈرڈ تھاؤزینڈ’ کے نام سے مشہور جمہوریت کے حامی مظاہرے کا منظر تھا۔
جمہوریت کا تحفظ
لولا نے مارچ کے دوران اپنے حامیوں کو متحرک کرتے ہوئے کہا، “یا تو ہم جمہوریت کو مضبوط کریں گے، یا ہم اسے کھو دیں گے۔”
بیرونی مداخلت کے خدشات
لولا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “کوئی بھی غیر ملکی برازیل کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا”۔ یہ بیان مبینہ طور پر اس دعوے کے جواب میں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اقتصادی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انتخابی صورتحال
انتخابات سے قبل کے سروے لولا کو ان کے حریف پر معمولی برتری دکھا رہے ہیں۔ ان کے حریف کے والد، سابق صدر جائر بولسونارو، کو 27 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس میں ایک ناکام بغاوت کی سازش بھی شامل ہے۔
نتیجہ
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے ملک کو فاشزم کے خطرے سے بچانے کے لیے اپنی امیدواری کو ضروری قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بڑے انتخابی جلسے میں اپنے حامیوں کو متحرک کیا اور ملک کی جمہوریت کے مستقبل کو داؤ پر قرار دیا۔ یہ انتخابات برازیل کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں بائیں بازو اور دائیں بازو کی نظریات کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
لولا نے بیرونی مداخلت کے خدشات کو بھی اجاگر کیا اور جمہوریت کے تحفظ پر زور دیا۔ انتخابی نتائج جو بھی ہوں، یہ واضح ہے کہ برازیل ایک نازک سیاسی دور سے گزر رہا ہے، اور آنے والے انتخابات ملک کے سیاسی اور سماجی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔


























