تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ستمبر 2026 کے آخری ہفتے میں آنے والا بینکاک سیلاب پندرہ سالوں کا بدترین سیلاب قرار پایا ہے۔ تقریباً 48 گھنٹوں میں قریب 300 ملی میٹر بارش نے شہر کے نکاسی آب کے نظام کو مغلوب کر دیا، جس کے بعد 26 ستمبر کو شہر کے تمام 50 اضلاع میں سیلابی آفت کا اعلان کرنا پڑا۔ اگرچہ موسلا دھار بارشیں تھم گئی ہیں، حکام خبردار کر رہے ہیں کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔
فیکٹ باکس
- واقعہ: بینکاک سیلاب 2026 — تھائی دارالحکومت میں ریکارڈ مون سون بارشیں
- بارش: 24 تا 27 ستمبر کے دوران تقریباً 48 گھنٹوں میں قریب 300 ملی میٹر؛ یکم تا 25 ستمبر کے دوران 487 ملی میٹر بمقابلہ 269 ملی میٹر اوسط
- اعلان: 26 ستمبر کو تمام 50 اضلاع میں سیلابی آفت کا اعلان؛ 29 ستمبر کو 21 اضلاع سے اعلان واپس، 29 اضلاع میں اب بھی ایمرجنسی
- ہلاکتیں: بینکاک پوسٹ (30 ستمبر) کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 40؛ محکمہ آفات سے بچاؤ کے مطابق 31 صوبوں میں کم از کم 24
- متاثرین: 31 صوبوں اور بینکاک میں تقریباً 29 لاکھ افراد (10.4 لاکھ گھرانے)؛ دارالحکومت میں 3,29,000 گھرانے
- پناہ گاہیں: بینکاک میں تقریباً 6,000 افراد 234 امدادی مراکز میں منتقل
سیلاب کیسے آیا: بینکاک سیلاب کے پیچھے 48 گھنٹوں کی موسلا دھار بارش
ایک سست کم دباؤ کے نظام اور موسمی مون سون کی لہر کے ٹکراؤ نے 24 تا 27 ستمبر کے دوران بینکاک پر غیر معمولی بارش برسائی — بعض علاقوں میں 320 ملی میٹر تک، یعنی صرف 44 گھنٹوں میں ستمبر کی اوسط بارش کے برابر۔ گورنر چاڈچارٹ سٹی پنت کی زیر قیادت بینکاک میٹروپولیٹن ایڈمنسٹریشن نے پہلے تین اضلاع اور پھر 26 ستمبر کو تمام 50 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا، کیونکہ نہریں بھر گئیں اور پمپنگ اسٹیشن اپنی 1,200 کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی زیادہ سے زیادہ مشترکہ صلاحیت پر چلنے لگے۔
پیر کے روز اسکول بند کر دیے گئے اور سرکاری ملازمین کو سڑکوں سے ٹریفک کم رکھنے کے لیے گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم انوتین چارن ویراکل نے لندن کا دورہ مختصر کر کے 26 ستمبر کو ہنگامی ٹیلی کانفرنس کی صدارت کی اور اگلی صبح بینکاک واپس پہنچے۔ 29 ستمبر کو 21 اضلاع سے آفت کا اعلان واپس لے لیا گیا، مگر 29 اضلاع میں کھڑا پانی نہ نکلنے کے باعث ایمرجنسی برقرار ہے۔

سیلاب زدہ علاقے سے کشتی میں نکلتے رہائشی؛ بینکاک میں تقریباً 6,000 افراد 234 امدادی مراکز میں منتقل کیے گئے۔ تصویر: وطن نیوز
ہلاکتیں اور نقل مکانی
ہلاکتوں کے اعداد مختلف ذرائع میں مختلف ہیں: محکمہ آفات سے بچاؤ کے مطابق اکتوبر کے آغاز تک 31 صوبوں میں کم از کم 24 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ بینکاک پوسٹ کے مطابق 30 ستمبر تک ملک بھر میں تعداد تقریباً 40 تھی۔ دارالحکومت کے جنوب میں ساموت پراکان سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں آٹھ افراد ہلاک ہوئے؛ سا کائو میں چھ اور بینکاک میں چار ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
بنگ کاپی ضلع کا کھلونگ چان فلیٹ ہاؤسنگ کمپلیکس اس آفت کی علامت بن گیا: 30 عمارتوں پر مشتمل اس بستی میں سینے تک پانی بھر گیا، ہزاروں رہائشی کشتیوں کے سہارے رہ گئے اور اندرونی فلیٹوں میں بجلی اور صاف پانی منقطع ہو گیا۔ 67 سالہ سومکڈ فوک نگام نے اے ایف پی کو بتایا: “پانی مسلسل آ رہا ہے۔ باہر نکلنا مشکل ہے، اب یہ کمر تک پہنچ گیا ہے۔” ان کے بقول صورتحال 2011 کے سیلاب سے بدتر لگتی ہے۔
شہر کیوں نہ نمٹ سکا
بینکاک کی نہروں کا وسیع نظام تاریخی طور پر نکاسی آب کے لیے انتہائی اہم رہا ہے، مگر پانی کی اس مقدار سے وہ مغلوب ہو گیا — اور دہائیوں کی کنکریٹ تعمیرات نے شہر کے قدرتی نکاسی کے راستے بدل دیے ہیں۔ یکم تا 25 ستمبر دارالحکومت میں 487 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس مدت کی اوسط تقریباً 269 ملی میٹر ہے — یعنی برسات کے عروج پر غیر معمولی گیلا مہینہ۔
سب سے زیادہ متاثرہ مشرقی اضلاع میں رہائشی گھٹنوں سے کمر تک پانی میں چلتے رہے اور کم از کم 13 اہم سڑکیں زیر آب آ گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہی کمزور انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی شہری تعمیرات بینکاک کو ہر مون سون میں زیادہ خطرے سے دوچار کر رہی ہیں۔

ریت کے تھیلوں سے بندھی بینکاک کی ایک سڑک؛ شہر نے رہائشیوں کے تحفظ کے لیے 10 لاکھ ریت کے تھیلے تیار کیے۔ تصویر: وطن نیوز
ہوائی اڈے پر اثرات اور آگے کیا ہوگا
بینکاک کے مرکزی سوورن بھومی ایئرپورٹ پر نمایاں خلل پڑا: تھائی ایئرویز نے اپنی تقریباً 30 فیصد پروازیں منسوخ کر دیں اور کم از کم تین دن تک سروس متاثر رہنے کی توقع ظاہر کی؛ تقریباً 5,600 مسافروں کے بیگ پھنس گئے۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق سوورن بھومی اور ڈان موئنگ ہوائی اڈے کھلے رہے، مگر پروازوں میں تاخیریں ہوئیں۔
شہر نے 10 لاکھ ریت کے تھیلے تیار کیے اور تقریباً 6,000 افراد کو 234 امدادی مراکز میں منتقل کیا، جبکہ 36 بستر پر بیمار افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سیلابی پانی دارالحکومت کے بعض حصوں میں اترنا شروع ہو گیا ہے — گورنر چاڈچارٹ کے مطابق بڑی سڑکوں سے پانی دو دن میں نکل جانا چاہیے — مگر خطرہ ٹلا نہیں۔ شمال سے آنے والا پانی چاؤ فرایا دریا کے نظام کو حد تک دھکیل رہا ہے اور محکمہ موسمیات اکتوبر کے آغاز میں نئے طوفان کے خطرے سے خبردار کر رہا ہے۔
نتیجہ
بینکاک کا 2026 کا سیلاب — پندرہ سالوں میں بدترین — ایک ایسے شہر کی کہانی ہے جو پانی پر بنا مگر کنکریٹ کے نیچے دب گیا۔ تقریباً 300 ملی میٹر بارش نے نہروں کے نظام کو بے بس کر دیا، 50 اضلاع میں ایمرجنسی لگی اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، مگر ماہرین کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں ایسے شدید موسمی واقعات کا سلسلہ بڑھتا جائے گا — جس سے طویل مدتی نکاسی آب اور موسمیاتی منصوبہ بندی ناگزیر ہو گئی ہے۔



























