لاہور ایک بار پھر دنیا کے بڑے آلودہ ترین شہروں میں سب سے آگے آ گیا ہے۔ جمعہ 23 اکتوبر کی صبح عالمی ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ کے اعداد کے مطابق شہر میں لاہور فضائی آلودگی کی شدت 344 تک پہنچ گئی، جو صحت کے لیے خطرناک درجے میں شمار ہوتی ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو باہر نکلتے وقت ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔
اہم نکات
- لاہور کا مجموعی ہوا کا معیار 344 ریکارڈ ہوا، جو خطرناک درجے میں آتا ہے۔
- بھارت کا شہر نئی دہلی 244 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
- لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں سب سے زیادہ 535 ریکارڈ ہوا۔
- ہوا میں موجود باریک ذرات عالمی ادارہ صحت کی سالانہ رہنما حد سے 57 گنا زیادہ بتائے گئے ہیں۔
- طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔
لاہور فضائی آلودگی اور علاقوں کی صورتحال
شہر کے مختلف حصوں میں ہوا کا معیار ایک جیسا نہیں رہا۔ بعض علاقوں میں آلودگی شہر کے مجموعی اعداد سے بھی کہیں زیادہ ریکارڈ ہوئی، جبکہ کچھ علاقوں میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی۔ مجموعی طور پر پورا شہر ہی آلودگی کی لپیٹ میں نظر آیا۔

| علاقہ | ہوا کا معیار |
|---|---|
| اقبال ٹاؤن | 535 |
| بیدیاں روڈ | 497 |
| کاہنہ | 446 |
| ڈیفنس فیز 5 | 360 |
| ماڈل ٹاؤن | 350 |
| برکی روڈ | 253 |
درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 تک ہوا کا معیار مضر صحت، 201 سے 300 تک انتہائی مضر صحت، اور 301 سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس پیمانے پر لاہور کا مجموعی اعداد بھی خطرناک درجے میں آتا ہے، جبکہ اقبال ٹاؤن اور بیدیاں روڈ کے اعداد اس سے بھی کہیں آگے نکل گئے۔
دوسرے بڑے شہروں کی صورتحال
دنیا کے بڑے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں نئی دہلی 244 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں ہوا کا معیار انتہائی مضر صحت کے درجے میں تھا۔ سینیگال کا شہر ڈاکار 184 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ بھارت کے شہر ممبئی میں 179 اور کولکاتا میں 172 ریکارڈ ہوا۔ ان تینوں شہروں میں ہوا کا معیار مضر صحت کے درجے میں تھا، مگر لاہور سے واضح طور پر کم تھا۔
صحت پر اثرات اور احتیاط
سرد موسم میں ٹھنڈی ہوا آلودگی کو زمین کے قریب روک لیتی ہے، جس سے فصلوں کی باقیات کا دھواں، گاڑیوں کا دھواں، کارخانوں کا اخراج اور تعمیراتی گرد مل کر ایک خطرناک آمیزہ بنا دیتے ہیں۔ ہوا میں موجود انتہائی باریک ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر خون تک پہنچ سکتے ہیں، اور اس سے دل، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق ایسے دنوں میں ماسک پہننا اور باہر طویل وقت گزارنے سے گریز کرنا صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ لاہور میں فضائی آلودگی کی یہ صورتحال شہریوں کے لیے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صاف ہوا اب شہر کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
پاکستان کی مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































