خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں نامعلوم مسلح افراد نے سرکاری گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم زخمی ہو گئے۔ زخمی افسر کو فوری طور پر پشاور کے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسسٹنٹ کمشنر پشاور کی جانب سفر کر رہے تھے۔
اہم نکات
- واقعہ نوشہرہ کے علاقے پناہ کوٹ، جلوزئی میں چرات روڈ پر پیش آیا۔
- نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم کی سرکاری گاڑی پر فائرنگ کی۔
- فائرنگ میں عادل وسیم زخمی ہوئے اور انہیں پشاور کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
- پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
- مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے زخمی افسر کو بہترین طبی سہولتیں دینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
نوشہرہ فائرنگ اسسٹنٹ کمشنر پر حملے کی تفصیل
پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے جلوزئی کی حدود میں پناہ کوٹ کے قریب چرات روڈ پر سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم زخمی ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی اہلکار موقع پر پہنچے اور زخمی افسر کو پشاور کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر پشاور کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور حملے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
تحقیقات اور سرچ آپریشن
پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں اور جلد انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے مقاصد کے بارے میں ابھی کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں اور عینی شاہدین سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

حفاظتی اہلکاروں کی سڑک پر موجودگی کی علامتی تصویر
صوبائی حکومت کا ردعمل
خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمی اسسٹنٹ کمشنر کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی اور ہدایت کی کہ انہیں بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
ثمر ہارون بلور نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی بروقت کارروائی اور طبی امداد کو قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ عوام اور سرکاری ملازمین کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
سرکاری افسر پر حملے کے اس واقعے نے صوبے میں سرکاری ملازمین کی سیکیورٹی کے معاملے کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔






























