متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشامسی نے فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے والے سنگین واقعے کی دہشت گردی کے زاویے سے تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز میں کو پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان سمت مچھر پر حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے اور اسے گرانے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔
اہم نکات
- پرواز: فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 — دبئی سے تل ابیب، بوئنگ 737 میکس 8
- واقعہ: 30 ستمبر 2026، تقریباً 34,000 فٹ کی بلندی پر کوک پٹ میں حملہ
- سوار افراد: 174 مسافر اور عملے کے 8 ارکان — کل 182 افراد (سعودی وزارت داخلہ)
- زخمی کپتان: سمت مچھر (بھارتی شہری)؛ مشتبہ حملہ آور: عمانی شہری کو پائلٹ
- ایمرجنسی کوڈز: 7700 اور 7500 نشر کیے گئے؛ طیارہ تبوک (سعودی عرب) میں بحفاظت اترا
- تحقیقات: متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل کی خصوصی ٹیم — دہشت گردی کے مقصد اور منصوبہ بندی کی چھان بین
ایف زیڈ 1073: کوک پٹ میں حملہ اور طیارے کا تیزی سے نیچے آنا
رپورٹس کے مطابق اڑان کے تقریباً دو گھنٹے بعد، جب طیارہ تقریباً 34,000 فٹ کی بلندی پر تھا، کو پائلٹ نے کپتان پر حملہ کر دیا۔ مسافروں کے بیانات اور حکام کے مطابق حملے کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے آنے لگا — فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے ایک جائزے میں صرف 29 سیکنڈ کے دوران تقریباً 30,875 فٹ سے 16,750 فٹ تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
واقعے کے دوران پرواز نے ایمرجنسی ٹرانسپونڈر کوڈز 7700 (عمومی ایمرجنسی) اور 7500 (غیر قانونی مداخلت) نشر کیے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ کوک پٹ میں صورتحال قابو سے باہر ہو چکی تھی۔
مسافروں اور عملے کی مداخلت — تبوک میں ہنگامی لینڈنگ
زخمی ہونے کے باوجود کپتان سمت مچھر نے کوک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد مسافر اور عملے کے ارکان اندر داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کر لیا۔ اسی پرواز میں سفر کرنے والے فلائی دبئی کے دو ریزرو پائلٹوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا۔
سعودی حکام کے مطابق طیارے نے تبوک میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9:45 پر بحفاظت لینڈنگ کی۔ سعودی وزارت داخلہ کی ابتدائی تحقیقات میں تصدیق ہوئی کہ کو پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا جس سے دونوں زخمی ہوئے۔ یکم اکتوبر کو دونوں پائلٹ طبی معائنے کے بعد متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی ٹیم کے ہمراہ ابوظہبی روانہ ہو گئے۔

مشتبہ کو پائلٹ کا پس منظر — عمان پہلے ہی پرواز سے روک چکا تھا
عمانی حکام نے سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ مشتبہ کو پائلٹ عمان میں پیدا ہوا اور عمانی شہریت رکھتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق عمان نے اسے انتہا پسندانہ خیالات کے شبے میں پہلے ہی پروازوں سے روک دیا تھا، اس کے باوجود فلائی دبئی نے اسے تقریباً آٹھ ماہ قبل ملازمت پر رکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نے عمان ایئر میں سات سال خدمات انجام دیں (فروری 2025 میں استعفیٰ)، پھر جون 2025 سے جنوری 2026 تک رائل ایئر مراکش میں رہا۔ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرواز کے دن تک سرگرمی دیکھی گئی، جس کی نوعیت کی تحقیقات جاری ہے۔
تحقیقات اور دہشت گردی کا زاویہ
امارات نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق اٹارنی جنرل نے تحقیقاتی ٹیم کو حقائق اور محرکات کا تعین کرنے اور یہ جانچنے کی ہدایت کی ہے کہ آیا واقعے میں دہشت گردانہ سرگرمی یا مقصد، پہلے سے منصوبہ بندی یا بیرونی ہدایت شامل تھی۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ طیارہ اماراتی رجسٹریشن کا حامل ہے، اس لیے اسے فوجداری دائرہ اختیار حاصل ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے 2 اکتوبر کو اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملہ آور “اسلامی بنیاد پرستی” کا شکار ہوا تھا، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے “جہادی دہشت گرد حملے کی کوشش” کہا۔ تاہم رائٹرز سے بات کرنے والے دو اسرائیلی سیکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی اندازہ ہے کہ حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی اور ابھی تک ایرانی کردار کی شناخت نہیں ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا، مگر اس کی عوامی تصدیق موجود نہیں۔ فلائی دبئی نے تحقیقات مکمل ہونے تک تل ابیب کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ واقعے کی تفصیلی ٹائم لائن اور تصدیق شدہ حقائق یہاں دیکھیں۔
نتیجہ
فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کا واقعہ ایوی ایشن سیکیورٹی اور پائلٹوں کی بھرتی کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے — خاص طور پر اس وقت جب ایک ایسے پائلٹ کو کوک پٹ تک رسائی ملی جسے پہلے ہی ایک ملک پروازوں سے روک چکا تھا۔ زخمی کپتان کی ہمت اور مسافروں و عملے کی بروقت مداخلت نے 182 جانوں کو بچا لیا۔
حملے کا حتمی محرک ابھی واضح نہیں، اور متحدہ عرب امارات کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دنیا بھر کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔



























