ہسپانیہ کے دارالحکومت میڈرڈ اور ملک بھر کے تقریباً 50 شہروں میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بڑھتے ہوئے رہائشی بحران کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرے اس وقت ہوئے جب کانگریس نے جمعے کے روز حکومت کے تیار کردہ رہائشی ڈیکری قوانین مسترد کر دیے۔ مظاہرین کرائے میں کمی، کرایہ داروں کے تحفظ اور متبادل رہائش کے بغیر بے دخلی پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اہم نکات
- ہفتے 3 اکتوبر 2026 کو میڈرڈ سمیت تقریباً 50 ہسپانوی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
- حکومتی اعداد و شمار کے مطابق میڈرڈ میں 70,000 افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تعداد 500,000 تک پہنچی۔
- احتجاج کی فوری وجہ میڈرڈ کی 87 سالہ خاتون ماریا ڈیل کارمین اباسکل کی بے دخلی ہے، جنہیں 23 ستمبر کو اس اپارٹمنٹ سے نکالا گیا جہاں وہ 70 سال سے زائد عرصے سے رہ رہی تھیں۔
- سرمایہ کار کمپنی نے ان کا ماہانہ کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر 2,650 یورو کر دیا تھا؛ مذاکرات کے بعد یہ 1,650 یورو ہوا، جو ان کی پنشن سے باہر تھا۔
- جمعے کو کانگریس نے رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کے دو ڈیکری قوانین مسترد کر دیے۔
- والنسیا میں پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی؛ دیگر شہروں میں مظاہرے پُرامن رہے۔
بحران کی شدت اور حکومتی ناکامی
ہسپانوی حکومت نے رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے نئے ڈیکری قوانین تیار کیے تھے، لیکن اپوزیشن کی مخالفت پر کانگریس نے جمعے کے روز انہیں مسترد کر دیا۔ اس ناکامی کے ردعمل میں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی، اور بعض مظاہرین نے عام ہڑتال کا مطالبہ بھی کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ کرائے میں بے تحاشہ اضافے، رہائش کی کمی اور حکومتی پالیسیوں کی ناکامی نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ان کے مطالبات میں کرائے کا ریگولیشن، غیر معینہ مدتی کرایہ داری کے معاہدے اور متبادل رہائش کے بغیر بے دخلی پر پابندی شامل ہیں۔
87 سالہ خاتون کی بے دخلی نے آگ بھڑکائی
احتجاج کی فوری وجہ میڈرڈ کے پوش علاقے ریٹیرو میں رہنے والی 87 سالہ ماریا ڈیل کارمین اباسکل کی بے دخلی ہے۔ وہ اپنے والدین کے دور سے 70 سال سے زائد عرصے سے اسی اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھیں۔ عمارت کی ملکیت تبدیل ہونے کے بعد سرمایہ کار کمپنی نے ان کا ماہانہ کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر 2,650 یورو کر دیا؛ مذاکرات کے بعد یہ رقم 1,650 یورو تک آئی، لیکن یہ بھی ان کی پنشن سے کہیں زیادہ تھی۔ 23 ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر کا دروازہ توڑ کر انہیں اسٹریچر پر باہر نکالا، اور اس منظر کی ویڈیو آن لائن تیزی سے پھیل گئی۔
بے دخلی کے بعد سیکڑوں مظاہرین نے میڈرڈ کے مشہور پوئرتا ڈیل سول چوک میں تقریباً 100 خیمے لگا کر رات گزاری، اور اگلے روز مزید خاندان ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ میڈرڈ کرایہ دار یونین کی ترجمان الیسیا ڈیل ریو نے کہا کہ غم و غصے کی یہ لہر اب ناقابلِ روک ہے، اور وہ اس وقت تک وہیں رہیں گے جب تک حکومت نئے قوانین منظور نہیں کرتی۔

ہسپانیہ رہائشی بحران میں کرائے کی بلند شرح
میڈرڈ میں کرائے کی بلند شرح نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ 26 سالہ لائبریرین مارکوس سینز نے بتایا کہ پہلے وہ دوستوں کے ساتھ دو بیڈ روم کا اپارٹمنٹ 900 یورو ماہانہ پر کرائے پر لیتے تھے، لیکن اب ایک بیڈ روم کا فلیٹ 1,000 یورو تک پہنچ گیا ہے، جو دارالحکومت کی اوسط ماہانہ تنخواہ کا نصف ہے۔
| رہائشی | پہلا کرایہ | موجودہ کرایہ |
|---|---|---|
| ماریا ڈیل کارمین اباسکل (ریٹیرو، میڈرڈ) | 500 یورو ماہانہ | 2,650 یورو (مذاکرات کے بعد 1,650 یورو) |
| مارکوس سینز (میڈرڈ) | 900 یورو (دوستوں کے ساتھ دو بیڈ روم) | 1,000 یورو (ایک بیڈ روم) |
31 سالہ سولر پینل انسٹالر جیویر نے کہا کہ وہ ایک بنیادی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں: مناسب رہائش، استحکام اور ایسی شرائط جو باعزت زندگی ممکن بنائیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی تنخواہ کا نصف حصہ ایک چھوٹے سے کمرے پر خرچ کرتے ہیں، اور کرائے کے ریگولیشن کے بغیر لوگوں کو میڈرڈ چھوڑنا پڑے گا۔
والنسیا میں پولیس تشدد، دیگر شہر پُرامن
جنوب مشرقی شہر والنسیا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں؛ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی۔ تقریباً 30 مظاہرین شہر کی مشہور عمارت سٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن پولیس نے انہیں باہر نکال دیا۔ دیگر تقریباً 50 شہروں میں مظاہرے پُرامن رہے۔

سیاسی صورتحال اور قبل از وقت انتخابات کا امکان
ہسپانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون سازی کی ناکامی کے بعد وزیر اعظم پیدرو سانچیز نومبر میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر سکتے ہیں، اور وہ ہفتے کے مظاہروں کی شدت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کریں گے۔ تاہم ان کے دفتر نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
26 سالہ مظاہرین نانڈو ڈی اینگولو نے کہا کہ یہ صورتحال قابلِ قبول نہیں؛ اب عوام کو سیاسی جماعتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑ رہا ہے، جبکہ سیاست دانوں کو عوام کی خواہشات کے مطابق چلنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر محسوس ہونے والی نئی توانائی ظاہر کرتی ہے کہ عوام کی طاقت سیاسی جماعتوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
ہسپانیہ میں جاری رہائشی بحران نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکومت کے اقدامات کانگریس میں ناکام ہو چکے ہیں، کرائے میں بے تحاشہ اضافہ جاری ہے، اور مظاہرین مناسب رہائش کو بنیادی حق قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر ملک میں قبل از وقت انتخابات کا امکان بھی بڑھ گیا ہے، جبکہ میڈرڈ کرایہ دار یونین نے نئے قوانین کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دنیا کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔



























