عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ روس میں طاعون کے مشتبہ کیس کی مکمل تفصیلات ابھی تک اسے نہیں ملی ہیں۔ بدھ کو جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا کہ دستیاب معلومات ناکافی ہیں، اس لیے ادارہ واقعے کا مکمل رسک اسسمنٹ کرنے سے قاصر ہے۔ یہ معاملہ ارکوتسک کے ایک تحقیقی ادارے کی 28 سالہ ملازمہ داریا شیپیلووا کی مشتبہ موت سے جڑا ہے — اس خبر کا اردو ایڈیشن پڑھیں۔
اہم نکات
- داریا شیپیلووا، 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن، ارکوتسک کے اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سائبیریا اینڈ دی فار ایسٹ کی ملازمہ تھیں۔
- 29 ستمبر کو شیلیخوف کے ضلعی ہسپتال میں شدید نمونیا کے ساتھ داخل ہوئیں اور 2 اکتوبر 2026 کو انتقال کر گئیں۔
- روس کا سرکاری موقف: موت “نامعلوم وجہ کے نمونیا” سے ہوئی، طاعون کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا۔
- 6 اکتوبر کو روس نے ڈبلیو ایچ او کو باضابطہ طور پر بتایا کہ ارکوتسک میں طاعون کا کوئی کیس نہیں اور رابطہ کاروں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
- ڈبلیو ایچ او: مکمل معلومات کے بغیر رسک اسسمنٹ ممکن نہیں؛ روس سے شفاف معلومات کا مطالبہ۔
- تقریباً دو سو افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا؛ انسٹی ٹیوٹ، دو ہسپتالوں اور ایک بچوں کے کلینک میں قرنطینہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

روس میں طاعون کا مشتبہ کیس
سائبیریا کے شہر ارکوتسک میں واقع اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سائبیریا اینڈ دی فار ایسٹ کی 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن داریا شیپیلووا 29 ستمبر کو شیلیخوف کے ضلعی ہسپتال میں شدید نمونیا کے ساتھ داخل ہوئیں اور 2 اکتوبر کی صبح انتقال کر گئیں۔ ان کی موت کے بعد مقامی میڈیا میں طاعون کے خدشے کی خبریں پھیلیں، جس کے بعد ہمسایہ علاقے بریاتیا کے سربراہ الیکسی تسیدینوف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ خاتون کی “ممکنہ طور پر طاعون سے” موت ہوئی ہے — بعد میں انہوں نے اپنے بیان میں ترمیم کر دی۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ “نامعلوم وجہ کا نمونیا” ہے اور انسٹی ٹیوٹ میں کسی حادثے کی تردید کی گئی ہے۔ اس کے باوجود کئی دن تک انسٹی ٹیوٹ اور قریبی ہسپتالوں میں قرنطینہ پابندیاں جاری رہیں، جبکہ متوفی کے تقریباً دو سو رابطہ کاروں کو طبی نگرانی میں رکھا گیا۔
ڈبلیو ایچ او کو مکمل تفصیلات نہیں ملیں
بدھ 7 اکتوبر کو جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا کہ ادارے کے پاس واقعے کی مکمل تصویر نہیں ہے اور وہ مکمل رسک اسسمنٹ کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کے تبادلے پر زور دیا تاکہ متضاد رپورٹوں کی وضاحت ہو سکے اور ممکنہ عوامی خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ڈبلیو ایچ او کی وبائی امراض کے انتظام کی ڈائریکٹر ماریا وان کرکھوو نے کہا کہ ادارہ جاننا چاہتا ہے کہ خاتون پر کون سے لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے، کن پیتھوجینز کی جانچ ہوئی، اور اگر ان کی موت طاعون سے نہیں ہوئی تو پھر وہ کس وجہ سے فوت ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انفیکشن کا سبب بننے والا جراثیم ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے، اسی لیے مزید معلومات درکار ہیں۔
ٹیڈروس نے روس سے ایک اور میڈیا رپورٹ کی تصدیق بھی مانگی ہے جس میں “نامعلوم وجہ کے نمونیا” کے شکار ایک دوسرے ملازم کا ذکر ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہر عبدالرحمن محمود کے مطابق یہ رپورٹ مصدقہ اور قابلِ اعتماد سمجھی گئی ہے، اور ابھی تک روس سے اس کا جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ادارے نے روس کو تکنیکی مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔
روس کا موقف: طاعون کا کوئی کیس نہیں
منگل 6 اکتوبر کو روسی حکام نے بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت ڈبلیو ایچ او کی درخواست کا باضابطہ جواب دیا۔ ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسٹین لنڈمائر نے جنیوا میں بتایا کہ روس کے مطابق “روسی فیڈریشن کے شہر ارکوتسک میں اس خطرناک بیماری کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا ہے”۔ روسی حکام نے یہ بھی بتایا کہ متوفی سے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور خطرناک متعدی پیتھوجینز کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
روس کے صحت کے نگراں ادارے روسپوتربناڈزور کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار لیبارٹری ٹیسٹوں میں کوئی خطرناک پیتھوجین نہیں ملا، جس کے بعد قرنطینہ میں رکھے گئے نوے فیصد افراد کو چھوڑ دیا گیا ہے اور احتیاطی اقدامات کم کیے جا رہے ہیں۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ شیپیلووا کو ویکسین لگ چکی تھی اور وہ اپنے کام سے جڑے خطرناک انفیکشنز کے خلاف مدافعت رکھتی تھیں — تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں نمونیا کس وجہ سے ہوا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے میڈیا کوریج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر میڈیا میں شائع ہونے والی اکثر خبریں “غلط معلومات” ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے ڈبلیو ایچ او کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مناسب طور پر آگاہ کیا ہے۔
ٹوٹی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب کی غیر مصدقہ رپورٹ
آزاد روسی میڈیا ادارے لیوڈی بائکالا اور ٹیلی گرام چینلز میش اور بازا کی رپورٹوں کے مطابق شیپیلووا نے 25 ستمبر کو لیبارٹری میں طاعون کے بیکٹیریا یئرسینیا پیسٹس والی ایک ٹیسٹ ٹیوب توڑ دی تھی، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وہ یئرسینیا پیسٹس کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف حساسیت پر تحقیق کر رہی تھیں۔ روسی حکام نے ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
وبائی امراض کے ماہر میخائل فاووروف نے اخبار دی سن سے گفتگو میں ٹوٹی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب کے منظرنامے کو بعید از قیاس قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ طاعون کے اداروں کا عملہ خصوصی حفاظتی لباس میں کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر خاتون کو واقعی پھیپھڑوں کا طاعون تھا تو ابتدا میں اسے نمونیا یا کووڈ سمجھا گیا ہو سکتا ہے، جس سے رابطہ کاروں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔

قرنطینہ اور بین الاقوامی نگرانی
واقعے کے بعد تقریباً دو سو افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا — ایک سو چودہ کو ایک ہسپتال میں، تریسٹھ کو دوسرے میں اور بارہ کو انسٹی ٹیوٹ میں۔ انسٹی ٹیوٹ کے عملے کو تین دن تک عمارت کے اندر ہی بند رکھا گیا، جہاں وہ فرش اور کرسیوں پر سوتے رہے۔ دو ہسپتالوں اور ایک بچوں کے کلینک میں بھی قرنطینہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن سی ڈی سی اور دیگر اداروں کے ساتھ صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے اور روس سے درست معلومات جلد اور کھلے عام شیئر کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام (ای سی ڈی سی) نے بھی کہا ہے کہ وہ صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور دستیاب محدود معلومات کی بنیاد پر ثانوی کیسز یا انسان سے انسان میں مسلسل منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کئی ممالک نے سفری وارننگز جاری کی ہیں اور داخلی راستوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
نتیجہ
روس میں ایک لیبارٹری ورکر کی مشتبہ موت کے گرد اب بھی کئی بنیادی سوالات جواب طلب ہیں — موت کی اصل وجہ کیا تھی، کون سے ٹیسٹ کیے گئے اور دوسرے ملازم کی حالت کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مکمل اور شفاف معلومات کے بغیر عالمی صحت کے لیے خطرات کا درست اندازہ ممکن نہیں۔ روس طاعون کے کسی کیس کی تردید کر رہا ہے اور احتیاطی اقدامات کم کر رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کی مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔



























