بھارت کے گلی کے جادوگر، جو کبھی گلیوں اور چوراہوں پر اپنی فنکاری سے ہجوم کو محظوظ کرتے تھے، آج اپنی معدوم ہوتی ہوئی فن کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اشم الدین خان جیسے مداری فنکاروں کا مشہور “رسی کا جادو” کبھی بین الاقوامی شہرت رکھتا تھا، لیکن بدلتے ہوئے تفریحی رجحانات اور عوامی مقامات کی کمی نے اس صدیوں پرانے فن کو شدید متاثر کیا ہے۔

اہم حقائق
- فنکار: اشم الدین خان — مداری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بھارت کے گلی کے جادوگر۔
- مشہور فن: ہوا میں بلند ہوتی رسی کا جادو، جس میں ایک لڑکا رسی پر چڑھتا ہے۔
- 1995: دہلی کے قطب مینار کے باہر پہلی بڑی عوامی پیشکش۔
- 1997: کرناٹک کے مالپے ساحل پر 25 ہزار سے زائد افراد کے سامنے پیشکش، جس نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔
- غیر ملکی دورے: برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان سمیت یورپ اور ایشیا کے دس سے زائد ممالک کے دورے۔
- موجودہ صورتحال: عوامی مقامات کی کمی اور کم آمدن کے باعث یہ فن معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔
بھارت کے گلی کے جادوگروں کا سنہرا دور
اشم الدین خان نے کم عمری میں ہی اپنے والد اور چچا سے جادو سیکھنا شروع کر دیا تھا اور 12 سال کی عمر میں پرفارم کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے اپنی 20 کی دہائی میں وہ رسی کا جادوئی فن سیکھا جس نے انہیں بین الاقوامی شہرت دلائی — یہ فن چھ سال کی محنت کے بعد مہارت سے سیکھا گیا اور پہلی بار 1995 میں دہلی کے قطب مینار کے باہر عوامی طور پر پیش کیا گیا۔
1997 میں کرناٹک کے مالپے ساحل پر 25 ہزار سے زائد افراد کے سامنے پیشکش نے انہیں عالمی توجہ دلائی، اور اس فن نے انہیں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان کے دوروں کا موقع فراہم کیا۔ برطانوی چینل 4 نے خان اور ان کے رسی کے جادو کو تاریخ کے 50 عظیم ترین جادوئی فنوں میں 20 ویں نمبر پر رکھا۔ مزید تفصیل اشم الدین خان کی سوانح میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مداری کمیونٹی کا بحران
مداری کمیونٹی، جو صدیوں سے عوامی مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی آئی ہے، آج شدید بحران کا شکار ہے۔ کمیونٹی کے ریکارڈ کے مطابق دہلی میں تقریباً 400 مداری خاندان موجود ہیں، جبکہ اتر پردیش، راجستھان اور تلنگانہ میں بھی سینکڑوں خاندان آباد ہیں۔ یہ فن نسل در نسل خاندانوں میں منتقل ہوتا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک منفرد ثقافتی ورثہ بن گیا ہے۔
بدلتے رجحانات اور فنکاروں کی مشکلات
اشم الدین خان کی شہرت نے کچھ عرصے کے لیے بھارتی روایتی فنکاروں کی طرف توجہ دلائی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ توجہ کم ہوتی گئی۔ عوام نے تفریح کے نئے ذرائع اختیار کر لیے اور عوامی مقامات پر پرفارمنس کے مواقع کم ہوتے گئے۔ 40 سالہ امام خان، جو کبھی جادوگر تھے، اب دہلی کی سڑکوں سے بوتلیں اور ری سائیکل مواد جمع کر کے روزی کماتے ہیں — روزانہ تقریباً 200 روپے۔
عوامی مقامات کا سکڑنا اور مستقبل
انورپا رائے، جو کٹ کتھا پپٹ آرٹس ٹرسٹ کی بانی ہیں، کے مطابق فنکاروں کو سامعین تلاش کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ بند پارک اور بیرونی افراد کے لیے ممنوعہ رہائشی سوسائٹیز نے فنکاروں کے لیے مواقع کو مزید محدود کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گلی کے فنکاروں کی کمی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں عوامی مقامات کی بدلتی نوعیت سرفہرست ہے۔
نتیجہ
بھارت کے گلی کے جادوگروں کا فن تیزی سے معدوم ہو رہا ہے۔ بدلتے ہوئے تفریحی رجحانات، عوامی مقامات کی کمی اور تفریح کے نئے ذرائع کی دستیابی نے اس قدیم فن کو شدید متاثر کیا ہے۔ مداری کمیونٹی، جو صدیوں سے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہے، اب بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگرچہ اشم الدین خان جیسے فنکار اب بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے روزی کمانا اور اس فن کو اگلی نسل تک پہنچانا ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔ اس ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے حکومتی اور معاشرتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔



























