امریکی شہر سیئٹل کی نئی ٹیکنالوجی کمپنی ایونٹے نے 30 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔ یہ سرمایہ کاری کمپنی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم کو دنیا بھر میں پھیلانے اور ملازمین کی صحت و مراعات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہو گی۔ اس نئے دور کے ساتھ کمپنی کی مجموعی سرمایہ کاری 40 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اہم نکات
- ایونٹے نے 30 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
- اس دور کی قیادت فرسٹ کریسی وینچرز نے کی ہے۔
- کمپنی کی مجموعی سرمایہ کاری اب 40 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔
- کمپنی کے 70 سے زیادہ صارفین ہیں۔
- پلیٹ فارم 385 ہزار سے زیادہ ملازمین اور ان کے خاندانوں تک پہنچتا ہے۔
کمپنی کیا کرتی ہے
ایونٹے کا پلیٹ فارم کمپنیوں کو ملازمین کی صحت اور دیگر مراعات کا انتظام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ذہین معاون معاہدوں کا دعووں سے موازنہ کرتے ہیں، منصوبوں کی دستاویزات میں غلطیاں تلاش کرتے ہیں اور تجدید کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔ ملازمین بھی اس پلیٹ فارم سے اپنی مراعات کے بارے میں سوال پوچھ سکتے ہیں۔ اس طرح ایک مشکل اور کاغذی نظام آسان اور شفاف ہو جاتا ہے۔

سرمایہ کاری کی تفصیل
اس سرمایہ کاری دور کی قیادت فرسٹ کریسی وینچرز نے کی ہے۔ اس میں سورینسن کیپٹل، ہرسٹ وینچرز اور مورگن اسٹینلے نیکسٹ لیول فنڈ نے بھی حصہ لیا ہے۔ اس سے پہلے 2024 میں کمپنی نے 10 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ نئی رقم سے کمپنی عالمی سطح پر پھیلے گی اور اپنے ذہین معاونین کو مزید بہتر بنائے گی۔
بانیوں کی کہانی
ایونٹے کی بنیاد 2023 میں رکھی گئی تھی۔ اس کے بانیوں میں روہن ڈی سوزا، کارلی ایکرٹ اور کبیر شاہانی شامل ہیں۔ بانیوں کو صحت کی ٹیکنالوجی کا تجربہ ہے اور انہوں نے ایک ایسا نظام بنانے کا فیصلہ کیا جو آجروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو قابو کرنے میں مدد دے۔ کمپنی 2024 میں منظر عام پر آئی اور اپریل 2025 میں اس نے اپنا پلیٹ فارم باضابطہ طور پر پیش کیا۔

تیزی سے بڑھتا ہوا کاروبار
کمپنی کے مطابق اس کی بکنگ گزشتہ ایک برس میں تقریباً پانچ گنا بڑھی ہے۔ اس کے صارفین میں بڑی ٹیکنالوجی اور کاروباری کمپنیاں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق آجروں کے لیے صحت کے اخراجات سب سے بڑے اخراجات میں سے ایک ہیں، اس لیے ایسے پلیٹ فارم کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے جو خرچ کم کرنے اور ملازمین کی رہنمائی کرنے میں مدد دیں۔
مزید تفصیل کے لیے یہ خبر بھی پڑھیں: یہی خبر وطن نیوز کے مرکزی صفحے پر۔






























