اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے کول کولیشن نے پہلی مرتبہ کول لیڈرز ایوارڈز کا اعلان کیا ہے، جن کے پہلے تین ماحولیاتی ہیرو سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور چینی صنعت کار ڈونگ منگجو قرار پائے ہیں۔ یہ اعزازات سنگاپور میں ۱۵ سے ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶ تک منعقدہ گلوبل کولنگ پلیج اسمبلی کے دوران دیے گئے، جہاں ۱۷ ستمبر کو اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے ڈائریکٹر مارٹن کراؤز نے انفرادی ایوارڈ ڈونگ منگجو کو پیش کیا، جو اس اعزاز کی واحد انفرادی حقدار اور ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی کاروباری شخصیت قرار پائی ہیں۔
اہم نکات
- کول لیڈرز ایوارڈز کا پہلا اعزاز اقوام متحدہ کے کول کولیشن کی جانب سے گلوبل کولنگ پلیج اسمبلی ۲۰۲۶ میں دیا گیا۔
- تین ماحولیاتی ہیرو قرار پائے: سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور گری الیکٹرک اپلائینسز کی چیئرپرسن ڈونگ منگجو۔
- ڈونگ منگجو واحد انفرادی حقدار اور یہ اعزاز پانے والی پہلی کاروباری شخصیت ہیں۔
- سنگاپور کی جانب سے پائیداری اور ماحولیات کی وزیر گریس فو ہائی ین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے توانائی امور کے انڈر سیکرٹری شریف ال علما نے اعزاز وصول کیا۔
- گری کی صفر کاربن سورس شمسی توانائی سے چلنے والی ٹیکنالوجی اب ۳۵ ممالک اور خطوں میں استعمال ہو رہی ہے، اور مشرق وسطیٰ کے منصوبوں سے سالانہ ایک لاکھ دس ہزار ٹن کاربن اخراج میں کمی آ رہی ہے۔
- اندازے کے مطابق ۲۰۵۰ تک دنیا بھر میں ائر کنڈیشنرز کی تعداد پانچ ارب ساٹھ کروڑ تک پہنچ جائے گی، جو موجودہ تعداد سے تقریباً تین گنا ہو گی۔
تین ماحولیاتی ہیرو — تین مختلف راستے
پہلی بار دیے جانے والے کول لیڈرز ایوارڈز کا مقصد ان رہنماؤں کی پذیرائی ہے جو پائیدار ٹھنڈک اور شدید گرمی سے تحفظ کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تینوں ماحولیاتی ہیروز نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے تین مختلف راستے اپنائے ہیں۔
| ماحولیاتی ہیرو | شناخت کا دائرہ | اعزاز کی وجہ |
|---|---|---|
| سنگاپور | ملکی سطح | گرم اور گنجان آباد استوائی شہری ماحول میں گرمی سے لچک اور پائیدار ٹھنڈک کے طریقے |
| متحدہ عرب امارات | ملکی سطح | مرکزی ضلعی ٹھنڈک کے نظام اور ٹھنڈک پالیسیوں کا بین الاقوامی موسمیاتی و ترقیاتی پالیسیوں سے جوڑ |
| ڈونگ منگجو | انفرادی سطح | انتہائی موثر اور کم کاربن والی ٹھنڈک ٹیکنالوجیز میں قیادت، بشمول صفر کاربن سورس ائر کنڈیشننگ |
منتظمین کے مطابق یہ تینوں راستے ظاہر کرتے ہیں کہ پائیدار ٹھنڈک کے چیلنج کا حل پالیسی، منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی — تینوں محاذوں پر ایک ساتھ درکار ہے۔ اس اسمبلی کی میزبانی اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے کول کولیشن نے کی، جو ۲۰۱۹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے موسمیاتی اقدام سمٹ کے اہم منصوبوں میں سے ایک کے طور پر قائم ہوا تھا۔

ڈونگ منگجو: انفرادی ایوارڈ کی واحد حقدار
گری الیکٹرک اپلائینسز کی چیئرپرسن ڈونگ منگجو یہ اعزاز پانے والی واحد انفرادی شخصیت اور پہلی کاروباری شخصیت ہیں۔ تقریب میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت ضرور ضروری ہے، لیکن یہ بذات خود وسیع ماحولیاتی مسائل کا بنیادی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مینوفیکچرنگ صنعت پر واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ٹیکنالوجیکل انوویشن ہی کاربن اخراج کو مزید کم کرنے اور متوقع اہداف حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔
گری نے ۲۰۱۲ سے اس چیلنج پر تحقیق کا آغاز کیا کہ روایتی توانائی استعمال کیے بغیر درجہ حرارت کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔ شمسی توانائی سے چلنے والی پہلی نسل کے ائر کنڈیشنر سے شروع ہونے والا یہ سفر اب شمسی توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے اور ائر کنڈیشننگ کے مکمل انضمام تک پہنچ چکا ہے، جس سے گھروں کے لیے تقریباً صفر بجلی کے بل والی ٹھنڈک حقیقت بن گئی ہے۔
صفر کاربن سورس ٹیکنالوجی کے نمایاں اعداد
گری کی صفر کاربن سورس شمسی اور توانائی ذخیرہ کرنے والی ائر کنڈیشننگ ٹیکنالوجی نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں کئی مرحلوں میں بہتری حاصل کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دنیا کی پہلی شمسی براہ راست ڈرائیو انورٹر بنیادی تعمیر پر مبنی ہے اور ۹۹ فیصد براہ راست کرنٹ تبدیلی کی کارکردگی حاصل کرتی ہے، جس سے ٹھنڈک کا سامان بھاری بجلی خرچ کرنے والے آلے سے سبز بجلی پیدا کرنے والے یونٹ میں بدل جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب ۳۵ ممالک اور خطوں میں نصب ہو چکی ہے اور شدید گرمی اور بھرپور دھوپ والے ترقی پذیر ممالک میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔ صرف مشرق وسطیٰ میں نصب منصوبے سالانہ ایک لاکھ دس ہزار ٹن کاربن اخراج کم کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ماحولیاتی ہیروز کا عالمی اقدام
کول لیڈرز ایوارڈ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے کول کولیشن کا ایک عالمی اعترافی اقدام ہے، جو پالیسی سازی، مالی تعاون، جدت پسند طریقوں اور منصوبوں کے نفاذ جیسے شعبوں میں پائیدار ٹھنڈک اور شدید گرمی سے تحفظ کو آگے بڑھانے والے نمایاں رہنماؤں کی قدر کرتا ہے۔ اسمبلی میں گری نے باضابطہ طور پر مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کی، جو کول کولیشن کے زیر اہتمام اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے زیر انتظام ہے۔ اس موقع پر گری نے انورٹر ائر کنڈیشنرز کی منتقلی تیز کرنے، زیادہ گلوبل وارمنگ پوٹینشل والے ریفریجرنٹس کا استعمال مرحلہ وار ختم کرنے اور توانائی بچانے والی کم کاربن ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور فروغ کے عہد کا اعادہ کیا۔
پس منظر میں یہ حقیقت بھی ہے کہ گلوبل کولنگ پلیج ۲۰۲۳ میں کاپ ۲۸ کے موقع پر متحدہ عرب امارات کی صدارت اور اقوام متحدہ کے کول کولیشن نے متعارف کروایا تھا۔ اس کے اہم اہداف میں ۲۰۵۰ تک ٹھنڈک سے منسلک اخراجات میں ۶۸ فیصد کمی، ۲۰۳۰ تک ائر کنڈیشنرز کی توانائی کارکردگی میں ۲۰۲۲ کے مقابلے میں ۵۰ فیصد بہتری، اور ۲۰۳۰ تک پائیدار ٹھنڈک تک رسائی رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ وطن نیوز کی ماحولیاتی خبروں میں آپ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مزید عالمی پیش رفت بھی پڑھ سکتے ہیں۔
نتیجہ
کول لیڈرز ایوارڈز کا پہلا اعزاز یہ پیغام دیتا ہے کہ شدید گرمی آج دنیا کے تیزی سے بڑھتے اور مہلک ترین موسمیاتی خطرات میں سے ایک ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومتیں، صنعت اور ٹیکنالوجی کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ سنگاپور اور متحدہ عرب امارات کی پالیسی سطح کی کامیابیوں اور ڈونگ منگجو کی ٹیکنالوجی قیادت کو یکساں اعزاز ملا ہے، جو ماحولیاتی ہیروز کے اس نئے عہد کی شروعات ہے جس میں ٹھنڈک کو بھی موسمیاتی اقدام کا مرکزی حصہ سمجھا جائے گا۔

















