بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک نے کاپ31 کی تیاریوں کے سلسلے میں اپنی موسمیاتی ترجیحات کو یکجا کرنے کے لیے فجی کے شہر سووا میں ایک اہم بین الاقوامی فورم کا انعقاد کیا ہے۔ ہفتے کے روز یونیورسٹی آف دی ساؤتھ پیسیفک میں ہونے والے اس فورم میں آسٹریلیا اور بحرالکاہل کے مختلف ممالک کے محققین، وزراء، پالیسی ساز اور موسمیاتی ماہرین شریک ہوئے۔ فورم کی سفارشات پیر کے روز شروع ہونے والے سرکاری پری کاپ31 پروگرام کے پہلے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔
اہم نکات
- فورم «1.5 ڈگری ٹو اسٹے الائیو» 3 اکتوبر 2026 کو فجی کے شہر سووا میں یونیورسٹی آف دی ساؤتھ پیسیفک میں منعقد ہوا۔
- منتظم: کاپ یونیورسٹیز الائنس؛ شراکت دار: نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کا کلائمیٹ رسک اینڈ ریسپانس انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹی آف دی ساؤتھ پیسیفک اور یونیورسٹی آف ملبورن۔
- افتتاحی خطاب مارشل جزائر کی موسمیاتی نمائندہ ٹینا سٹیج نے کیا؛ اختتامی اجلاس میں وزراء کے ساتھ اعلیٰ سطحی تلانوہ مکالمہ ہوا۔
- اہم موضوعات: ڈیڑھ ڈگری کی حد کی سائنس، بین الاقوامی قانونی ذمہ داریاں، سمندروں کی گرمی، سطح سمندر میں اضافہ، موافقت اور موسمیاتی مالی اعانت۔
- فورم کے نتائج 5 اکتوبر کو شروع ہونے والے سرکاری پری کاپ31 پروگرام کے پہلے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔
- کاپ31 کا 31 واں اجلاس 9 تا 20 نومبر 2026 کو ترکیہ کے شہر انتالیہ میں منعقد ہوگا۔
فورم کا انعقاد اور اس کا مقصد
یہ فورم کاپ یونیورسٹیز الائنس کی قیادت میں منعقد ہوا اور اس کے شریک منتظمین میں نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کا کلائمیٹ رسک اینڈ ریسپانس انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹی آف دی ساؤتھ پیسیفک اور یونیورسٹی آف ملبورن شامل تھے۔ منتظمین کے مطابق فورم کا مقصد بحرالکاہل کے ممالک کے تجربات، ترجیحات اور حلوں کو کاپ31 سے قبل ہونے والی بات چیت کے مرکز میں رکھنا تھا۔
فورم کے سرکردہ منتظم، نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ویسلی مورگن کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل کے ممالک نے پیرس معاہدے میں ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کا ہدف حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ اس خطے کے لیے یہ کوئی بے معنی عدد نہیں بلکہ بقا کی حد سمجھی جاتی ہے۔ ان کے بقول یہ فورم اس سوال کا جواب تلاش کرے گا کہ ڈیڑھ ڈگری کی حد کو پہنچ کے اندر رکھنے کے لیے کیا درکار ہوگا اور کاپ31 کی تیاریوں کے دوران بحرالکاہل کے مؤقف کی آواز کو یقینی بنایا جائے گا۔
پلس نیوز کے مطابق فورم میں آسٹریلیا کے مذاکرات کار بھی شریک تھے تاکہ وہ بحرالکاہل کے وزراء، محققین اور مقامی برادریوں کی توقعات کو براہ راست سن سکیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی بات چیت کو بحرالکاہل میں منعقد کرنے سے خطے کی قیادت کو عالمی ایجنڈے کے مرکز میں لانے میں مدد ملے گی۔
کاپ31 کی تیاریوں میں ڈیڑھ ڈگری کا ہدف
یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب عالمی اوسط درجہ حرارت کے صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے ڈیڑھ ڈگری سیلسیس سے عارضی طور پر تجاوز کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر مورگن کا مؤقف ہے کہ اس امکان کا مطلب پیرس معاہدے میں طے شدہ ہدف کو ترک کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
ان کے الفاظ میں: “ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ گرمی کے عروج کو کم سے کم ممکنہ سطح تک محدود کیا جائے، جلد از جلد نیٹ زیرو حاصل کیا جائے اور پھر درجہ حرارت کو دوبارہ کم کرنے کے طریقے تلاش کیے جائیں۔”
فورم کے اختتامی اجلاس میں وزراء اور خطے کے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی تلانوہ مکالمہ ہوا۔ تلانوہ بحرالکاہل کی ثقافتوں سے منسلک کھلے اور شمولیتی مکالمے کا تصور ہے۔ فورم میں آئی پی سی سی کے کام میں حصہ لینے والے بحرالکاہل کے ماہرین بھی شریک تھے۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا فیصلہ اور فوسل ایندھن کی ذمہ داری
فورم میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے اس فیصلے کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا جو موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ نقصانات پر ریاستوں کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر مورگن کے مطابق یہ معاملہ آسٹریلیا کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو دنیا میں کوئلے اور گیس کے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا برسوں سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھا کہ اس کے برآمد کردہ فوسل ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والے اخراجات کی ذمہ داری استعمال کرنے والے ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول: “انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اب واضح کر دیا ہے کہ فوسل ایندھن کے بڑے پیدا کنندگان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فوسل ایندھن کی پیداوار سے منسلک موسمیاتی نقصانات کو روکیں۔”
سووا فورم اور پری کاپ31: ایک جائزہ
سووا فورم اور اس کے بعد ہونے والے سرکاری پری کاپ31 پروگرام کا موازنہ درج ذیل ہے:
| پہلو | سووا فورم | سرکاری پری کاپ31 |
|---|---|---|
| تاریخ | 3 اکتوبر 2026 | 5 تا 8 اکتوبر 2026 |
| مقام | سووا، فجی | فجی اور تووالو |
| نوعیت | تعلیمی و تحقیقی فورم | وزارتی اور قائدین کی سطح کا اجلاس |
| منتظمین | کاپ یونیورسٹیز الائنس اور شریک جامعات | یو این ایف سی سی، آسٹریلیا، فجی اور تووالو |
| بنیادی مقصد | بحرالکاہل کی ترجیحات کی تیاری | مذاکرات سے قبل اتفاق رائے کی تعمیر |
نتیجہ
سووا فورم نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ بحرالکاہل کے ممالک موسمیاتی مذاکرات میں محض متاثرہ فریق نہیں بلکہ قیادت کرنے والی آواز ہیں۔ ڈاکٹر مورگن کے الفاظ میں: “بحرالکاہل طویل عرصے سے مضبوط موسمیاتی اقدام کے عالمی مطالبات میں سب سے آگے رہا ہے۔ یہ فورم اس تجربے اور قیادت کو تسلیم کرتا ہے۔” اب دیکھنا یہ ہے کہ فورم کی سفارشات 5 اکتوبر سے شروع ہونے والے پری کاپ31 اجلاس اور پھر نومبر میں انتالیہ میں ہونے والی کاپ31 میں کس حد تک عملی شکل اختیار کرتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وطن نیوز کی مزید کوریج اس صفحے پر دیکھی جا سکتی ہے۔
عمومی سوالات
کاپ31 کب اور کہاں منعقد ہوگا؟
کاپ31 کا 31 واں اجلاس 9 تا 20 نومبر 2026 کو ترکیہ کے شہر انتالیہ میں منعقد ہوگا۔
سووا فورم کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
فورم کا مقصد بحرالکاہل کے ممالک کی موسمیاتی ترجیحات کو پری کاپ31 اور کاپ31 کے مذاکرات سے قبل یکجا کرنا اور خطے کی آواز کو عالمی ایجنڈے کے مرکز میں لانا تھا۔
تلانوہ سے کیا مراد ہے؟
تلانوہ بحرالکاہل کی ثقافتوں سے منسلک کھلے اور شمولیتی مکالمے کا تصور ہے، جس میں تمام فریقین برابری کی بنیاد پر بات چیت کرتے ہیں۔
ڈیڑھ ڈگری کی حد بحرالکاہل کے لیے کیوں اہم ہے؟
بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کے لیے یہ حد بقا کا سوال ہے، کیونکہ سمندری سطح میں اضافہ اور شدید موسمی واقعات ان کی بستیوں، پانی اور روزگار کو براہ راست خطرے میں ڈالتے ہیں۔


















