یوروزون کی معیشت نے تیسری سہ ماہی میں توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ یوروسٹیٹ کے 30 اکتوبر کو جاری کردہ ابتدائی اندازے کے مطابق یوروزون کی مجموعی ملکی پیداوار میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ماہرین نے 0.2 فیصد نمو کی توقع کی تھی۔ تاہم ملکوں کے درمیان فرق، توانائی کی بلند قیمتیں اور قرض کی سخت شرائط آنے والے مہینوں کے لیے چیلنج برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اہم نکات
- یوروزون کی معیشت تیسری سہ ماہی میں 0.4 فیصد بڑھی، جبکہ یورپی یونین کی نمو 0.5 فیصد رہی۔
- سالانہ بنیاد پر یوروزون کی نمو 1.3 فیصد اور یورپی یونین کی نمو 1.5 فیصد رہی۔
- جرمنی 0.2 فیصد، اسپین 0.6 فیصد بڑھا، جبکہ فرانس کی معیشت 0.1 فیصد سکڑ گئی۔
- یورپی مرکزی بینک نے 29 اکتوبر کو شرح سود برقرار رکھی، ڈپازٹ کی شرح 2.50 فیصد رہی۔
ملکوں کے درمیان نمایاں فرق
مجموعی اعداد کے پیچھے ملکوں کی کارکردگی میں بڑا فرق چھپا ہوا ہے۔ اسپین اور نیدرلینڈز نے 0.6 فیصد نمو حاصل کی، جرمنی 0.2 فیصد بڑھا، جبکہ اٹلی میں کوئی نمو ریکارڈ نہیں ہوئی اور فرانس کی معیشت 0.1 فیصد سکڑ گئی۔ آئرلینڈ کی 5.5 فیصد نمو سب سے نمایاں رہی، لیکن یوروسٹیٹ نے خبردار کیا ہے کہ آئرلینڈ کا ابتدائی اندازہ تجرباتی نوعیت کا ہے اور اس کی تشریح احتیاط سے کی جانی چاہیے، کیونکہ وہاں کثیر القومی کمپنیوں کی سرگرمیاں قومی کھاتوں پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ نمو کی رفتار سست ہوئی ہے۔ دوسری سہ ماہی میں یوروزون کی معیشت 0.6 فیصد اور یورپی یونین کی معیشت 0.7 فیصد بڑھی تھی۔ اس لیے تیسری سہ ماہی کے اعداد بہتر توقع سے بہتر ضرور ہیں، مگر یہ تیزی کی علامت نہیں بلکہ استحکام کی علامت ہیں۔

مرکزی بینک کا محتاط رویہ
یورپی مرکزی بینک نے 29 اکتوبر کے اجلاس میں اپنی تینوں اہم شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جن میں ڈپازٹ کی شرح 2.50 فیصد شامل ہے۔ بینک نے خبردار کیا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دو طرفہ خطرہ ہیں: ایک طرف مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور دوسری طرف معاشی نمو کمزور ہو سکتی ہے۔ بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے کہا کہ توانائی کے جھٹکے کے مکمل اثرات ابھی سامنے آ رہے ہیں، اس لیے بینک ہر اجلاس میں صورتحال دیکھ کر فیصلہ کرے گا، پہلے سے کسی راستے کا اعلان نہیں کرے گا۔
قرض کی شرائط سخت ہو رہی ہیں
مرکزی بینک کے اکتوبر کے قرض کے سروے نے ایک تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ سروے کے مطابق تیسری سہ ماہی میں کمپنیوں کو قرض دینے کے معیار سخت کرنے والے بینکوں کا خالص تناسب 9 فیصد رہا، جو گزشتہ سروے میں متوقع 5 فیصد سے زیادہ ہے۔ رہائشی قرضوں کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن صارفین کے قرضوں کے لیے شرائط مزید سخت ہوئیں، جہاں خالص تناسب 14 فیصد رہا۔ بینکوں نے یہ بھی بتایا کہ قرض کی درخواستوں کی مسترد ہونے کی شرح بڑھی ہے۔
نتیجہ
یوروزون نے توانائی کے دباؤ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کساد بازاری سے بچاؤ دکھایا ہے، لیکن بحالی ابھی ناہموار اور نازک ہے۔ ابتدائی اندازے نامکمل معلومات پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں ترمیم ہو سکتی ہے، اس لیے اصل تصویر آئندہ رپورٹوں میں مزید واضح ہوگی۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔






























