موسمیاتی سفارتکاری کا اگلا مرحلہ اس ہفتے کے آخر میں بحرالکاہل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 5 سے 8 اکتوبر 2026 تک فجی اور تووالو — آسٹریلیا کی شراکت کے ساتھ — باضابطہ پری کاپ31 وزارتی اجلاس اور لیڈرز ایونٹ کی میزبانی کریں گے، جس میں دنیا بھر کے موسمیاتی فیصلہ ساز بحرالکاہل میں جمع ہوں گے۔ یہ اجلاس 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ31 سے چند ہفتے قبل ہو رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پری کاپ کا انعقاد بحرالکاہل میں ہو رہا ہے — اور جزیرہ ممالک کے لیے یہ امتحان ہے کہ آیا وہ اپنی بقا کی ترجیحات عالمی ایجنڈے کی سرِ فہرست رکھ سکتے ہیں۔
اہم نکات
- تقریب: باضابطہ پری کاپ31 وزارتی اجلاس اور لیڈرز ایونٹ
- تاریخ: 5 تا 8 اکتوبر 2026
- مقام: فجی میں وزارتی اجلاس؛ تووالو میں خصوصی لیڈرز اجلاس
- شراکت دار: آسٹریلیا، فجی اور تووالو — اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن (یو این ایف سی سی) کے ساتھ
- مرکزی سربراہی اجلاس: کاپ31، 9 تا 20 نومبر 2026، انطالیہ، ترکی؛ عالمی رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس 11 تا 12 نومبر
- صدارت: ترکی کاپ31 کی صدارت کرے گا (مرات قوروم)؛ آسٹریلیا کے کرس بوون مذاکرات کے صدر
- پیش رفت: بحرالکاہل کے چھوٹے جزیرہ ترقی پذیر ممالک (پی ایس آئی ڈی ایس) کا پری کاپ31 اجلاس، تانوا انٹرنیشنل ہوٹل، نادی، فجی، 30 ستمبر تا 2 اکتوبر
پری کاپ31: بحرالکاہل کیوں، اور اب کیوں
اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن کے مطابق، پری کاپ تقریبات کا مقصد انطالیہ کے آخری ہفتوں میں بحرالکاہل کے نقطہ نظر کو مرکز میں رکھنا ہے۔ بحرالکاہل کے جزیرہ ممالک — جو سطح سمندر میں اضافے، سمندری درجہ حرارت کی بڑھوتری اور موسمی شدت کے براہ راست خطرے میں ہیں — کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی ترجیحات، خصوصاً موسمیاتی مالیاتی معاونت، موافقت اور عالمی موافقت کے ہدف کو مذاکراتی ایجنڈے کی سر فہرست رکھیں۔
بحرالکاہل کے علاقائی ماحولیاتی پروگرام (ایس پی آر ای پی) کے ڈائریکٹر جنرل سیفانایا ناوادرا نے نادی میں مندوبین سے کہا کہ “ہمارا پیغام سادہ ہے: سائنس کی پیروی کرو، 1.5 کو زندہ رکھو”، اور کاپ31 کو “انسانیت کے لیے، اور ہمارے بحرالکاہل کی کمیونٹیز کی بقا کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ” قرار دیا۔ ان کی وارننگ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی نئی رپورٹ “لمیٹنگ اوورشوٹ” کے تناظر میں آئی ہے، جس کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ چند برسوں میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔
نادی میں پیش قدمی
بحرالکاہل کے مذاکرات کاروں نے 30 ستمبر تا 2 اکتوبر نادی کے تانوا انٹرنیشنل ہوٹل میں پی ایس آئی ڈی ایس (پی ایس آئی ڈی ایس) کے پری کاپ31 اجلاس میں خطے کی پوزیشنز کو ہم آہنگ کیا؛ اس اجلاس کی سہولت کاری بحرالکاہل کے علاقائی ماحولیاتی پروگرام (ایس پی آر ای پی) نے کی۔ پروگرام کے موسمیاتی تبدیلی سے لچک کے ڈائریکٹر تاگالوا کوپر نے ان مذاکرات کے نتائج کو بحرالکاہل ممالک اور عالمی موسمیاتی مذاکرات دونوں کے لیے اہم قرار دیا۔ فجی کی وزیر اطلاعات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی لینڈا تابویا نے زور دیا کہ موسمیاتی مکالمے کو اب ٹھوس اقدامات میں ڈھلنا چاہیے جو کمیونٹیاں دیکھ اور محسوس کر سکیں۔
نادی اجلاس کے حاشیے پر ایس پی آر ای پی نے بحرالکاہل جزائر موسمیاتی ایکشن نیٹ ورک (پی آئی سی اے این) کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تاکہ یو این ایف سی سی مذاکرات میں بحرالکاہل کی شمولیت مضبوط ہو۔ فجی نے کاپ31 کے لیے تین ترجیحات طے کی ہیں: 1.5 ڈگری کے ہدف کو پہنچ میں رکھنا، موسمیاتی مالیاتی معاونت تک منصفانہ رسائی، اور سمندر کو پہلی بار مذاکراتی میز پر لانا — یہ بات مستقل سیکرٹری ڈاکٹر سیویندرا مائیکل نے پینا کے مطابق کہی۔

تووالو کا اعلیٰ سطحی اجلاس: بحران کو براہ راست دیکھنا
تووالو ایک خصوصی اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کرے گا تاکہ عالمی رہنما کمزور جزیرہ قوم پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات براہ راست دیکھ سکیں۔ توقع ہے کہ رہنما تووالو — جہاں تقریباً 10,000 افراد رہتے ہیں — میں تقریباً ایک دن گزاریں گے، روایتی کشتیوں میں سفر کریں گے، سطح سمندر کے اضافے سے بچنے کے لیے بنائی گئی بحال شدہ زمین اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے والے شمسی منصوبے دیکھیں گے، اور پھر فجی میں ایک اعلامیے پر دستخط ہوں گے۔ تووالو کے وزیر موسمیات مینا تالیا نے کہا: “ہمارا مقدر بڑے آلودگی پھیلانے والوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ رہنما ہماری کمزوریاں دیکھیں گے — لیکن وہ حل بھی جو ہمیں تیرتا رکھیں گے۔”
فجی میں تقریباً 4,000 مندوبین کی شرکت متوقع ہے، جہاں مذاکرات کار کئی دن کاپ31 سے قبل معاہدوں کو آگے بڑھانے میں گزاریں گے۔

کیا شرکت کم رہے گی؟
اس پری کاپ31 تقریب پر حاضری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں فجی کے وزیر خارجہ ساکیاسی دیتوکا نے انکشاف کیا تھا کہ اب تک صرف چند ممالک — بشمول انٹیگوا و باربوڈا، کیپ ورڈی، تھائی لینڈ، مالدیپ اور مشرقی تیمور — نے شرکت کی تصدیق کی ہے، اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز بھی شریک ہوں گے۔ آسٹریلیا کے وزیر موسمیات کرس بوون نے کہا کہ مہمانوں کی فہرست “ابھی حتمی نہیں ہوئی”، جبکہ البانیز نے اس فارمیٹ کا دفاع کیا: “ہم نے ہمیشہ توقع کی تھی کہ پری کاپ تقریبات میں عام طور پر اتنے رہنما نہیں آتے۔”
انطالیہ کی جانب راستہ
کاپ31 ترکی کے شہر انطالیہ میں 9 تا 20 نومبر 2026 کو منعقد ہو گی، اور عالمی رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس 11 تا 12 نومبر کو ہو گی — یہ رہنماؤں کے لیے نئے، ٹھوس موسمیاتی وعدوں کے اعلان کا پلیٹ فارم ہو گی۔ صدر نامزد مرات قوروم کے تحت ترکی کاپ31 کی صدارت کرے گا، جبکہ ترکی-آسٹریلیا شراکت کے انتظام کے تحت آسٹریلیا کے کرس بوون مذاکرات کی قیادت کریں گے بطور صدرِ مذاکرات۔ یو این ایف سی سی نے کاپ31 اور اس کے ذیلی اداروں کے عارضی ایجنڈے بھی شائع کر دیے ہیں، اور کانفرنس کے لیے رجسٹریشن کھلی ہے — تفصیل یونیورسٹی آف میلبورن کے اس تجزیے میں دیکھی جا سکتی ہے۔
نتیجہ
بحرالکاہل کے لیے پری کاپ محض ایک سفارتی رسم نہیں: یہ خطے کا موقع ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے اخراج کنندگان کو ان جزائر پر موسمیاتی بحران کا سامنا کرائے جہاں یہ پہلے سے ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ فجی اور تووالو میں پیدا ہونے والا زور انطالیہ تک برقرار رہتا ہے یا نہیں — یہی اس غیر معمولی بحرالکاہل پری کاپ31 کا اصل امتحان ہو گا۔
سوالات و جوابات
پری کاپ31 کب اور کہاں ہو رہا ہے؟
باضابطہ پری کاپ31 وزارتی اجلاس اور لیڈرز ایونٹ 5 تا 8 اکتوبر 2026 کو ہو گا — فجی میں وزارتی اجلاس اور تووالو میں خصوصی لیڈرز اجلاس۔
اس تقریب کا مقصد کیا ہے؟
کاپ31 مذاکرات کے لیے زور پیدا کرنا اور بحرالکاہل کی ترجیحات — موسمیاتی مالیاتی معاونت، موافقت اور 1.5 ڈگری کے ہدف — کو عالمی مذاکرات کے مرکز میں رکھنا۔
کاپ31 کی قیادت کون کر رہا ہے؟
ترکی کاپ31 کی صدارت کرے گا جس کے صدر مرات قوروم ہوں گے، جبکہ آسٹریلیا کے کرس بوون مذاکرات کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
کاپ31 کب ہو گی؟
کاپ31 ترکی کے شہر انطالیہ میں 9 تا 20 نومبر 2026 کو منعقد ہو گی، اور عالمی رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس 11 تا 12 نومبر کو ہو گی۔



























