سائبیریا کے علاقے ارکوتسک میں ایک لیبارٹری حادثے کے بعد 28 سالہ خاتون ورکر دریا شپیلووا کی مشتبہ طاعون سے موت ہو گئی ہے، جس کے بعد کئی ہسپتالوں میں قرنطینہ نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ کے بارے میں سرکاری بیانات تاحال متضاد ہیں۔
اہم نکات
- دریا شپیلووا، 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن، ارکوتسک انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے میں کام کرتی تھیں۔
- مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 25 ستمبر کو نمونے جمع کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں زندہ جراثیم والی ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گئی تھی — اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
- 29 ستمبر کو وہ شدید نمونیا کے ساتھ شیلخوف کے ضلعی ہسپتال میں داخل ہوئیں، انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور 1 تا 2 اکتوبر کی درمیانی شب ان کا انتقال ہو گیا۔
- حکام نے 197 افراد کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے 189 کو مشاہدے کے لیے ہسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔
- روس پوٹریب نادزور کے مطابق موت کی وجہ “نامعلوم وجہ کا نمونیا” تھی اور ٹیسٹوں میں ان کے کام سے متعلق کوئی جراثیم نہیں ملے۔
- بوریاتیا کے سربراہ الیکسی تسیدنوف نے پہلے موت کو طاعون سے جوڑا، بعد میں اپنے بیان میں ترمیم کر کے کہا کہ یہ “ممکنہ طور پر” طاعون تھی۔
لیبارٹری حادثے کی تفصیلات
مقامی میڈیا ادارے “بائیکال کے لوگ” کی رپورٹ کے مطابق شپیلووا نے ہسپتال کے عملے کو بتایا تھا کہ نمونے جمع کرتے ہوئے ان سے زندہ جراثیم والی ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گئی تھی۔ اس کے بعد ان کی طبیعت تیزی سے بگڑنے لگی اور انہیں مصنوعی تنفس پر رکھنا پڑا۔
ایک غیر مصدقہ دعوے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ کسی لیبارٹری حادثے کے بجائے تھائی لینڈ کے سفر کے بعد بیمار ہوئی تھیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام نے حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کے شبے میں فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔

متضاد بیانات اور تحقیقات
بوریاتیا کے سربراہ الیکسی تسیدنوف نے ابتدائی طور پر ان کی موت کو طاعون سے جوڑا، لیکن بعد میں اپنے بیان میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ موت کی وجہ “ممکنہ طور پر” طاعون تھی۔ دوسری جانب روس کی صحت کی نگران ایجنسی روس پوٹریب نادزور نے بتایا کہ شپیلووا کی موت “نامعلوم وجہ کے نمونیا” سے ہوئی اور ٹیسٹوں میں ان کے پیشہ ورانہ کام سے متعلق کوئی جراثیم نہیں پائے گئے۔
ارکوتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے روس پوٹریب نادزور کے سربراہ سے ملاقات کے بعد بتایا کہ تمام زیرِ نگرانی افراد میں بیماری کی کوئی علامت نہیں اور ان کے لیبارٹری ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ احتیاط کے طور پر ارکوتسک میں عوامی اجتماعات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
قرنطینہ اور طاعون سے بچاؤ کی تدابیر
شپیلووا کی موت کی حتمی تصدیق نہ ہونے کے باوجود علاقے میں سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ شیلخوف کے ضلعی ہسپتال کو یکم اکتوبر سے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے — نئے مریضوں کے داخلے اور موجودہ مریضوں کے اخراج پر پابندی ہے۔
ارکوتسک کے کلینیکل ہسپتال نمبر 1 اور ایوانو ماتریننسکایا بچوں کے ہسپتال میں مریضوں کے رشتہ داروں کی ملاقاتوں پر پابندی ہے اور اندر موجود افراد کو باہر جانے کی اجازت نہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہسپتال نمبر 3، نمبر 10 اور کم از کم ایک زچہ بچہ ہسپتال میں بھی قرنطینہ نافذ ہے، اور یہ پابندیاں مبینہ طور پر تین ہفتوں کے لیے لگائی گئی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے عملے کو 2 اکتوبر سے ادارے کے اندر ہی الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔

عوامی تشویش اور حکام کا ردعمل
ارکوتسک کے قریب بائیکالسک شہر کی انتظامیہ نے ایک مختصر سوشل میڈیا پوسٹ میں شہریوں کو شیلخوف اور آس پاس کے علاقوں کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا تھا، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔ شیلخوف میں ایلومینیم پگھلانے والے کارخانے میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
امریکہ کی مالی معاونت سے چلنے والے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے مطابق مقامی افراد معلومات کی کمی پر ناراض ہیں اور علاقے میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ امریکی حکومت بھی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔
سائبیریا میں طاعون کی تاریخ
سائبیریا میں طاعون کا خطرہ کوئی نئی بات نہیں — یہ خطہ تاریخی طور پر اس بیماری کے پھیلاؤ کا شکار رہا ہے، اور یہیں قائم انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے اس کے خلاف تحقیق اور روک تھام کا کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لیبارٹری ورکر کی مشتبہ موت نے حکام کو فوری اور سخت اقدامات پر مجبور کیا۔
نتیجہ
سائبیریا میں لیبارٹری ورکر کی پراسرار موت نے طاعون کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے باعث ارکوتسک اور گردونواح میں سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ متعدد ہسپتال قرنطینہ میں ہیں اور تقریباً 200 افراد طبی نگرانی میں ہیں، جبکہ حکام کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس واقعے نے خطرناک بیماریوں پر تحقیق کرنے والی لیبارٹریوں میں حفاظتی ضوابط اور شفاف معلومات کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر کر دی ہے۔ وطن نیوز کی مرکزی ویب سائٹ پر یہ خبر اور مزید عالمی خبریں ملاحظہ کریں۔

























