دنیا میں ہر سال کتنی ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک بوتلیں استعمال ہوتی ہیں؟ اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام اس سوال کا جواب نہیں دیتا — وہ منٹ میں گنتی ہے۔ 17 نومبر 2017 کی ایک تحریر میں اقوامِ متحدہ نے لکھا کہ ہر منٹ اندازاً 10 لاکھ پلاسٹک بوتلیں خریدی جاتی ہیں، اور یہ سمندری کچرے کا نمایاں حصہ ہیں۔ وہ اس منٹ کو دن یا سال میں نہیں بدلتا، یہ نہیں کہتا کہ یہ 10 لاکھ صرف پانی کی بوتلیں ہیں، اور بوتلوں کے کچرے کا وزن بھی نہیں دیتا۔ یہ دانستہ احتیاط ہی اس تحریر کا نکتہ ہے — اور اس کے تجویز کردہ حل کا بھی۔
حقائق: پلاسٹک بوتلوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کیا کہتی ہے
- اہم عدد: ہر منٹ اندازاً 10 لاکھ پلاسٹک بوتلیں خریدی جاتی ہیں (اقوامِ متحدہ، 17 نومبر 2017)۔ سالانہ یا روزانہ کوئی کل نہیں دیا گیا۔
- سمندری پلاسٹک: ہر سال تقریباً 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے — یہ سارے پلاسٹک کا عدد ہے، صرف بوتلوں کا نہیں۔
- نقصان: یہ کچرا سینکڑوں انواع کو نقصان پہنچاتا ہے، اور پلاسٹک کے ٹکڑے انسانی خوراک میں داخل ہو رہے ہیں، جن کے نتائج اقوامِ متحدہ کے بقول نامعلوم ہیں۔
- اقوامِ متحدہ کا جواب: کم بوتلیں، زیادہ دوبارہ بھرنے والی بوتلیں، اور ری سائیکلنگ یا محفوظ ٹھکانے کے لیے جمع کرنا — اور اس کے لیے ڈپازٹ اسکیم۔
- ڈپازٹ کیسے کام کرتا ہے: ہر بوتل پر تھوڑی اضافی فیس، جو خالی بوتل واپس کرنے پر مل جاتی ہے؛ امریکہ میں پانچ سینٹ عام بتائے گئے ہیں، اکثر سپر مارکیٹ کی ریورس وینڈنگ مشین کے ذریعے۔
- 2017 کی مثال: برطانیہ — لندن کے وزرا اور اسکاٹ لینڈ و ویلز کی حکومتیں اسکیم پر غور کر رہی تھیں (چلا نہیں رہی تھیں)۔ 57 فیصد سے جرمنی اور سویڈن جیسے 80–90 فیصد تک اضافے کی پیشگوئی مہم چلانے والوں کی تھی، اقوامِ متحدہ کی نہیں۔
- حد: کم آمدن والے ممالک میں 40 سے 60 فیصد کچرا نامیاتی ہے اور 60 فیصد تک جمع ہی نہیں ہوتا — ڈپازٹ سے پہلے جمع کرنے کا نظام ضروری ہے۔

ہر منٹ 10 لاکھ — اور کوئی سالانہ کل نہیں
منٹ میں گنتی غیر معمولی ہے، اور یہ دانستہ ہے۔ بوتلوں کے سالانہ کل مارکیٹ کے محققین نکالتے ہیں — 2017 میں یورومانیٹر کے اعداد کے مطابق سالانہ 480 ارب سے زیادہ پلاسٹک مشروبات کی بوتلیں فروخت ہوئیں — لیکن اقوامِ متحدہ کی تحریر خود یہ حساب نہیں لگاتی۔ منٹ کا عدد پیمانہ محسوس کراتا ہے: اس پیراگراف کے ختم ہونے تک دنیا میں کہیں کئی ملین مزید بوتلیں خریدی جا چکی ہوں گی۔
یہ اقوامِ متحدہ کو اس بارے میں بھی ایماندار رکھتا ہے جو وہ نہیں جانتی۔ زیادہ تر قومی اعداد میں بوتلوں کے کچرے کا وزن الگ نہیں کیا جاتا، اور تحریر اس کا دعویٰ نہیں کرتی۔ دو اعداد الگ رکھے گئے ہیں: سمندر میں کچرے میں بوتلوں کا بڑا حصہ، اور مجموعی طور پر ہر سال سمندروں میں جانے والے 80 لاکھ ٹن پلاسٹک۔
پلاسٹک بوتلیں سمندر میں کیسے پہنچتی ہیں
بوتلیں ہلکی، تیرنے والی ہوتی ہیں اور زیادہ تر پی ای ٹی — پولی ایتھیلین ٹیریفتھلیٹ — سے بنی ہوتی ہیں، جو تیرتا ہے اور پورے سمندری طاسوں میں سفر کر کے بڑے کچرے کے دھبوں میں جمع ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تحریر کے مطابق یہ کچرا سینکڑوں انواع کو نقصان پہنچاتا ہے اور پلاسٹک کے ٹکڑے انسانی خوراک میں داخل ہو رہے ہیں، جن کے نتائج نامعلوم بتائے گئے ہیں۔ نقصان صرف دور دراز نہیں: سروے شدہ ساحلوں پر بوتلیں، ڈھکن اور ٹوپیاں مسلسل سب سے زیادہ پائے جانے والے کچرے میں شامل ہیں۔
کمزور کڑی جمع کرنا ہے۔ 2010 کی دہائی کے وسط میں فروخت ہونے والی نصف سے بھی کم بوتلیں ری سائیکلنگ کے لیے جمع ہوتی تھیں، اور ان میں سے بھی صرف تھوڑی سی نئی بوتلوں میں بدلتی تھیں — باقی لینڈ فل یا سمندر میں جاتی تھیں۔ ڈپازٹ اسی خلا کو بند کرنے کے لیے ہے۔

ڈپازٹ کا جواب: پانچ سینٹ اور ریورس وینڈنگ مشین
اقوامِ متحدہ کی تحریر جس طریقے کی حمایت کرتی ہے وہ حیران کن حد تک سادہ ہے۔ خریدار تھوڑی اضافی رقم دیتا ہے — امریکہ میں پانچ سینٹ عام بتائے گئے ہیں، اکثر سپر مارکیٹ کی ریورس وینڈنگ مشین کے ذریعے — اور خالی بوتل کے ساتھ وہ رقم واپس مل جاتی ہے۔ تحریر کے مطابق شیشہ دہائیوں سے ایسے ہی چل رہا ہے۔ معاشیات متوقع ہیں: زیادہ ڈپازٹ زیادہ واپسی لاتا ہے، اسی لیے جرمنی اور سویڈن جیسے پختہ نظام والے ممالک 80 سے 90 فیصد کنٹینر جمع کرتے ہیں جبکہ ڈپازٹ کے بغیر نظام بہت پیچھے رہتے ہیں۔
کنٹینر ڈپازٹ قوانین پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کا تجزیہ اسی نتیجے پر پہنچتا ہے: فی کنٹینر 5 سے 25 سینٹ کے ڈپازٹ پی ای ٹی کو سمندر سے دور رکھنے کے مؤثر ترین آلات میں شامل ہیں، اور ہوائی سے آسٹریلیا تک کے مطالعات بتاتے ہیں کہ یہ مقامی سمندری پلاسٹک آلودگی کو نمایاں کم کرتے ہیں۔
برطانیہ کی 2017 کی مثال
تحریر کی عملی مثال برطانیہ ہے، نومبر 2017 میں منجمد۔ لندن کے وزرا اور اسکاٹ لینڈ و ویلز کی حکومتیں ڈپازٹ اسکیم پر غور کر رہی تھیں؛ کسی کے متعارف کرانے کا ذکر نہیں۔ 57 فیصد جمع کرنے کی شرح سے جرمنی اور سویڈن جیسی سطح تک چھلانگ کی پیشگوئی مہم چلانے والوں کی تھی — تحریر واضح کرتی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی نہیں۔ یہ احتیاط درست ثابت ہوئی: انگلینڈ کی اسکیم کو آغاز سے پہلے برسوں مشاورت میں گزارنے پڑے۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیات کی کلاڈیا جیاکوویلی نے ریکارڈ پر کہا کہ ڈپازٹ “ری سائیکلنگ کو واقعی آگے بڑھانے اور اس پھینکنے اور ڈمپنگ کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو کئی ترقی پذیر ممالک پر داغ چھوڑتا ہے۔” پھر وہ انتباہ آیا جو اس تحریر کو محض مہم کے پمفلٹ سے زیادہ بناتا ہے۔
جہاں ڈپازٹ ابھی کام نہیں کر سکتا
کم آمدن والے ممالک میں 40 سے 60 فیصد کچرا نامیاتی ہے، اور 60 فیصد تک کچرا جمع ہی نہیں ہوتا۔ بوتل پر ڈپازٹ کا مطلب کم ہے جہاں کوئی کلیکشن ٹرک نہ ہو، کوئی ریورس وینڈنگ مشین نہ ہو اور اسے رکھنے والا کوئی سپر مارکیٹ نہ ہو۔ تحریر کی ترتیب واضح ہے: پہلے بنیادی جمع کرنا، پھر ڈپازٹ موجود نظام کو بہتر بناتا ہے۔ ترقی پذیر دنیا کے بڑے حصے کے لیے بوتلوں کی لہر ری سائیکلنگ کے بحران سے پہلے جمع کرنے کا بحران ہے۔
وطن نیوز کی ماحولیاتی کوریج پڑھنے والے یہ نمونہ پہچانیں گے: کچرے کے بہاؤ کے سب سے کم ذمہ دار ممالک کو اس کے انتظام میں سب سے مشکل چڑھائی کا سامنا ہے۔
نتیجہ
نو سال بعد بھی اقوامِ متحدہ کا منٹ سست نہیں ہوا۔ تحریر کی ایمانداری — ایک مضبوط عدد، واضح حدود کے ساتھ، اور نامعلوم کو نامعلوم قرار دینا — پلاسٹک پر بات کرنے کا نمونہ ہے: ہر منٹ 10 لاکھ بوتلیں خریدی جاتی ہیں، ہر سال 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندر میں جاتا ہے، اور پانچ سینٹ کی چھوٹی ترغیب وہاں کام کرتی ہے جہاں جمع کرنے کا نظام اسے پکڑنے کے لیے موجود ہو۔ مکمل خبر وطن نیوز کی مرکزی سائٹ پر۔















