آسٹریلوی حکومت نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ‘وِیزا ہاپنگ’ کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے امیگریشن نظام میں شفافیت اور اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
- نئے قواعد کے تحت، بین الاقوامی طلبہ کو کورس تبدیل کرنے کے لیے علیحدہ ویزا کی درخواست کرنا ہوگی۔
- اس سے قبل، کم درجے کے کورسز میں منتقلی پر پابندی عائد کی گئی تھی، جیسے کہ بیچلر یا ماسٹرز ڈگری سے ووکیشنل پروگرام میں تبدیلی۔
- حکومت کا ہدف ہے کہ سالانہ خالص غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد کو 2028 تک 300,000 سے کم کرکے 225,000 کیا جائے۔
- اس وقت 400,000 سے زائد افراد برجنگ ویزا پر ہیں، جن میں بین الاقوامی طلبہ بھی شامل ہیں جو نئے ویزا کی درخواستوں کے منتظر ہیں۔
وِیزا ہاپنگ کا خاتمہ
آسٹریلوی حکومت نے ‘وِیزا ہاپنگ’ کے عمل کو روکنے کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک کا امیگریشن نظام مضبوط اور قابل اعتماد رہے۔
- اسسٹنٹ منسٹر برائے بین الاقوامی تعلیم، جولین ہل، نے کہا کہ ان تبدیلیوں سے ‘مستقل عارضی’ ہجرت میں اضافہ رکے گا۔
- انہوں نے کہا کہ جب آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو وہ ویزا سے ویزا میں سالوں یا دہائیوں تک منتقل ہونے کا حق نہیں رکھتے، اور نہ ہی ہمارے مہمانوں کو ایسا کرنا چاہیے۔
امیگریشن نظام میں اصلاحات
وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ نئے قواعد کا مقصد طلبہ کے ویزا میں تبدیلی کے عمل کو ختم کرنا ہے، تاکہ آسٹریلوی عوام کو امیگریشن نظام پر اعتماد ہو۔
امیگریشن کے اعداد و شمار میں کمی
حکومت کا ارادہ ہے کہ خالص غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد کو کم کیا جائے۔ یہ اقدام وسیع اصلاحاتی پیکج کا حصہ ہے جس کا مقصد ہجرت کے اعداد و شمار کو کنٹرول کرنا ہے۔
- 2028 تک خالص غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد کو 225,000 تک لانا۔
- اس وقت سالانہ تقریباً 300,000 افراد کا اندراج ہوتا ہے۔
- یہ کمی ملک کے وسائل پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گی۔
برجنگ ویزا پر افراد
اس وقت 400,000 سے زائد افراد برجنگ ویزا پر ہیں، جو عارضی ویزا ہیں اور یہ اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب کسی کا ویزا ختم ہو جاتا ہے اور وہ اگلے کی درخواست کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
- ان میں بڑی تعداد بین الاقوامی طلبہ کی ہے جو مختلف ویزا کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔
- حکومت ان افراد کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کورس کی تبدیلی پر نئے قواعد
1 جولائی 2027 سے، طلبہ کے ویزا میں توسیع اس صورت میں نہیں کی جائے گی اگر وہ کسی دوسرے کورس میں منتقل ہو رہے ہوں۔
نئی پابندیوں کا مقصد
اس اقدام کا مقصد ‘دھاندلی’ کو روکنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ طلبہ صرف پہلے 6 ماہ میں حاضر نہ ہوں، مضامین میں ناکام ہو جائیں اور پھر سستے فراہم کنندہ کے پاس چلے جائیں۔
- طلبہ کو کورس کی تبدیلی کے لیے نیا ویزا اپلائی کرنا ہوگا۔
- یہ قواعد ان طلبہ پر لاگو ہوں گے جو پہلے سے کم درجے کے کورسز میں منتقل ہونا چاہتے ہیں۔
- اس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ طلبہ واقعی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، نہ کہ صرف ویزا کی مدت بڑھانے۔
امیگریشن ایجنٹس اور وکلاء
امیگریشن ایجنٹس اور وکلاء جو لوگوں کو آسٹریلیا میں رہنے کے جھوٹے وعدے کر کے ‘غلط امید’ بیچ رہے ہیں، وہ بھی حکومت کے نشانے پر ہیں۔
- ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی تاکہ امیگریشن نظام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
- حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جو نظام کو خراب کر رہے ہیں۔
نتیجہ
آسٹریلوی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہے۔ ‘وِیزا ہاپنگ’ کے خاتمے اور امیگریشن نظام میں اصلاحات کا مقصد ملک میں ہجرت کے عمل کو مزید منظم اور شفاف بنانا ہے۔ یہ نئے قواعد طلبہ کو اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کریں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ وہ واقعی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آسٹریلیا آ رہے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امیگریشن ایجنٹس اور وکلاء جو غلط معلومات پھیلا کر یا جھوٹے وعدے کر کے طلبہ کو گمراہ کر رہے ہیں، ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سے طلبہ کو صحیح رہنمائی ملے گی اور وہ دھوکہ دہی کا شکار نہیں ہوں گے۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات آسٹریلیا کے امیگریشن نظام کو بہتر بنانے اور اسے زیادہ قابل اعتماد بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہیں۔























