G7 ممالک اور ان کے شراکت داروں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے، خاص طور پر ڈیزل کے شدید بحران کے خلاف جمعے کو ایک بڑا مشترکہ اقدام کرتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی صدارت میں ہونے والی G7 رہنماؤں کی ویڈیو کانفرنس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق یہ اجراء 4 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا، جبکہ ڈیزل کی بڑی مقدار پہلے 20 دن کے اندر مارکیٹ میں لائی جائے گی۔
اہم حقائق
- اجراء کی مقدار: 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل، اسٹریٹجک ذخائر سے
- مدت: 4 ماہ؛ ڈیزل کی بڑی مقدار پہلے 20 دن میں مارکیٹ میں آئے گی
- ہم آہنگی: بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) عملدرآمد کی نگرانی کرے گی
- اجلاس کی صدارت: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون (موجودہ G7 صدر)
- یومیہ اوسط: یکساں اجراء کی صورت میں تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ
- امریکی دباؤ: ٹرمپ انتظامیہ کا یورپی اتحادیوں پر ذخائر جاری کرنے کا دباؤ؛ ڈیزل برآمدات محدود کرنے کا عندیہ
- مارکیٹ کا فوری ردعمل: یورپی گیس آئل فیوچرز میں 4 فیصد سے زائد کمی، برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا
معاہدے کی تفصیلات
مشترکہ بیان میں G7 رہنماؤں نے کہا کہ تیل کی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ، بڑھتی ہوئی قیمتوں سے معاشی استحکام اور شہریوں کی فلاح کو لاحق خطرات کے پیش نظر مربوط اور فیصلہ کن اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ صدر میکرون کے مطابق “ہم پٹرولیم مصنوعات، خاص طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لیے مربوط انداز میں کام کرنے پر متفق ہیں” اور 10 کروڑ بیرل کا اجراء فوری طور پر شروع ہوگا۔
پیکیج میں صرف ذخائر کا اجراء ہی شامل نہیں۔ G7 ممالک نے اپنی ریفائنریز کی دیکھ بھال کے شیڈول کو مربوط کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ ایک ہی وقت میں پیداواری صلاحیت بند نہ ہو، جہاں ممکن ہو عارضی طور پر استعمال کی شرح بڑھائی جائے گی، اور جن ممالک کے پاس نمایاں ریفائننگ صلاحیت ہے ان سے ڈیزل سمیت صاف شدہ مصنوعات کی عالمی پیداوار بڑھانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اراکین نے آپس میں توانائی اور پٹرولیم مصنوعات کے تبادلے پر کوئی پابندی نہ لگانے کا عہد بھی کیا ہے۔ یہ اجراء بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے ذریعے مربوط ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ اور امریکہ کا کردار
یہ معاہدہ واشنگٹن کے بڑھتے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فرانس اور جرمنی سمیت بڑے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر سے بڑی مقدار جاری کریں، اور عندیہ دیا تھا کہ اگر اتحادی عالمی سپلائی بڑھانے میں مدد نہ کریں تو امریکہ اپنی ڈیزل برآمدات محدود کر سکتا ہے۔
اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے لکھا کہ “یورپ نے اپنے بھرے ہوئے ڈیزل ذخائر کی بڑی مقدار جاری کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ عمل فوری شروع ہوگا۔” اطلاعات کے مطابق صدر میکرون اور صدر ٹرمپ کے درمیان رات گئے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو نے پیرس کو عملی اقدام کی طرف دھکیلا، جبکہ اس سے قبل یورپی کمیشن نے ذخائر جاری کرنے پر مجبور کیے جانے کو “دھمکی” قرار دے کر مزاحمت کی تھی۔
ڈیزل بحران کی وجوہات
عالمی ڈیزل منڈی بیک وقت کئی رکاوٹوں کا شکار ہے۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ 6.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جبکہ یورپی ڈیزل فیوچرز 200 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔ یوکرینی حملوں سے روسی ریفائنریز کو پہنچنے والے نقصان کے بعد روس نے ایندھن کی برآمدات محدود کر دی ہیں، مشرق وسطیٰ میں ریفائنریوں کی بندش اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی نے بھی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ چین نے گھریلو ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے اکتوبر کے لیے ایندھن کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔
یورپ کو اس صورتحال میں براہ راست دلچسپی ہے کیونکہ وہ جتنا ڈیزل پیدا کرتا ہے اس سے زیادہ استعمال کرتا ہے اور امریکی درآمدات پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے۔ امریکی برآمدی پابندی یورپی سپلائی کو مزید سخت کر دے گی۔

تیل کی قیمتوں پر دباؤ: مارکیٹ کا ردعمل
اعلان کے فوری بعد مارکیٹ میں ردعمل دیکھا گیا۔ یورپی گیس آئل فیوچرز میں جمعے کو 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی، برینٹ خام تیل تقریباً 3 ڈالر گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، اور خام تیل کے مقابلے میں ڈیزل کا پریمیم جمعرات کے 76.77 ڈالر سے گھٹ کر تقریباً 69 ڈالر فی بیرل رہ گیا۔ واٹن نیوز کی عالمی خبریں کے مطابق توانائی کی منڈیوں میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ذخائر کا اجراء وقت تو خریدتا ہے لیکن ریفائننگ کی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتا۔ جاری شدہ خام تیل کو پہلے ریفائن کرنا ہوتا ہے، اور صلاحیت، رسد اور دستیاب خام تیل کی قسم اس بات کا تعین کرے گی کہ کتنا ایندھن واقعی صارفین تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ذخائر سے تیل کی فراہمی سے سپلائی میں اضافہ ہوگا اور قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا، جس سے نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا جو تیل کی بلند قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ G7 رہنماؤں نے مارکیٹ کی صورتحال کی قریبی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر اقدامات میں تبدیلی کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
نتیجہ
G7 ممالک کا یہ اقدام عالمی توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام کی کوششیں نہ صرف معاشی طور پر بلکہ گھرانوں اور کاروبار کو قیمتوں کے جھٹکوں سے بچانے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ اقدامات کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور ان کے دیرپا اثرات کیا ہوتے ہیں۔























