دنیا کا سب سے بڑا موسمیاتی اجلاس اب صرف چند دن کی دوری پر ہے۔ 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کا ساحلی شہر انتالیا اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ31 کی میزبانی کرے گا، جہاں دنیا بھر کے ممالک یہ فیصلہ کریں گے کہ موسمیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں کیسے بدلا جائے۔ اس بار اجلاس کا نعرہ واضح ہے: بات چیت سے اتفاق تک، اور اتفاق سے عمل تک۔
اہم نکات
- کاپ31، 9 سے 20 نومبر 2026 تک انتالیا میں ہوگی، جس کی صدارت ترکیہ کے پاس ہے۔
- اجلاس کا مرکزی موضوع وعدوں کو عملی منصوبوں میں بدلنا ہے، نہ کہ صرف نئے وعدے کرنا۔
- سال 2035 تک بجلی کا حصہ 35 فیصد تک بڑھانا، عمارتوں کی توانائی کی شدت میں 25 فیصد کمی اور کچرے کی نمو آدھی کرنا اہم اہداف ہیں۔
- عالمی رہنماؤں کا اجلاس 11 اور 12 نومبر کو ہوگا، جبکہ سول سوسائٹی کا متبادل اجلاس 14 سے 18 نومبر تک جاری رہے گا۔
انتالیا کیوں خاص ہے
انتالیا بحیرہ روم کے کنارے واقع ایک خوبصورت ساحلی شہر ہے، جو اپنی تاریخ، قدرتی حسن اور سیاحت کے لیے مشہور ہے۔ اجلاس سابقہ عالمی نمائش کے میدان میں ہوگا، جسے اس مقصد کے لیے دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد بھی یہ جگہ استعمال میں رہے گی، تاکہ یہ صرف ایک عارضی میلہ نہ بنے بلکہ شہر کے لیے ایک مستقل اثاثہ بن جائے۔
اجلاس کی ایک خاص بات اس کی دوہری قیادت ہے۔ ترکیہ اجلاس کی صدارت کرے گا اور اس کا عملی ایجنڈا چلائے گا، جبکہ آسٹریلیا باضابطہ مذاکرات کی قیادت کرے گا۔ آسٹریلیا کے وزیر برائے موسمیات کرس بوون مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کریں گے، اور ترکیہ کے وزیر برائے ماحولیات مراد کورم اجلاس کے صدر ہوں گے۔

عملی ایجنڈے کے دس ترجیحی شعبے
اجلاس کے عملی ایجنڈے میں دس ترجیحی شعبے شامل ہیں، جن میں صاف توانائی کی منتقلی، صفر کچرا، موسمیاتی طور پر مضبوط شہر، سبز صنعت، خوراک کی حفاظت، پانی کا موثر استعمال، زراعت، صحت عامہ، توانائی کی حفاظت اور سمندری ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔ اس ایجنڈے کا ایک اہم حصہ موسمیاتی عمل درآمد پل ہے، جس کا مقصد ملکوں کے قومی موسمیاتی اہداف کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں میں بدلنا ہے، تاکہ وعدے کاغذ سے نکل کر زمین پر نظر آئیں۔
تین عددی اہداف اس ایجنڈے کی جان ہیں۔ پہلا، سال 2035 تک بجلی کا مجموعی توانائی کے استعمال میں حصہ 35 فیصد تک بڑھانا۔ دوسرا، عمارتوں کی توانائی کی شدت میں کم از کم 25 فیصد کمی۔ تیسرا، سال 2035 تک کچرے کی نمو کو آدھا کرنا۔ اس کے ساتھ بجلی کے استعمال کو بڑھانے کا عالمی عہد اور مصنوعی ذہانت کو صاف ٹیکنالوجی کے لیے ذمہ داری سے استعمال کرنے کا عہد بھی پیش کیا جائے گا۔
مالیات اور انصاف کا سوال
اجلاس میں سب سے مشکل مذاکرات موسمیاتی مالیات پر ہوں گے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کو سالانہ 300 ارب ڈالر کی موسمیاتی مالیات فراہم کرنے کا وعدہ، نقصان اور تباہی کے فنڈ کے انتظامات، اور ماضی کے اجلاسوں میں طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد، ان سب پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ کمزور ملکوں، خاص طور پر بحر الکاہل کے جزیرہ نما ملکوں نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ انہیں صرف وعدے نہیں بلکہ قابل رسائی مالیات اور ٹیکنالوجی چاہیے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ سیلسٹے ساؤلو نے قابل اعتماد موسمیاتی معلومات اور ابتدائی انتباہی نظاموں کی اہمیت پر زور دیا ہے، خاص طور پر افریقہ میں جہاں موسمی دباؤ زراعت، پانی، صحت اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔
دو زون، دو دنیائیں
اجلاس کا مقام دو حصوں میں تقسیم ہوگا۔ نیلا زون اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہوگا، جہاں سرکاری وفود، وزراء اور مذاکرات کار پالیسیاں طے کریں گے۔ سبز زون ایک عوامی جگہ ہوگی، جہاں کاروبار، جامعات، نوجوان اور سول سوسائٹی اپنی سبز ٹیکنالوجیاں اور حل پیش کریں گے۔ اجلاس میں ایک روزہ پروگرام کے تحت 12 نومبر کو مضبوط شہروں اور عمارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کی تنظیمیں 14 سے 18 نومبر تک انتالیا میں ایک متبادل اجلاس بھی منعقد کریں گی، جس کا عنوان موسمیاتی انصاف کے لیے عوامی اجلاس ہے۔ اس میں مزدوروں، بے زمین کسانوں، مہاجرین، خواتین اور نوجوانوں کی آوازیں شامل ہوں گی، جو موسمیاتی مہمات سے جڑے ہوئے ہیں۔
نتیجہ
کاپ31 کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کتنے نئے وعدے کیے گئے، بلکہ یہ ہوگا کہ پرانے وعدے کتنے عملی منصوبوں میں بدلے۔ انتالیا میں دنیا کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ موسمیاتی سیاست کو کاغذ سے نکال کر ان گھروں، شہروں اور کھیتوں تک پہنچائے، جہاں موسمیاتی تبدیلی کی قیمت روزانہ ادا کی جا رہی ہے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔






























