امریکہ کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (ای پی اے) نے خاموشی سے اپنا دیرینہ عوامی دعویٰ واپس لے لیا ہے کہ ‘ہمیشہ رہنے والے کیمیکلز’ یعنی پی ایف او اے اور پی ایف او ایس کی پیداوار امریکہ میں ختم کر دی گئی تھی، اور اپنی ویب سائٹ پر تسلیم کیا ہے کہ یہ مادے اب بھی کمپنیوں کے ذریعے تیار، درآمد اور استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
یہ تبدیلی 25 اکتوبر 2025 کو غیر منافع بخش تنظیم پبلک ایمپلائز فار انوائرمینٹل ریسپانسبلٹی (پی ای آر) کی جانب سے انفارمیشن کوالٹی ایکٹ کے تحت دائر کردہ شکایت کے بعد آئی، جس کے تحت وفاقی اداروں کی معلومات کا مکمل اور درست ہونا لازم ہے۔ ای پی اے کے کیمیائی حفاظت اور آلودگی کی روک تھام کے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر ڈگلس ایم ٹراؤٹمین نے 18 ستمبر 2026 کو جواب دے کر ویب سائٹ کی اپ ڈیٹس کی تصدیق کی — شکایت دائر ہونے کے تقریباً 11 ماہ بعد۔ پی ای آر کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت 90 دن کے اندر جواب دینا لازم ہے۔
اہم نکات
- ای پی اے نے اپنی ویب سائٹ سے وہ جملہ ہٹا دیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں پی ایف او اے کی تیاری اور درآمد ختم کر دی گئی ہے۔
- نئی عبارت میں کہا گیا ہے کہ پی ایف او اے کی مقداریں کمپنیوں کے ذریعے تیار، درآمد اور استعمال کی جا سکتی ہیں۔
- 2015 کا خاتمہ آٹھ پی ایف اے ایس تیار کنندگان کے ساتھ رضاکارانہ معاہدہ تھا — صنعت گیر قانونی پابندی کبھی نہیں لگی۔
- ہیوسٹن کی کمپنی انہانس سالانہ 20 کروڑ تک پلاسٹک ڈبے تیار کرتی ہے؛ ای پی اے کے مطابق ان ڈبوں سے پی ایف او اے ان میں رکھے گئے مواد میں سرایت کرتا ہے۔
- ای پی اے نے 2022 اور 2023 میں پی ایف او اے کے اخراج والے ڈبوں کی تیاری روکنے کے احکامات جاری کیے؛ وفاقی اپیل عدالت نے 2023 کے آخر کا حکم کالعدم قرار دے دیا، اور پی ای آر کا مقدمہ اسٹینڈنگ کی بنیاد پر خارج ہو گیا۔
- انہانس کا کہنا ہے کہ وہ 2015 کے معاہدے کے آٹھ شرکا میں شامل نہیں تھی، پی ایف او اے جان بوجھ کر شامل نہیں بلکہ غیر ارادی آلودگی ہے، اس نے آلودگی میں تقریباً 90 فیصد کمی کی، اور تیسرے فریق کے رسک جائزوں میں کوئی غیر معقول خطرہ نہیں پایا گیا۔
ای پی اے نے ویب سائٹ پر کیا تبدیل کیا
پی ای آر کے مطابق ایجنسی کی ویب سائٹ پر طویل عرصے سے یہ یقین دہانی درج تھی کہ امریکہ میں پی ایف او اے کی تیاری اور درآمد ختم کر دی گئی ہے۔ اب یہ عبارت ہٹا کر اس کی جگہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پی ایف او اے کی مقداریں کمپنیوں کے ذریعے تیار، درآمد اور استعمال کی جا سکتی ہیں۔ پی ای آر کا کہنا ہے کہ ای پی اے نے ٹراؤٹمین کے 18 ستمبر 2026 کے جواب میں ان اپ ڈیٹس کی تصدیق کی۔ گارڈین نے یہ خبر 18 اکتوبر 2026 کو سب سے پہلے دی، اور اسی دن نیفوگو کی رپورٹ بھی سامنے آئی۔
2015 کا خاتمہ رضاکارانہ تھا، پابندی نہیں
پی ای آر کے دستاویزی ریکارڈ کے مطابق اس کہانی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 2015 میں پی ایف او اے کا خاتمہ آٹھ پی ایف اے ایس تیار کنندگان کے ساتھ رضاکارانہ معاہدہ تھا — یہ صنعت گیر قانونی پابندی کبھی نہیں تھی۔ اسی فرق کی وجہ سے ویب سائٹ کا اصل دعویٰ پی ای آر کے خیال میں غلط تھا: اس معاہدے سے باہر پیداوار پر کبھی قانونی پابندی عائد نہیں ہوئی۔
پی ایف او اے کے اخراج والے پلاسٹک ڈبے
یہ شکایت فلورینیٹڈ پلاسٹک ڈبوں کے ایک الگ تنازع کے ساتھ سامنے آئی۔ ای پی اے کے مطابق انہانس کے تیار کردہ ڈبوں سے پی ایف او اے ان میں رکھی گئی مصنوعات میں سرایت کرتا ہے؛ انہانس ہیوسٹن کی کمپنی ہے جو سالانہ 20 کروڑ تک پلاسٹک ڈبے تیار کرتی ہے۔ ای پی اے نے 2022 اور پھر 2023 میں پی ایف او اے کے اخراج والے ڈبوں کی تیاری روکنے کے احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں وفاقی اپیل عدالت نے 2023 کے آخر کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا، اور پی ای آر کا اپنا مقدمہ اسٹینڈنگ کی بنیاد پر خارج ہو گیا۔

انہانس کا جواب
انہانس کا کہنا ہے کہ وہ 2015 کے رضاکارانہ معاہدے کے آٹھ شرکا میں شامل نہیں تھی، پی ایف او اے جان بوجھ کر شامل کردہ مادہ نہیں بلکہ غیر ارادی آلودگی ہے، اس نے آلودگی میں تقریباً 90 فیصد کمی کی ہے، اور تیسرے فریق کے رسک جائزوں میں کوئی غیر معقول خطرہ نہیں پایا گیا۔
“ہمیشہ رہنے والے کیمیکلز” کا خاتمہ اتنا مشکل کیوں ہے
پی ایف اے ایس — یعنی پر اور پولی فلورو الکائل مادے — کو ‘ہمیشہ رہنے والے کیمیکلز’ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماحول میں ختم نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ جانداروں میں جمع ہو سکتے ہیں۔ ای پی اے کا کہنا ہے کہ پینے کے پانی میں پی ایف او اے یا پی ایف او ایس کی کوئی محفوظ سطح عملاً موجود نہیں، اور کینسر پر تحقیق کی بین الاقوامی ایجنسی پی ایف او اے کو انسانوں کے لیے سرطان پیدا کرنے والا اور پی ایف او ایس کو ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والا قرار دیتی ہے۔
پی ای آر کی سائنس پالیسی ڈائریکٹر کائلا بینیٹ، جو ای پی اے کی سابق سائنس دان ہیں، نے ویب سائٹ کی اصلاح کو ای پی اے کی جانب سے ‘نایاب صاف گوئی’ قرار دیا، لیکن ان کے الفاظ میں یہ ‘ہمارے کھانے، پانی اور مٹی میں سرایت کرتے زہریلے پی ایف اے ایس کے آزادانہ بہاؤ کا ازالہ نہیں کرتی’۔ ان کا موقف ہے کہ ای پی اے کو ہزاروں پی ایف اے ایس کو ایک خاندان کے طور پر منظم کرنا چاہیے اور غیر ضروری استعمال پر پابندی لگانی چاہیے۔ پی ای آر کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ای پی اے نے پینے کے پانی میں پی ایف او اے اور پی ایف او ایس کی حدوں (ایم سی ایل) کے نفاذ کو 2031 تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔
صفر فضلہ سے تعلق
یہ کہانی صفر فضلہ کے دائرے میں پوری طرح آتی ہے: بڑی مقدار میں استعمال ہونے والے پلاسٹک ڈبے فضلہ کم کرنے کی کوششوں کا مرکزی ہدف ہیں، اور اخراج کے یہ نتائج پلاسٹک ڈبوں کے استعمال میں کمی کے حق میں کیمیائی حفاظت کا ایک نیا پہلو جوڑتے ہیں۔ یہ مسئلہ پلاسٹک آلودگی کم کرنے کی عالمی کوششوں سے بھی جڑا ہے — اس تناظر میں وطن نیوز کی یہ رپورٹ بھی دیکھیے۔
ذرائع
ذرائع: پی ای آر پریس ریلیز، 24 ستمبر 2026؛ گارڈین، 18 اکتوبر 2026؛ نیفوگو، 18 اکتوبر 2026۔
نتیجہ
ای پی اے کی خاموش ویب سائٹ اصلاح بنیادی تنازعات کو ختم نہیں کرتی — نہ ڈبوں سے اخراج کا مسئلہ، نہ پی ایف اے ایس کے ضابطے کا طریقہ، نہ پینے کے پانی کی حدوں کے نفاذ کی رفتار۔ لیکن اس نے ایک دیرینہ عوامی دعویٰ ضرور ہٹا دیا ہے جو پی ای آر کے مطابق کبھی درست نہیں تھا۔


























