وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش اسکول اسلام آباد کا افتتاح کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دانش اسکولز کے طلبا کی کامیابیاں انتہائی متاثر کن ہیں، اور پاکستانی نوجوانوں میں اپنی محنت اور صلاحیت سے اپنی زندگیاں اور ملک کی تقدیر سنوارنے کی بھرپور استعداد موجود ہے۔
اہم نکات
- وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش اسکول کا افتتاح کر دیا
- تیس ایکڑ رقبے پر قائم اسکول میں ششم، ہفتم اور ہشتم جماعتوں کی کلاسز کا آغاز؛ ہر کلاس میں 120 بچے
- 360 ہونہار بچے سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر داخل؛ اب تک 38 اساتذہ بھرتی، ضرورت کے مطابق عملے میں اضافہ ہوگا
- لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ اکیڈمک بلاکس؛ ہر بلاک میں 24 کلاس رومز، آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس لیبز، ای لائبریری اور آرٹ روم
- وزیراعظم کے مطابق دانش اسکولز کا دائرہ پنجاب سے نکل کر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیل چکا ہے
تقریب میں وزیراعظم کا خطاب
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان اپنی ذہانت، محنت اور انتھک کوششوں سے پاکستان کو دنیا کی اقوام میں نمایاں مقام دلا سکتے ہیں، اور مالی مشکلات کی وجہ سے کسی ذہین بچے کو معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق دانش اسکول کے قیام کا بنیادی مقصد بچوں کو یکساں معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا، تاکہ اشرافیہ کی طرح غریب خاندانوں کے بچوں کو بھی تعلیم کے برابر مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دانش اسکولز کو معروف اداروں سے بھی بہتر ثابت کرنا ان کا عزم ہے۔ اس موقع پر انہوں نے خیبرپختونخوا کی ایک بچی کا ذکر کیا، جسے وہ امید اور حوصلے کی روشن مثال قرار دیا؛ ان کے مطابق محنت کش والدین شدید گرمی اور سردی میں حلال روزی کماتے ہیں اور کسی بچے کو مالی مشکلات کی بنا پر معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
دانش اسکول اسلام آباد: میرٹ اور مساوی مواقع کی علامت
تقریب کے موقع پر وزیراعظم کو دانش اسکول اسلام آباد کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ اسکول تیس ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے، جہاں ابتدا میں ششم، ہفتم اور ہشتم جماعتوں کی کلاسز شروع کی گئی ہیں اور ہر کلاس میں 120 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق مختلف علاقوں کے 360 ہونہار بچوں کو سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا ہے، جبکہ اب تک 38 اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں اور ضرورت کے مطابق تدریسی عملے میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اکیڈمک بلاکس بنائے گئے ہیں؛ ہر بلاک میں 24 کلاس رومز کے ساتھ آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس لیبز قائم کی گئی ہیں، جبکہ ای لائبریری اور آرٹ روم کی سہولتیں بھی موجود ہیں۔
دانش اسکولز کا دائرہ: پنجاب سے پورے پاکستان تک
وزیراعظم نے کہا کہ ان اسکولز میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور دانش اسکولز کا منصوبہ پنجاب سے نکل کر اب پورے پاکستان میں پھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق انصاف، میرٹ اور مساوی مواقع کی فراہمی ہی اس نظام کی اصل بنیاد ہے۔
مبصرین کے مطابق دانش اسکولز کا نظام مستحق اور ہونہار بچوں کے لیے مفت معیاری تعلیم کی فراہمی کا ایک نمایاں ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔ مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔





























