بھارت کے شہر کولکتہ میں درگا پوجا کے ایک پنڈال کے باہر مچی کولکتہ درگا پوجا بھگدڑ میں کم از کم سترہ افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہو گئے؛ ہلاک ہونے والوں میں سات سال کی ایک بچی بھی شامل ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ المناک حادثہ گزشتہ شب وسطی کولکتہ کے ایک پنڈال کے خارجی دروازے پر اس وقت پیش آیا جب اچانک بارش شروع ہوئی اور پنڈال میں داخلے کے منتظر ہجوم نے یکدم آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق دھکا پیل کے دوران بعض افراد سڑک پر گر گئے جس کے بعد صورت حال بھگدڑ میں بدل گئی۔

اہم نکات
- وسطی کولکتہ کے درگا پوجا پنڈال کے خارجی دروازے پر شام تقریباً سات بج کر چالیس منٹ پر بھگدڑ مچی
- کم از کم سترہ افراد ہلاک (بعض ذرائع کے مطابق تعداد اٹھارہ)، پچیس سے زائد افراد زخمی
- ہلاک ہونے والوں میں سات سال کی ایک بچی بھی شامل؛ اب تک چھ لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے
- اچانک بارش کے بعد داخلے کے منتظر افراد یکدم آگے بڑھے؛ بعض افراد سڑک پر گر گئے جس سے افراتفری پھیل گئی
- زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا؛ پنڈال کو بند کر دیا گیا
- بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال کمبھ میلے کی بھگدڑ میں تیس افراد ہلاک ہوئے تھے
کولکتہ درگا پوجا بھگدڑ کیسے پیش آئی
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ وسطی کولکتہ میں درگا پوجا کے ایک مشہور پنڈال میں پیش آیا۔ شام کے وقت ہزاروں افراد پنڈال کے باہر جمع تھے اور داخلے کا انتظار کر رہے تھے۔ تقریباً سات بج کر چالیس منٹ پر اچانک بارش شروع ہو گئی تو بارش سے بچنے کے لیے ہجوم یکدم آگے کی طرف بڑھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خارجی دروازے کے قریب شدید دباؤ پڑا اور دھکا پیل کے دوران بعض افراد سڑک پر گر گئے، جس کے بعد صورت حال قابو سے باہر ہو گئی اور بھگدڑ مچ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک پل میں ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ کچلے جانے کے باعث متعدد افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں جن میں افراتفری کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
درگا پوجا مغربی بنگال کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے جس میں ہر سال لاکھوں افراد پنڈالوں کا رخ کرتے ہیں۔ وسطی کولکتہ کے یہ پنڈال تہوار کے دنوں میں شدید رش کا شکار رہتے ہیں اور انتظامیہ ہر سال خصوصی انتظامات کا دعویٰ کرتی ہے، مگر اس بار اچانک بارش نے صورت حال بدل کر رکھ دی۔
امدادی کارروائیاں اور حکام کا ردعمل
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے پنڈال کو فوری طور پر بند کر دیا اور علاقے میں اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ ان کے مطابق اب تک چھ لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ باقی کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہجوم کے انتظام میں کہاں کوتاہی ہوئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں مذہبی اجتماعات میں بھگدڑ کا پرانا مسئلہ
بھارت میں مذہبی اجتماعات اور عوامی تقریبات کے دوران بھگدڑ کے واقعات کوئی نئی بات نہیں اور ماضی میں ایسے حادثات قیمتی جانیں لے چکے ہیں۔ گزشتہ سال کمبھ میلے میں بھگدڑ سے تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل بنگلورو میں مقامی کرکٹ ٹیم کی انڈین پریمیئر لیگ میں پہلی کامیابی کے جشن کے دوران بھی ہجوم میں کچلے جانے سے گیارہ افراد جان سے گئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے مذہبی اجتماعات میں ہجوم کے مؤثر انتظام، نکاسی کے مناسب راستوں اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے منصوبوں کی کمی ایسے سانحات کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
وطن نیوز کی مزید بین الاقوامی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





























