وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ایمرجنسی پر مذاکرات کے حوالے سے حکومت کا دو ٹوک موقف سامنے رکھتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت غیر مشروط بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم ایمرجنسی کے خاتمے کو پیشگی شرط بنا کر بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کرے تو اس معاملے پر ضرور بات ہو سکتی ہے۔
اہم نکات
- وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا اعلان: ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوں گے
- وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی؛ کسی تیسرے مقام کی شرط مسترد
- چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لیے وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط لکھے؛ جواب کا انتظار
- پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرے تو بات چیت کی گنجائش موجود ہے
ایمرجنسی پر مذاکرات — حکومت کا دو ٹوک موقف
رانا ثناء اللہ کے مطابق ایمرجنسی کے تحت قائم انتظامی سیٹ اپ کو مناسب وقت دیا جائے گا اور حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ لڑتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے جڑے معاملات پر سیاست سے بالاتر ہو کر تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں مذاکرات کے مواقع کو مناسب اہمیت نہیں دی، جبکہ حکومت اب بھی غیر مشروط بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا چاہتی ہے۔ تاہم ایمرجنسی کی واپسی کو شرط بنا کر مذاکرات کی میز سجانا حکومت کے لیے قابل قبول نہیں۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہی ملاقات ہوگی
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے مقام پر بھی حکومت نے اپنا موقف دو ٹوک رکھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی اور کسی تیسرے مقام کے تعین کی شرط تسلیم نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت ہے، اس لیے ملاقات کے لیے کسی اور جگہ کا اصرار مناسب طریقہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی ضد پہلے بھی کی جاتی رہی ہے اور حکومت اسے قبول نہیں کرتی۔
رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن لیڈر سے کہا کہ وہ بتائیں کہ وزیراعظم سے ملنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کب تشریف لا رہے ہیں؛ حکومت ان کے استقبال کے لیے تیار ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے دو خطوط
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر بھی وزیراعظم کے مشیر نے اپوزیشن کی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط لکھے ہیں — پہلا خط وزیراعظم کی امریکا روانگی سے قبل اور دوسرا واپسی کے بعد بھیجا گیا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت اب ان خطوط کے جواب کی منتظر ہے اور اپوزیشن لیڈر کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ ملاقات کے لیے کب آ رہے ہیں۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے کی یہ نئی کڑی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔





























