بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی نئی تحقیقاتی رپورٹ نے پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے تشویشناک حقائق بے نقاب کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران تقریباً پندرہ لاکھ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پاکستانی بچے آن لائن جنسی ہراسانی یا استحصال کے کم از کم ایک واقعے کا شکار بنے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کا آن لائن تحفظ اب صرف خاندانوں کا نہیں بلکہ ریاست اور اداروں کا مشترکہ ذمہ داری بن چکا ہے۔
اہم نکات
- یونیسیف، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول کی مشترکہ تحقیق ’ڈس رپٹنگ ہارم ان پاکستان‘ ستمبر دو ہزار چھببیس میں شائع ہوئی
- ایک سال میں بارہ سے سترہ سال عمر کے تقریباً پندرہ لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے
- پچاسی فیصد رپورٹ شدہ واقعات میں مبینہ ملزم بچے کا جان پہچان والا شخص تھا
- چوالیس فیصد واقعات سوشل میڈیا کے ذریعے پیش آئے؛ واٹس ایپ اور سنیپ چیٹ نمایاں پلیٹ فارمز رہے
- ستاون فیصد متاثرہ بچوں نے شرم، خاندانی ردِعمل اور بدنامی کے ڈر سے کسی کو نہیں بتایا
- اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بچوں کے لیے ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا
رپورٹ کے اہم نتائج
تحقیق کے مطابق متاثرہ بچوں میں زیادہ تر بارہ سے سترہ برس کی عمر کے تھے۔ حیران کن طور پر پچاسی فیصد واقعات میں مبینہ ملزم کوئی اجنبی نہیں بلکہ بچے کا جانا پہچانا شخص تھا، جس نے اعتماد حاصل کر کے نازیبا گفتگو، نجی تصاویر کا مطالبہ یا تصاویر کی تشہیر کے ذریعے بلیک میلنگ کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہراسانی عموماً دوستانہ گفتگو، آن لائن کھیل یا تحفوں اور وعدوں کے بہانے شروع ہوتی ہے اور ملزم مہینوں تک اعتماد قائم رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چوالیس فیصد واقعات مکمل طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جن میں واٹس ایپ اور سنیپ چیٹ نمایاں رہے۔ ستاون فیصد بچوں نے شرم، خاندانی ناراضگی اور معاشرتی بدنامی کے خوف سے اپنی آپ بیتی کسی سے شیئر نہ کی، جبکہ سروے میں شامل کسی بھی بچے نے پولیس، ہیلپ لائن یا سوشل ورکر کے پاس باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ رپورٹ نے اس خاموشی کو نظام کی ناکامی قرار دیا ہے، بچوں کی نہیں۔
بچوں کا آن لائن تحفظ: ڈیپ فیک کا بڑھتا خطرہ
تحقیق میں مصنوعی ذہانت کو بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے نیا اور سنجیدہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کی عام تصاویر سے جعلی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز (ڈیپ فیک) بنا کر انہیں دھمکانے، شرمندہ کرنے یا قابو میں رکھنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے دباؤ مزید بڑھا رہا ہے اور روایتی آگاہی مہمات سے آگے بڑھ کر قانونی اور تکنیکی جواب کی ضرورت ہے۔

والدین اور اداروں کے لیے سفارشات
رپورٹ میں پاکستان کے قانونی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات بہتر بنانے، بچوں کے تحفظ کے نظام کو مؤثر کرنے اور شکایات کے محفوظ اور خفیہ ذرائع فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یونیسیف نے والدین کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک بچوں کی بلا روک ٹوک رسائی پر مؤثر نگرانی رکھیں اور بچوں سے کھلے اور اعتماد بھرے ماحول میں بات کریں تاکہ متاثرہ بچہ خاموشی کے بجائے مدد مانگ سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ تک بچوں کی بڑھتی رسائی کے ساتھ آن لائن تحفظ کی تعلیم، اسکولوں میں آگاہی پروگرام اور فوری شکایت کے آسان ذرائع ناگزیر ہو چکے ہیں۔ بچوں کے تحفظ سے متعلق مزید قومی خبریں اردو نیوز سیکشن میں پڑھی جا سکتی ہیں۔





























