اسپیس ایکس نے اکتوبر کا اختتام ایک تاریخی سنگ میل کے ساتھ کیا ہے۔ کمپنی کے فالکن 9 راکٹ نے اپنی سات سوویں پرواز مکمل کی، جب 30 اکتوبر کی رات کیلیفورنیا کے وینڈن برگ خلائی اڈے سے 27 سٹارلنک سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ پرواز نہ صرف ایک عددی سنگ میل تھی بلکہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ اب معمول بن چکے ہیں۔
اہم نکات
- فالکن 9 کی سات سوویں پرواز 30 اکتوبر کی رات وینڈن برگ سے ہوئی۔
- راکٹ نے 27 سٹارلنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچایا۔
- پہلا مرحلہ تقریباً ساڑھے آٹھ منٹ بعد بحر الکاہل میں ڈرون جہاز پر اترا، جو اس بوسٹر کی 18 ویں پرواز تھی۔
- سیٹلائٹس تقریباً 62 منٹ بعد مدار میں چھوڑے گئے، اور یہ 2026 میں فالکن 9 کی 118 ویں پرواز تھی۔
پرواز کی تفصیلات
راکٹ نے مقامی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 4 منٹ پر وینڈن برگ کے لانچ کمپلیکس 4 ایسٹ سے اڑان بھری، جو عالمی وقت کے مطابق 31 اکتوبر کی صبح 4 بج کر 4 منٹ بنتا ہے۔ راکٹ جنوب مشرقی راستے پر روانہ ہوا اور تقریباً ساڑھے آٹھ منٹ بعد اس کا پہلا مرحلہ بحر الکاہل میں موجود ڈرون جہاز پر کامیابی سے اتر گیا۔ یہ اس ڈرون جہاز پر 231 ویں لینڈنگ تھی، اور مجموعی طور پر فالکن بوسٹر کی 675 ویں لینڈنگ کے قریب تھی۔
راکٹ کا بالائی مرحلہ اپنا کام جاری رکھتے ہوئے تقریباً 62 منٹ بعد 27 سیٹلائٹس کو مدار میں چھوڑنے میں کامیاب ہوا۔ یہ سیٹلائٹس سٹارلنک کے اس جال میں شامل ہو گئے ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا سیٹلائٹ نیٹ ورک ہے اور جس میں 11 ہزار سے زیادہ سیارچے شامل ہو چکے ہیں۔

ایک معمول بنتا ہوا معجزہ
اس پرواز کی سب سے دلچسپ بات اس کی معمول کی نوعیت ہے۔ ایک بوسٹر کی 18 ویں پرواز، ڈرون جہاز پر لینڈنگ اور 27 سیٹلائٹس کی ترسیل اب ایک معمول کی شام کی خبر بن گئی ہے، جبکہ چند سال پہلے یہ سب ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ 2026 میں فالکن 9 کی یہ 118 ویں پرواز تھی، جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ سٹارلنک نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے وقف تھیں۔
وینڈن برگ اڈے کے لیے بھی یہ سال ریکارڈ ساز رہا ہے۔ اکتوبر کے شروع میں ہی اس اڈے سے 2026 کی 72 ویں پرواز نے گزشتہ سال کا ریکارڈ توڑ دیا تھا، اور یہ پرواز اس سلسلے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
فالکن سے سٹار شپ تک
اسپیس ایکس اب آہستہ آہستہ فالکن 9 کے دور سے آگے بڑھنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چند برسوں میں فالکن 9 کو تجارتی اور سرکاری مشنوں کے لیے پیش کرنا بند کر دے گی، اور اس کی جگہ سٹار شپ لے گا۔ سٹار شپ کی اگلی آزمائشی پرواز نومبر کے وسط میں ٹیکساس کے سٹار بیس سے متوقع ہے، اور 2027 سے اس کی باقاعدہ مداری پروازیں شروع ہونے کی توقع ہے۔
نتیجہ
سات سو پروازوں کا سنگ میل اس بات کا ثبوت ہے کہ خلائی سفر اب تجربے سے نکل کر ایک قابل اعتماد صنعت بن چکا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اس رفتار سے بننے والے سیٹلائٹ نیٹ ورک سے دنیا کے دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ کی سہولت کتنی جلد اور کتنی سستی پہنچ سکے گی۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔






























